Congress MP Nasir Hussain Slams Last-Minute Haj Surcharge as Policy Failure, Demands Immediate Refund to Pilgrims حج فیس اضافے پر ناصر حسین برہم — عازمین سے زبردستی وصولی ناقابلِ قبول

حج 2026 کا متنازع سرکلر فوری واپس لیا جائے—ڈاکٹر ناصر حسین کا مطالبہ 

وصول کی گئی اضافی رقم عازمین کو لوٹانے کا مطالبہ، انتظامی اصلاحات پر زور

بنگلورو/ کے نئی دہلی، 3 مئی (حقیقت ٹائمز)

 کانگریس رہنما و راجیہ سبھا کے رکن ڈاکٹر سید ناصر حسین نے حج 2026 کے لیے وزارتِ اقلیتی امور کی جانب سے جاری کردہ حالیہ سرکلر پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے عازمینِ حج پر غیر ضروری اور اچانک مالی بوجھ قرار دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 28 اپریل کو جاری کیا گیا یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور وصول کی گئی اضافی رقم عازمین کو لوٹائی جائے۔ ناصر حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے 15 مئی تک ہر عازم سے اضافی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بیشتر عازمین پہلے ہی کئی قسطوں میں مکمل رقم ادا کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے خاص طور پر بزرگ عازمین کو شدید دشواریوں کا سامنا ہے، جن میں سے کئی سعودی عرب پہنچ بھی چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حج کے اخراجات پہلے ہی عام ہندوستانی خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہوتے جا رہے ہیں، اور موجودہ حالات میں یہ اضافی بوجھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی جانب سے لیے جانے والے فضائی کرایے عام مارکیٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، جس کی کوئی واضح توجیہ پیش نہیں کی گئی۔ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو اس اضافی چارج کی وجہ قرار دینے پر سوال اٹھاتے ہوئے نصیر حسین نے کہا کہ اگر حکومت کا دعویٰ ہے کہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھا گیا ہے، تو پھر صرف عازمینِ حج کو ہی اس بوجھ کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ عالمی حالات کا نہیں بلکہ انتظامی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ حکومت نہ تو مناسب منصوبہ بندی کر سکی اور نہ ہی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کا کوئی مؤثر نظام قائم کیا گیا۔ آخری وقت میں جاری کیا گیا یہ سرکلر پالیسی کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ڈاکٹر ناصر حسین نے زور دیا کہ حکومت عازمینِ حج کے ساتھ محض آمدنی کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے شہریوں کے طور پر ان کے حقوق اور وقار کا خیال رکھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نہ صرف یہ سرکلر واپس لیا جائے بلکہ آئندہ کے لیے شفاف نظام، مسابقتی ٹینڈرنگ اور قیمتوں کے استحکام کے لیے واضح پالیسی مرتب کی جائے تاکہ 2027 کے حج سیزن سے قبل اصلاحات نافذ ہو سکیں۔

0/Post a Comment/Comments