Muslim Organisations to Hold Major Public Convention in Bengaluru حکومت کے وعدوں اور عمل کا عوامی جائزہ

کرناٹک مسلم کنونشن کے ذریعے حکومت کو مضبوط پیغام دینے کی تیاری

مسلم تنظیموں نے سیاسی متبادل کھلے رکھنے کے اشارے دیے

بنگلورو، 8 مئی (حقیقت ٹائمز) 

ریاست کی مختلف مسلم تنظیموں، جماعتوں، علماء تنظیموں، سماجی اداروں اور کرناٹک ریاستی مسلم اتحاد کے اڈہاک کمیٹی ارکان کی ایک اہم میٹنگ گزشتہ دنوں بنگلورو کے شیواجی نگر میں واقع اے جے انٹرنیشنل ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں 16 مئی کو ’’کرناٹک مسلم کنونشن‘‘ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں ریاست بھر سے مسلم تنظیموں کے قائدین، سینئر علماء، جماعتوں کے ذمہ داران، وکلاء، سبکدوش افسران، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور کرناٹک ریاستی مسلم اتحاد کے اڈہاک کمیٹی ارکان سمیت 75 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔میٹنگ صبح 11 بجے سے دوپہر ڈھائی بجے تک جاری رہی۔ اجلاس میں کانگریس حکومت کی تین سالہ کارکردگی اور مسلمانوں سے کیے گئے اہم وعدوں پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، جسے مختلف شعبوں کے ماہرین اور رپورٹ تیاری کمیٹی نے مرتب کیا ہے۔ رپورٹ میں حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو دی گئی یقین دہانیوں، ان پر عمل آوری کی صورتحال، سیاسی نمائندگی، بجٹ میں حصہ داری اور مختلف مسائل پر حکومت کے رویہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔

میٹنگ میں حجاب پابندی، ریزرویشن کی منسوخی، نفرت انگیز تقاریر اور جرائم، وقف معاملات، گؤ کشی پابندی قانون، تبدیلیٔ مذہب قانون، طلبہ وظائف اور تعلیمی بجٹ جیسے موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے مختلف تجاویز اور مشورے پیش کیے، جنہیں رپورٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں کانگریس حکومت کے طرزِ عمل پر شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا۔ متعدد مقررین نے کہا کہ اگر حکومت اور کانگریس پارٹی کا رویہ اسی طرح برقرار رہا تو مسلم برادری کو اپنے سیاسی متبادل کھلے رکھنے ہوں گے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ 16 مئی 2026 بروز ہفتہ بنگلورو کے ٹاؤن ہال میں ایک عظیم الشان عوامی اجتماع کے دوران ’’کرناٹک مسلم کنونشن — کانگریس حکومت نے کیا کہا؟ کیا کیا؟ اور آگے کیا؟‘‘ عنوان کے تحت اس رپورٹ کو جاری کیا جائے گا۔شرکاء نے ریاست کے تمام اضلاع سے عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کنونشن کے ذریعے حکومت اور کانگریس پارٹی کو ایک مضبوط پیغام دیا جائے گا۔ مختلف مسلم تنظیموں، جماعتوں اور اداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت کو یقینی بنائیں۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اس کنونشن میں کسی بھی سیاسی شخصیت کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔ کنونشن کے بعد کانگریس حکومت کی تین سالہ کارکردگی پر مبنی رپورٹ وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ، وزراء اور اراکین اسمبلی کو پیش کی جائے گی۔

0/Post a Comment/Comments