دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے— بشیر بدر کا شعر آج بھی زندہ ہے
اردو غزل کو عوامی زبان دینے والے شاعر کی یادیں دلوں میں محفوظ رہیں گی
ممبئی/بھوپال 29 مئی (جاوید جمال الدین)
اردو زبان و ادب کی دنیا آج اُس وقت سوگ میں ڈوب گئی جب جدید اردو غزل کے سب سے مقبول، معتبر اور عوامی شاعر ڈاکٹر بشیر بدر طویل علالت کے بعد مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں انتقال کر گئے۔ وہ 91 برس کے تھے۔ اہلِ خانہ کی جانب سے ان کی وفات کی تصدیق کے بعد ہندوستان سمیت دنیا بھر کے ادبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا پر ان کے مداح، ادیب، شاعر، فنکار اور دانشور ان کے لازوال اشعار شیئر کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ڈاکٹر بشیر بدر نہ صرف جدید اردو غزل کا ایک روشن استعارہ تھے بلکہ وہ ایک ایسا عہد تھے جس نے اردو شاعری کو نئی نسل کے دلوں تک پہنچایا۔ ان کے انتقال کو اردو غزل کے ایک سنہری باب کا اختتام قرار دیا جا رہا ہے۔
معروف شاعر، صحافی اور دانشور ندیم صدیقی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ جب ان کی نسل شعرو ادب کی دنیا میں داخل ہو رہی تھی، اُس وقت بشیر بدر ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح سامنے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ اُس دور کے بزرگ شعرا بھی بشیر بدر کی شاعری کو حیرت اور تحسین کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ندیم صدیقی کے مطابق،“دیکھتے ہی دیکھتے بشیر بدر اُس زمانے کے شعری اُفق پر بدرِ کامل بن گئے۔ علی گڑھ کی تہذیبی روایت، زندگی کے گہرے مشاہدے اور انسان دوستی نے ان کے لہجے کو ایک منفرد شناخت عطا کی۔ وقت نے بھی انہیں غیر معمولی عزت و شہرت بخشی اور وہ خود اپنی روشنی کا ایک منبع بن گئے۔”انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ بشیر بدر گزشتہ کئی برسوں سے صاحبِ فراش تھے، لیکن ان کی شاعری آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنی رہے گی۔ندیم صدیقی نے ان کے مشہور شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
میرے بستر پہ سو رہا ہے کوئی
میری آنکھوں میں جاگتا ہے کوئی
اور پھر جذباتی انداز میں کہا کہ “یہ ‘کوئی’ اور نہیں، بشیر بدر ہیں، اور یہ آنکھیں اُن کا فن اور اُن کا زمانہ ہے۔”ماہرِ عروض اور شاعر عبید اعظم اعظمی نے ڈاکٹر بشیر بدر کے انتقال کو اردو زبان و ادب کا ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جدید اردو غزل کی ایک ایسی آواز تھے جنہیں ان کے نرم، شائستہ اور دل نشیں لہجے کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ڈاکٹر بشیر بدر ڈیمنشیا جیسے عارضے میں مبتلا تھے، جس کے باعث ان کی یادداشت کمزور ہوگئی تھی، مگر ان کی شاعری کی مقبولیت میں کبھی کمی نہیں آئی۔ خواص و عوام دونوں طبقوں میں ان کے اشعار غیر معمولی طور پر پسند کیے جاتے تھے۔عبید اعظم اعظمی نے یاد کیا کہ انہوں نے پہلی مرتبہ غالباً 1982-83 میں ممبئی کے صابو صدیق کالج کے ایک مشاعرے میں بشیر بدر کو سنا تھا۔“وہ تحت میں بھی شعر سناتے تھے اور ترنم میں بھی۔ بعد کے برسوں میں مجھے ان کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔”
انہوں نے بشیر بدر کے مقبول اشعار پڑھتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا:
جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے
آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا
اور
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
عبید اعظم اعظمی نے کہا کہ آج بشیر بدر بے شمار یادوں اور لازوال شعروں کے ساتھ اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے ہیں۔ممبئی یونیورسٹی شعبۂ اردو کے اسسٹنٹ لیکچرر اور شاعر قمر صدیقی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ بشیر بدر جدید اردو شاعری کا ایک ایسا معتبر اور مقبول نام تھے جنہوں نے نہ صرف اپنی شاعری بلکہ مشاعروں کے وسیلے سے بھی جدید حسیت، نئے رویّوں اور بدلتے ہوئے شعری رجحانات کو عوام تک پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ “ترقی پسند شعرا کے بعد شاید ہی کسی جدید شاعر کو ایسی ہمہ گیر مقبولیت نصیب ہوئی ہو۔ ان کے اشعار خواص کے ادبی حلقوں سے نکل کر عام لوگوں کی زبان تک پہنچے۔ نئی نسل کو اردو شاعری سے جوڑنے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔”
