بشیر بدر کا خاموش جنازہ، اہلِ ادب کے دلوں پر گہرا زخم
جن اشعار نے لاکھوں دلوں پر حکومت کی، وہ شاعر سناٹے میں رخصت ہوا
بھوپال، 30 مئی (خصوصی رپورٹ)
اردو غزل کے معروف و مقبول شاعر بشیر بدر کے انتقال سے ملک بھر کے ادبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ 91 سالہ بشیر بدر طویل علالت کے بعد بھوپال میں انتقال کرگئے۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے علیل تھے اور عمر رسیدگی کے باعث ادبی و عوامی سرگرمیوں سے دور ہوگئے تھے۔بشیر بدر کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر ان سے متعلق ایک جذباتی تحریر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی، جس میں کہا گیا کہ ’’شاعر اچانک نہیں مرتے، انہیں آہستہ آہستہ بھلا دیا جاتا ہے‘‘۔ اس تحریر نے ادبی حلقوں میں گہرے تاثرات چھوڑے اور جدید دور میں اہلِ قلم کے ساتھ برتے جانے والے رویوں پر نئی بحث چھیڑ دی۔اطلاعات کے مطابق بشیر بدر کی نمازِ جنازہ سادگی کے ساتھ ادا کی گئی، جس میں محدود تعداد میں قریبی افراد اور چند ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ ان کے جنازے میں کم لوگوں کی موجودگی پر سوشل میڈیا صارفین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن اشعار نے برسوں لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کی، آج اسی شاعر کی آخری رسومات خاموشی کے ساتھ انجام پائیں۔بشیر بدر اردو شاعری کا ایک معتبر حوالہ تھے۔ محبت، تنہائی، انسانی رشتوں، درد اور سماجی احساسات کو انہوں نے نہایت سادہ مگر دلنشیں انداز میں اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوئے اور نئی نسل میں بھی غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ادبی ناقدین کے مطابق بشیر بدر صرف شاعر نہیں بلکہ ایک عہد کا نام تھے۔ ان کی شاعری میں محبت، رواداری اور انسان دوستی کا جو پیغام ملتا ہے، وہ ہمیشہ اردو ادب میں زندہ رہے گا۔بشیر بدر کو حکومتِ ہند کی جانب سے ’’پدم شری‘‘ سمیت کئی اہم اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ ان کے انتقال کو اردو ادب کا ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
Post a Comment