MP High Court Dismisses FIR Against Teacher, Rules Sharing Urdu Poem Not Communal Incitement اُردو نظم پر مقدمہ: ہائی کورٹ کا فیصلہ — اظہارِ رائے کو جرم نہیں بنایا جا سکتا

واٹس ایپ پر اُردو نظم شیئر کرنا فرقہ وارانہ اشتعال نہیں

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا فیضان انصاری کے خلاف ایف آئی آر منسوخ کرنے کا فیصلہ

بھوپال، 10 مئی (حقیقت ٹائمز) 

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ضلع بیتول کے ایک سرکاری اسکول ٹیچر کے خلاف واٹس ایپ اسٹیٹس پر اُردو نظم شیئر کرنے کے معاملہ میں درج ایف آئی آر کو منسوخ کرتے ہوئے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ مذکورہ نظم خواتین کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی پر مبنی ایک طنزیہ اور فکر انگیز ادبی اظہار ہے، اسے نفرت پھیلانے یا فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش قرار نہیں دیا جا سکتا۔عدالتِ عالیہ کے جسٹس بی بی شرما نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اظہارِ رائے سے متعلق معاملات میں صرف قیاس آرائی یا ذاتی تاثر کی بنیاد پر فوجداری کارروائی نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کیلئے عوامی امن خراب کرنے کے واضح شواہد ضروری ہوتے ہیں۔یہ معاملہ ضلع بیتول کے چچولی پولیس اسٹیشن میں درج ایک ایف آئی آر سے متعلق ہے، جس میں سرکاری استاد فیضان انصاری کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 353(2) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ انہوں نے شاعر شعیب کیانی کی اُردو نظم “بے حیا” کی ویڈیو اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر شیئر کی تھی۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار نے نظم کے ساتھ کوئی اشتعال انگیز تبصرہ یا نفرت آمیز پیغام شامل نہیں کیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف ایک ادبی نظم کو شیئر کرنا فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ مذکورہ نظم کو سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے شیئر کیا تھا اور کئی قومی و بین الاقوامی ادبی حلقوں میں اسے سراہا گیا تھا۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ ایف آئی آر میں ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ درخواست گزار کا مقصد نفرت پھیلانا، تشدد بھڑکانا یا کسی مخصوص طبقے کے خلاف اشتعال انگیزی کرنا تھا۔اس لیے ان کے خلاف درج مقدمہ برقرار رکھنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔واضح رہے کہ فیضان انصاری نے جولائی 2025 میں یہ ویڈیو اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر شیئر کی تھی، جس کے بعد بعض شکایات کی بنیاد پر پولیس نے ان کا موبائل فون ضبط کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا تھا۔ تاہم اب مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو راحت فراہم کی ہے۔

0/Post a Comment/Comments