قمر صدیقی کے مطابق بشیر بدر کی شاعری میں محبت، تنہائی، ہجرت، انسانی رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور عصری زندگی کے کرب کو جس سادگی، تہذیبی شائستگی اور جذباتی گہرائی کے ساتھ پیش کیا گیا، وہ انہیں اپنے عہد کے شاعروں میں ممتاز بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بشیر بدر کا رخصت ہونا اردو شاعری کے ایک روشن باب کے اختتام کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر بشیر بدر کو جدید اردو غزل کی سب سے مقبول اور عوامی آوازوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کی شاعری محبت، جدائی، تنہائی، انسانی رشتوں، ہجرت اور وقت کی بے رحمی جیسے موضوعات کی ایسی ترجمان تھی جو براہِ راست دلوں میں اتر جاتی تھی۔ ان کے اشعار میں سادگی، تہذیب اور گہری اثر آفرینی کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار صرف ادبی حلقوں ہی نہیں بلکہ عام عوام میں بھی غیر معمولی مقبول ہوئے۔15 فروری 1935ء کو اتر پردیش کے تاریخی شہر ایودھیا میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر بشیر بدر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں وہ تدریسی میدان سے وابستہ ہوئے اور تقریباً 17 برس تک میرٹھ کالج میں شعبۂ اردو کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سات برس کی عمر ہی میں شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ اردو، فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں پر ان کی غیر معمولی دسترس تھی۔ڈاکٹر بشیر بدر کے بے شمار اشعار زبان زدِ عام ہوئے۔ ان کا یہ شعر آج بھی دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے:
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
یہی شعر سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے 1972ء کے شملہ معاہدے کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو سنایا تھا، جس کے بعد یہ شعر عالمی سطح پر بھی غیر معمولی شہرت حاصل کر گیا۔ادب کے میدان میں غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے ڈاکٹر بشیر بدر کو پدم شری اعزاز سے نوازا تھا، جبکہ ان کے شعری مجموعے “آس” پر انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ بھی دیا گیا۔ اس کے علاوہ اتر پردیش اردو اکادمی، بہار اردو اکادمی اور کئی قومی و بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھی انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کے کلام کے انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں تراجم ہوئے جبکہ دیوناگری اور گجراتی رسم الخط میں بھی ان کی شاعری شائع ہوئی۔1987ء کے میرٹھ فسادات ان کی زندگی کا سب سے المناک باب ثابت ہوئے۔ ان فسادات میں ان کا گھر، نایاب کتابیں اور برسوں کا ادبی سرمایہ جل کر خاکستر ہوگیا، جس نے انہیں شدید ذہنی صدمے سے دوچار کردیا۔ اس سانحے کے بعد وہ مستقل طور پر بھوپال منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے نئے عزم کے ساتھ اپنی زندگی اور ادبی سفر کو دوبارہ شروع کیا، تاہم اس حادثے کے اثرات ان کی شخصیت اور شاعری دونوں پر نمایاں رہے۔زندگی کے آخری برسوں میں وہ ڈیمنشیا سمیت کئی عارضوں میں مبتلا رہے۔ 2018ء میں ایک انٹرویو کے دوران وہ اپنے بعض مشہور اشعار مکمل طور پر یاد نہ کر سکے تھے، جس پر ان کے مداحوں نے گہرے افسوس کا اظہار کیا تھا۔ آخری برسوں میں وہ زیادہ تر عوامی تقریبات اور مشاعروں سے دور رہے۔ڈاکٹر بشیر بدر کے انتقال پر ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں، سیاسی و سماجی شخصیات، فلمی دنیا سے وابستہ افراد اور لاکھوں مداحوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بیٹے نصرت بدر بھی بالی ووڈ کے معروف نغمہ نگار ہیں۔ ڈاکٹر بشیر بدر نے امریکہ، دبئی، قطر، پاکستان اور دیگر کئی ممالک میں عالمی مشاعروں میں شرکت کی اور اپنی منفرد شاعری سے سامعین کے دل جیتے۔ڈاکٹر بشیر بدر کی وفات اردو ادب کے لیے یقیناً ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کے انتقال سے اردو غزل کا ایک روشن اور سنہری باب ضرور اختتام پذیر ہوا ہے، مگر ان کی شاعری ہمیشہ زندہ رہے گی اور آنے والی نسلوں کے دلوں کو اسی طرح منور کرتی رہے گی۔
Post a Comment