حج اخراجات میں اضافے پر سوالات، عازمین پر مزید بوجھ ڈالنے پر تشویش
بڑھتے اخراجات سے حج عام مسلمانوں کی پہنچ سے دور، بحری حج سروس بحال کرنے سابق ایگزیکٹو آفیسر شبیہ احمد کا مطالبہ
ممبئی، 19 مئی (خصوصی رپورٹ:جاوید جمال الدین)
حج 2026 کے اخراجات میں اچانک اضافہ اور عازمینِ حج سے مزید دس ہزار روپے طلب کیے جانے کے فیصلے نے ملک بھر کے عازمین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی، فضائی راستوں میں تبدیلی اور بڑھتے آپریشنل اخراجات کو اس اضافی بوجھ کی وجہ قرار دیا جارہا ہے، تاہم حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ایکزیکٹیو افسر شبیہ احمد نے اس صورتحال پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حج جیسے مقدس فریضہ کو مسلسل مہنگا بنایا جانا عام مسلمانوں کیلئے شدید پریشانی کا باعث بنتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب حکومتِ ہند، سعودی حکام اور فضائی کمپنیوں کے درمیان حج پروازوں سے متعلق معاہدہ مکمل طور پر طے پاچکا ہو اور عازمین سے مکمل رقم بھی وصول کرلی گئی ہو، تو اس کے بعد مزید رقم طلب کرنا کئی قانونی، انتظامی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
شبیہ احمد نے کہا کہ “اگر ایک مرتبہ معاہدہ طے ہوگیا، کرایہ مقرر ہوگیا اور حاجیوں نے مکمل رقم ادا کردی تو بعد میں اضافی بوجھ ڈالنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ میری معلومات کے مطابق ایسے معاہدوں میں بعد ازاں اضافہ کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔”انہوں نے بتایا کہ اس اضافے کے آثار دو ماہ قبل ہی سامنے آنے لگے تھے، جب خلیجی ممالک کی صورتحال کے باعث فضائی راستوں اور ایندھن کے اخراجات میں ممکنہ اضافے پر گفتگو شروع ہوئی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انتظامی کمزوریوں یا بین الاقوامی حالات کا پورا بوجھ براہِ راست عازمینِ حج پر ڈال دینا مناسب نہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آج فضائی اخراجات کے نام پر اضافی رقم وصول کی جارہی ہے تو مستقبل میں رہائش، معلمین، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولتوں کے نام پر بھی نئے مطالبات سامنے آسکتے ہیں، جس سے حج انتظامات پر عوامی اعتماد متاثر ہوگا۔شبیہ احمد نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں حج کے اخراجات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ متوسط اور غریب طبقہ کیلئے یہ مقدس سفر دشوار ہوتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا مزید کہ “حج ایک عبادت ہے، مگر رفتہ رفتہ اسے ایک مہنگے سفری پیکیج کی شکل دے دی گئی ہے۔ عام مسلمان برسوں تک پیسہ جمع کرتا ہے، زیورات فروخت کرتا ہے، قرض لیتا ہے، تب کہیں جاکر حج کی سعادت حاصل کرتا ہے۔ ایسے میں اچانک اضافی رقم طلب کرنا ان کی پریشانیوں میں اضافہ کرتا ہے۔”انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حج کو سہل، کم خرچ اور عام مسلمانوں کی استطاعت کے مطابق بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں، نہ کہ ہر سال بڑھتے اخراجات کا بوجھ عازمین پر منتقل کردیا جائے۔
