FLASH: Supreme Court Stays HC Order in Shringeri Seat Row, Restores Rajegowda as MLA راجے گوڑا بدستور رکنِ اسمبلی برقرار

سپریم کورٹ کا شِرنگیری معاملے میں بڑا فیصلہ، ہائی کورٹ حکم پر عبوری روک

ٹی ڈی راجے گوڑا رکنِ اسمبلی کے عہدے پر بحال، ڈی این جیوراج کو دھکا

نئی دہلی / بنگلورو 11 مئی (حقیقت ٹائمز) 

شِرنگیری اسمبلی حلقہ کے پوسٹل بیلٹ ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے والے سابق رکنِ اسمبلی ٹی ڈی راجے گوڑا کو بڑی عبوری راحت حاصل ہوئی ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے۔ ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے اپیل کی سماعت کرتے ہوئے 6 اپریل کو کرناٹک ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم کے تحت کی گئی تمام کارروائیوں پر عبوری روک لگا دی ہے۔ عدالت نے عبوری حکم کے طور پر ٹی ڈی راجے گوڑا کو رکنِ اسمبلی کے عہدے پر برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے بی جے پی لیڈر ڈی این جیوراج کو بڑا دھکا پہنچا ہے۔ٹی ڈی راجے گوڑا کی جانب سے سینئر وکلاء کپل سبل، مکل روہتگی اور دیودت کامت نے عدالت میں مؤقف اختیار کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے۔ دوسری جانب ڈی این جیوراج کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل وی گیری نے دلیل دی کہ جیوراج پہلے ہی اسپیکر کے سامنے رکنِ اسمبلی کی حیثیت سے حلف لے چکے ہیں۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ “جمہوریت کو اس طرح ہائی جیک نہیں کیا جا سکتا۔” عدالت نے کرناٹک حکومت، الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے میں موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2023 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں ٹی ڈی راجے گوڑا نے اپنے قریبی حریف ڈی این جیوراج کو 201 ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔ اس انتخاب میں 1811 پوسٹل بیلٹ ووٹ ڈالے گئے تھے۔بعد ازاں ڈی این جیوراج نے ہائی کورٹ میں انتخابی عرضی داخل کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں، غیر قانونی اقدامات اور خامیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ عوامی نمائندگی قانون 1951 اور الیکشن کمیشن کے ضابطوں کے مطابق ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروا کر نتائج نئے سرے سے جاری کیے جائیں۔ہائی کورٹ کے حکم کے بعد حال ہی میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی گئی تھی، جس میں 2023 میں درست قرار دیے گئے 1540 ووٹوں میں سے 255 ووٹ دوبارہ گنتی کے دوران مسترد قرار پائے۔ اس کے نتیجے میں ڈی این جیوراج کو 52 ووٹوں کی سبقت حاصل ہوئی تھی اور انہیں کامیاب امیدوار قرار دیا گیا تھا۔تاہم اب سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد اس پورے معاملے پر عبوری طور پر روک لگ گئی ہے اور ٹی ڈی راجے گوڑا بدستور رکنِ اسمبلی برقرار رہیں گے۔

0/Post a Comment/Comments