بحری حج سروس کے خاتمہ کو تیس برس، ممبئی کی بندرگاہیں آج بھی خاموش ہیں
'لبیک اللہم لبیک کی صدائیں سمندر میں گم ہوگئیں، غریب عازمین کا کم خرچ راستہ بند
ممبئی، 20 مئی (جاوید جمال الدین)
ممبئی سے حج کیلئے بحری سفر کے خاتمہ اور مکمل فضائی حج نظام کے نفاذ کو آج تیس برس مکمل ہوگئے، مگر 1995 میں بند کی گئی بحری حج سروس کی یادیں آج بھی لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کے اجتماعی حافظے میں زندہ ہیں۔ یہ صرف ایک سفری تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی تاریخی، روحانی اور تہذیبی روایت کا اختتام تھا، جس نے تقریباً دو صدیوں تک برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی زندگی، جذبات اور سماجی تہذیب پر گہرا اثر چھوڑا۔1995 میں ممبئی سے جدہ تک جاری تاریخی بحری حج سروس کو باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا اور 1996 سے مکمل فضائی حج نظام نافذ ہوگیا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ممبئی کی بندرگاہوں، حاجی مسافر خانوں، حج قافلوں اور سمندری سفر سے وابستہ وہ تمام روحانی و ثقافتی روایات بھی ماضی کا حصہ بن گئیں، جو کبھی ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی شناخت کا اہم جزو سمجھی جاتی تھیں۔
ایک وقت تھا جب ممبئی صرف تجارت اور صنعت کا مرکز نہیں بلکہ ’’بابُ الحجاج‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اترپردیش، بہار، کشمیر، بنگال، کیرالا، گجرات اور دکن سمیت ملک کے مختلف حصوں سے عازمینِ حج ممبئی پہنچتے، جہاں حاجی مسافر خانہ اور بندرگاہی علاقوں میں کئی کئی دن قیام کرتے تھے۔ حج سیزن میں پورا شہر ایک روحانی منظر پیش کرتا تھا۔ بالارڈ پیئر، اندرا ڈاک اور یلو گیٹ کے اطراف ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کی صدائیں گونجتی تھیں اور رخصتی کے وقت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملتے تھے۔
بحری سفر صرف مکہ مکرمہ پہنچنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک روحانی تربیت تصور کیا جاتا تھا۔ کئی دنوں پر مشتمل اس سفر میں نماز باجماعت، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور اجتماعی دعاؤں کا ماحول قائم رہتا تھا۔ بزرگ عازمین کے مطابق سمندر کا یہ سفر انسان کو دنیاوی مصروفیات سے دور کرکے صبر، عبادت اور روحانی یکسوئی کی کیفیت عطا کرتا تھا۔جہازوں میں مختلف زبانوں، علاقوں اور مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک ہی عرشے پر جمع ہوکر اسلامی اخوت کا عملی نمونہ پیش کرتے تھے۔ عازمین اپنے ساتھ گھریلو کھانے، دوائیں، جائے نمازیں اور مذہبی کتابیں لے کر سفر کرتے، جس سے جہاز ایک چلتی پھرتی روحانی بستی کا منظر پیش کرتا تھا۔
اس تاریخی سفر کی سب سے بڑی علامت مشہور مسافر بردار جہاز ایم وی اکبری تھا، جس نے کئی دہائیوں تک لاکھوں ہندوستانی عازمینِ حج کو ممبئی سے جدہ پہنچایا۔ اس جہاز کی روانگی کے وقت بندرگاہوں پر ہزاروں افراد جمع ہوتے، دعاؤں اور آنسوؤں کے درمیان اپنے عزیزوں کو رخصت کرتے تھے۔ تاہم 1995 میں فرسودگی، تکنیکی مسائل، بڑھتے اخراجات اور حکومتی پالیسی میں تبدیلی کے باعث اس جہاز کو مستقل طور پر بند کردیا گیا، اور اسی کے ساتھ ہندوستان کی بحری حج روایت بھی ختم ہوگئی۔اس وقت حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ فضائی سفر زیادہ تیز، جدید اور محفوظ ہے، مگر عوامی حلقوں کا ماننا تھا کہ اس فیصلے نے غریب اور متوسط طبقے کیلئے حج کو غیرمعمولی حد تک مہنگا بنادیا۔ بحری سفر نسبتاً کم خرچ تھا اور محدود وسائل رکھنے والے افراد بھی برسوں کی بچت سے حج کی سعادت حاصل کرلیتے تھے، لیکن فضائی نظام نافذ ہونے کے بعد حج اخراجات کئی گنا بڑھ گئے۔
بحری حج سروس کی بندش کے خلاف اُس وقت ممبئی کے بندرگاہی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے، دھرنے اور عوامی اجتماعات بھی منعقد ہوئے۔ سماجی کارکنوں، مذہبی رہنماؤں اور مختلف تنظیموں نے اس فیصلے کو غریب مسلمانوں کیلئے ایک بڑا دھچکہ قرار دیا تھا۔اس دور میں نہ آن لائن رجسٹریشن تھی اور نہ ہی کمپیوٹرائزڈ نظام۔ ویٹنگ لسٹ میں شامل کئی افراد آخری لمحہ تک بندرگاہوں کے باہر امید لگائے بیٹھے رہتے تھے کہ شاید جہاز میں جگہ مل جائے۔ حج سیزن کے دوران حاجی مسافر خانہ اور اطراف کے علاقے انسانی ہجوم کا منظر پیش کرتے تھے۔تاریخی اعتبار سے بھی برصغیر کے مسلمانوں کیلئے بحری حج سفر ایک عظیم روایت تھا۔ ابتدا میں مسلمان بادبانی کشتیوں اور زمینی قافلوں کے ذریعے حج پر جاتے تھے، بعد ازاں برطانوی دور میں باقاعدہ اسٹیمر سروس شروع ہوئی، جس نے ممبئی کو ہندوستانی عازمینِ حج کا سب سے بڑا مرکز بنادیا۔آج، تین دہائیاں گزرنے کے باوجود ممبئی کی خاموش بندرگاہیں، سنسان بالارڈ پیئر اور ویران یلو گیٹ اُس دور کی یاد دلاتے ہیں، جب ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کی صدائیں سمندر کی لہروں سے ٹکرا کر پورے شہر میں گونجا کرتی تھیں۔اگرچہ فضائی سفر نے وقت کی بچت اور جدید سہولتیں فراہم کیں، لیکن بہت سے بزرگ عازمین کے مطابق بحری سفر کی روحانیت، اجتماعیت اور تہذیبی رنگ آج بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایک بڑا طبقہ کم خرچ بحری حج سروس کی بحالی کا مطالبہ کررہا ہے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے مسلمان بھی نسبتاً کم خرچ میں بیت اللہ کی حاضری کی سعادت حاصل کرسکیں۔
Post a Comment