گفتگو کے دوران شبیہ احمد نے ممبئی سے بحری جہاز کے ذریعے حج سفر کی بندش کو ایک بڑی تاریخی، تہذیبی اور روحانی محرومی قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ 1994-95 تک ہندوستانی عازمین بحری جہازوں کے ذریعے بھی حج پر جایا کرتے تھے، لیکن بعد میں مکمل طور پر فضائی سفر نافذ کردیا گیا۔انہوں نے پرانے حج سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ “میرا پہلا حج آپریشن مکمل طور پر فضائی سفر پر مبنی تھا، مگر اس سے پہلے بحری جہاز بھی جاتے تھے۔ بحری حج صرف ایک سفر نہیں بلکہ روحانی اور تہذیبی تجربہ ہوا کرتا تھا۔”انہوں نے کہا کہ ممبئی کی بندرگاہ، اندرا ڈاک، حاجی مسافر خانہ، رخصتی کی دعائیں، ہار پھول اور “لبیک اللہم لبیک” کی صدائیں ایک پورے عہد کی علامت تھیں۔ ان کے مطابق بحری سفر نسبتاً کم خرچ تھا، جس کے باعث کم آمدنی والے ہزاروں مسلمان بھی حج کی سعادت حاصل کرسکتے تھے، لیکن بحری سروس بند ہونے کے بعد فضائی سفر ہی واحد ذریعہ رہ گیا، جس نے حج کو مسلسل مہنگا بنادیا۔شبیہ احمد نے بتایا کہ 1990 کی دہائی میں ہندوستان سے حج پر جانے والے عازمین کی تعداد آج کے مقابلہ میں کافی کم تھی۔ ان کے مطابق 1995 میں تقریباً بائیس ہزار پانچ سو درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جبکہ پچیس ہزار افراد انتظار کی فہرست میں شامل تھے۔ اس وقت بحری جہاز کے ذریعے تقریباً چودہ سے پندرہ ہزار اور فضائی سفر کے ذریعے تقریباً بائیس ہزار عازمین حج پر جاتے تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 1995 میں عازمین کی تعداد تقریباً پچیس ہزار تھی، جو 1996 میں بڑھ کر پچاس ہزار، 1997 میں ساٹھ ہزار، 1998 میں سڑسٹھ ہزار اور 1999 تک تقریباً ستر ہزار ہوگئی۔ ان کے مطابق آج یہ تعداد بڑھتے بڑھتے تقریباً پونے دو لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث رہائش، ٹرانسپورٹ اور فضائی انتظامات کے اخراجات میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے ماضی کے حج اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1990 کی دہائی میں حج نسبتاً کم خرچ عبادت تصور کیا جاتا تھا۔ اُس وقت معلمین اور بنیادی خدمات کیلئے تقریباً آٹھ ہزار پانچ سو روپے، رہائش کیلئے تقریباً آٹھ ہزار ایک سو ستر روپے اور فضائی سفر کیلئے تقریباً بارہ ہزار روپے خرچ ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ زرِ امانت یا حفاظتی رقم بھی لی جاتی تھی، جو واپسی پر عازمین کو واپس کردی جاتی تھی۔

شبیہ احمد نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج حج اخراجات لاکھوں روپے تک پہنچ چکے ہیں اور ہر سال نئے ٹیکس، کرایوں اور اضافی وصولیوں کے باعث عام مسلمان کیلئے حج مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا:“حج صرف ایک بین الاقوامی سفری انتظام نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے جذبات، عقیدت اور روحانی وابستگی کا معاملہ ہے۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ حاجیوں پر مالی بوجھ بڑھانے کے بجائے اس مقدس سفر کو آسان، باوقار اور عام آدمی کی پہنچ میں رکھنے کی کوشش کریں۔”واضح رہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ جدید مسافر بردار بحری جہازوں کے ذریعے حج سروس دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔ چند برس قبل سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کی جانب سے بھی اس سلسلہ میں کوشش کی گئی تھی، تاہم اس پر سنجیدگی سے عمل نہ ہوسکا کیونکہ بحری سفر کے اخراجات زیادہ بتائے گئے تھے۔شبیہ احمد کے مطابق اگر بحری حج سروس دوبارہ بحال کی جاتی ہے تو ہزاروں غریب اور متوسط طبقہ کے مسلمان کم خرچ میں حج ادا کرسکیں گے اور ایک تاریخی و روحانی روایت بھی دوبارہ زندہ ہوسکے گی۔
Post a Comment