Haj Pilgrims' Smart Watches Spark Privacy Storm: Who Is Listening and Why? عازمین کی گھڑی میں جاسوسی ایپ — حکومت خاموش

روحانی سفر یا ڈیجیٹل نگرانی؟ حج اسمارٹ واچز پر تشویش

ڈیٹا سکیورٹی، نجی معلومات اور رضامندی سے متعلق سوالات شدت اختیار کرگئے

نئی دہلی، 20 مئی (حقیقت ٹائمز)

حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے عازمینِ حج میں تقسیم کی گئی اسمارٹ واچز کو لے کر پرائیویسی اور ڈیٹا سکیورٹی سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔سوشل میڈیا اور مختلف عوامی حلقوں میں یہ تشویش ظاہر کی جارہی ہے کہ مذکورہ اسمارٹ واچز صرف نقل و حرکت یا سامان کی نگرانی تک محدود نہیں بلکہ ان میں نصب ایک نجی کمپنی کی ایپلی کیشن کیمرہ اور مائیکروفون تک رسائی بھی رکھتی ہے، جس سے عازمین کی نجی معلومات کے تحفظ پر خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔اس معاملہ پر مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو، وزارتِ اقلیتی امور وزارتِ اقلیتی امور ہند اور حج کمیٹی آف انڈیا سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ آخر کس بنیاد پر ایک نجی کمپنی کی ایسی ایپلی کیشن کو عازمین میں تقسیم کی جانے والی ڈیوائسز میں شامل کیا گیا،جسے کیمرہ اور مائیکروفون تک رسائی حاصل ہے۔

تشویش ظاہر کرنے والوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا عازمینِ حج کو ان اجازتوں کے بارے میں واضح طور پر آگاہ کیا گیا تھا؟ کیا اسمارٹ واچ تقسیم کرنے سے قبل ان کی رضامندی حاصل کی گئی تھی؟ اور اگر مقصد صرف جی پی ایس ٹریکنگ اور عازمین کی حفاظت تھا تو یہ سہولت عام اسمارٹ فونز کے ذریعے بھی ممکن تھی، کیونکہ تقریباً ہر عازم اپنے ساتھ موبائل فون رکھتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حج ایک مقدس روحانی سفر ہے اور عازمین کو کسی ممکنہ نگرانی یا غیر ضروری ڈیٹا جمع کرنے کے عمل کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اس معاملہ میں مکمل شفافیت ضروری ہے تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی دور ہوسکے۔حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عوام کے سامنے یہ وضاحت کرے کہ متعلقہ ایپلی کیشن کس نجی کمپنی نے تیار کی؟ ،عازمین سے کس نوعیت کا ڈیٹا جمع کیا جارہا ہے؟ ،یہ معلومات کہاں محفوظ کی جارہی ہیں؟ ،ان معلومات تک کن افراد یا اداروں کو رسائی حاصل ہے؟ ،آیا آڈیو، تصاویر یا دیگر ذاتی معلومات محفوظ یا منتقل کی جارہی ہیں یا نہیں؟ ۔بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سہولت اور انتظامی امور کے نام پر شہریوں کی نجی زندگی اور پرائیویسی کو متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔اس معاملہ پر مختلف اپوزیشن قائدین بشمول راہل گاندھی، اسد الدین اویسی، اکھیلیش یادو، مہوا موئترا اور دیگر عوامی نمائندوں سے بھی آواز اٹھانے کی اپیل کی گئی ہے۔مختلف سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ معاملہ صرف پرائیویسی کی خلاف ورزی تک محدود نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکنہ نگرانی اور شہری آزادیوں سے بھی جڑا ہوا ہے، اس لیے حکومت کو فوری طور پر وضاحت پیش کرنی چاہیے۔

0/Post a Comment/Comments