داونگیرے کے بعد مسلم سیاست میں خود احتسابی کی ضرورت نمایاں —بنگلورو میں وژن کرناٹکا کی نشست
قیادت، اتحاد اور مؤثر حکمتِ عملی پر سنجیدہ غور، نئی سمت کے تعین کی کوشش
بنگلورو، 23 اپریل (حقیقت ٹائمز)
ضلع داونگیرے میں حالیہ ضمنی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی ہلچل اور مسلم قیادت کے اندر ابھرنے والے اختلافات کے پس منظر میں بنگلورو میں “وژن کرناٹکا” کے زیرِ اہتمام ایک اہم فکری نشست منعقد ہوئی، جس میں مسلم سماج کے سیاسی مستقبل، قیادت اور حکمتِ عملی پر سنجیدہ غور و خوض کیا گیا۔یہ نشست ایڈوکیٹ ایوب احمد خان کی صدارت میں حال ہی میں منعقد ہوئی، جس میں تقریباً 30 دانشوروں، ماہرین تعلیم، سماجی کارکنوں اور مختلف تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد حالیہ سیاسی صورتحال کا غیر جذباتی تجزیہ کرتے ہوئے مستقبل کے لیے ایک واضح اور مؤثر لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ داونگیرے کے واقعات نے مسلم قیادت کی کمزوریوں، داخلی انتشار اور غیر مربوط حکمتِ عملی کو نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم، اسی پس منظر میں ایک نئی سیاسی بیداری بھی ابھرتی دکھائی دے رہی ہے، جس کے تحت مسلم سماج اپنے سیاسی کردار اور ترجیحات پر ازسرِ نو غور کر رہا ہے۔اجلاس میں اس تاثر کو بھی چیلنج کیا گیا کہ مسلمانوں میں قیادت کا فقدان ہے۔ شرکاء کے مطابق، یہ ایک منظم بیانیہ ہے جس کے ذریعے مسلم سماج کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قیادت موجود ہے مگر اسے منظم، باہم مربوط اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔مقررین نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان روایتی سیاست کے دائرے سے نکل کر ایک باوقار اور خودمختار سیاسی حکمتِ عملی اختیار کریں۔ ٹکٹ یا عہدوں کے مطالبات تک محدود رہنے کے بجائے، اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ اصولی بنیادوں پر “مذاکرات” اور “سودے بازی” کی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔اجلاس کے دوران معروف مفکر وکٹر ای فرینکل کے اس قول کا حوالہ بھی دیا گیا کہ:“جب ہم کسی صورتحال کو تبدیل کرنے کے قابل نہیں رہتے تو ہمیں خود کو بدلنے کا چیلنج دیا جاتا ہے۔”

شرکاء نے اس خیال کو موجودہ حالات پر منطبق کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسلم سماج کو اپنی داخلی اصلاح، اتحاد اور حکمتِ عملی پر توجہ دینی ہوگی۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ آئندہ مقامی سطح—پنچایت، بلدیہ اور کارپوریشن—سے لے کر اعلیٰ سیاسی سطح تک، باصلاحیت نوجوانوں کو آگے لایا جائے گا اور ان میں قیادت کی صلاحیتیں پروان چڑھائی جائیں گی، تاکہ ایک مضبوط اور بااعتماد قیادت ابھر سکے۔

شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو نظر انداز کرتی رہیں تو مسلم سماج اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے آزاد، باوقار اور سیکولر امیدواروں کی حمایت کرے گا، اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری راستہ اختیار کرے گا۔ آئندہ مسلم سماج محض ردِ عمل کی سیاست تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک باخبر، منظم اور باوقار کردار ادا کرے گا—جہاں فیصلے وقتی جذبات کے بجائے طویل مدتی حکمتِ عملی اور اجتماعی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔اس اجلاس میں غلام غوث، مختار احمد، قیصر (ریٹائرڈ ڈی وائی ایس پی)، فریدہ رحمت اللہ، محمد الیاس، سید شفیع اللہ، پروفیسر اشفاق احمد، فیاض قریشی، ونگ کمانڈر انصاری اور افتخار احمد شریف سمیت دیگر ممتاز شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے اپنی آراء پیش کیں۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلم سماج کو جذباتی ردعمل کے بجائے شعوری، منظم اور طویل مدتی حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، تاکہ جمہوری نظام میں اپنی شناخت، وقار اور حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
Post a Comment