آموں کی راجدھانی سرینواس پور میں پندرہ مئی سے منڈی کا باضابطہ آغاز
بادامی، ملیکا اور کیسر سمیت درجنوں اقسام ملک اور خلیج تک جائیں گی
سرینواس پور 5 مئی (شبیر احمد -خصوصی رپورٹ)
ریاست کے اہم زرعی و باغبانی علاقوں میں شمار ہونے والا سرینواس پور ایک بار پھر آم کے سیزن کے استقبال کے لیے تیار ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق 15 مئی سے آم کی منڈی کا باضابطہ آغاز ہوگا، جس کے پیش نظر پورے تعلقہ میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔تقریباً 65 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی آم کی کاشت کے باعث سرینواس پور کو ’’آموں کا شہر‘‘ اور ’’آموں کی راجدھانی‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں کی آب و ہوا اور زمین کی زرخیزی اعلیٰ معیار کے آم کی پیداوار کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔اس خطے میں بادامی، ملیکا، بینش، امام پسند، پاشا پسند، شکر بیج، دیسری اور کیسر جیسی متعدد اقسام پیدا کی جاتی ہیں، جن کی مقامی اور قومی سطح پر مانگ کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی طلب پائی جاتی ہے۔سرینواس پور سے آم ملک کی مختلف ریاستوں جیسے پنجاب، ہریانہ، گجرات، اتر پردیش اور تمل ناڈو سمیت دیگر علاقوں تک سپلائی کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک اور جنوب مشرقی ایشیا کے چند ممالک کو بھی محدود پیمانے پر برآمدات کی جاتی ہیں۔منڈی کے آغاز سے قبل اے پی ایم سی اور نجی منڈیوں میں بنیادی سہولیات جیسے تول، ذخیرہ، پیکنگ اور نقل و حمل کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، تاکہ کسانوں کو اپنی پیداوار فروخت کرنے میں آسانی ہو۔

آم کے سیزن کے ساتھ ہی مقامی سطح پر بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ باغات میں توڑائی، درجہ بندی، پیکنگ اور ترسیل جیسے کاموں میں ہزاروں مزدور مصروف ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے مزدوروں کو عارضی روزگار میسر آتا ہے، جبکہ خواتین بھی اس عمل میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ماہرین کے مطابق اس سال موسمی تبدیلیوں کے باعث بعض اقسام کی پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے، تاہم دیگر اقسام میں بہتر فصل کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔مجموعی طور پر 15 مئی سے شروع ہونے والا آم سیزن سرینواسپور کی مقامی معیشت کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ کسانوں اور تاجروں کو توقع ہے کہ اس سال بھی یہ علاقہ اپنی زرعی شناخت برقرار رکھتے ہوئے معیشی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔
Post a Comment