Literary Meet Honours Azam Shahid’s Column Journey محمد اعظم شاہد کی کالم نگاری کو خراجِ تحسین

کالم نگاری محض اظہار نہیں، عہد کی فکری تاریخ کا آئینہ ہے— عزیز اللہ بیگ

محمد اعظم شاہد کے کالم کے 15 سال مکمل ہونے پر بنگلورو میں ادبی نشست ،اہلِ علم کا بھرپور خراجِ تحسین

بنگلور، 23 اپریل (حقیقت ٹائمز)

اردو صحافت کی سنجیدہ روایت اور معاصر فکری منظرنامے کو ایک بامعنی پلیٹ فارم پر یکجا کرتے ہوئے بنگلورو میں معروف کالم نگار محمد اعظم شاہد کے ہفتہ وار کالم “عکس در عکس” کے پندرہ برس مکمل ہونے پر ایک باوقار اور یادگار ادبی نشست منعقد ہوئی۔ ہندوستانی اردو منچ کے زیرِ اہتمام “تفہیم، تجزیہ، تحسین” کے عنوان سے منعقدہ اس تقریب نے محض تہنیتی نوعیت تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ اردو صحافت کی روایت، اس کے موجودہ بحران اور مستقبل کی سمت پر ایک سنجیدہ اور بھرپور مکالمے کی صورت اختیار کرلی۔ پروگرام ہم سینٹر، نزد شفا اسپتال، کوئنس روڈ بنگلورو میں منعقد ہوا، جہاں شہر اور بیرونِ شہر سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادیبوں، صحافیوں، دانشوروں اور اہلِ علم کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کی صدارت ممتاز دانشور، سابق چیئرمین کرناٹک اردو اکیڈمی اور سابق بیوروکریٹ عزیز اللہ بیگ نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے اردو کالم نگاری کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صنف محض اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ ہر دور کی فکری و سماجی تاریخ کو محفوظ رکھنے کا ایک موثر وسیلہ رہی ہے۔ انہوں نے “الہلال”، “البلاغ” اور “زمیندار” جیسے تاریخی اخبارات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں شائع ہونے والی کالم نگاری آج بھی ہمیں ماضی کے حالات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، اور محمد اعظم شاہد کی تحریریں اسی تسلسل کی نمائندگی کرتی ہیں۔جو بدلتے حالات میں بھی فکری دیانتداری کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے اعظم شاہد کی پندرہ سالہ مسلسل کالم نگاری کو ایک نمایاں کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پابندی، سنجیدگی اور فکری دیانت کے ساتھ اتنے طویل عرصے تک لکھتے رہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ان کے مطابق اعظم شاہد کی تحریروں میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کا براہِ راست مشاہدہ اور تجربہ جھلکتا ہے، جو ان کی تحریر کو گہرائی اور اثر عطا کرتا ہے۔اردو صحافت کی موجودہ صورتحال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے عزیز اللہ بیگ نے کہا کہ بنگلورو جو کبھی اردو اخبارات اور ادبی سرگرمیوں کا ایک فعال مرکز تھا، آج وہاں اس روایت میں نمایاں کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ کیا ایک ہی اخبار کسی شہر کی فکری و صحافتی ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اردو داں طبقے کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اس زوال کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔

مہمانِ خصوصی، ممتاز ماہرِ تعلیم اور سابق چیئرمین اردو اکیڈمی پروفیسر م۔ن۔ سعید نے اپنے خطاب میں کالم نگاری کے عملی تقاضوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہر ہفتے ایک نیا موضوع تلاش کرنا، اس پر تحقیق کرنا اور اسے متوازن انداز میں پیش کرنا ایک مسلسل ذہنی و فکری مشقت کا عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد اعظم شاہد نے اس عمل کو جس تسلسل اور ذمہ داری کے ساتھ پندرہ برس تک جاری رکھا ہے، وہ واقعی لائقِ تحسین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک سنجیدہ کالم نگار کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش کے حالات پر گہری نظر رکھے اور انہیں ایک بامعنی انداز میں پیش کرے، اور اعظم شاہد اس معیار پر پورے اترتے ہیں۔

تقریب میں شریک دیگر مقررین نے بھی مختلف پہلوؤں سے محمد اعظم شاہد کی کالم نگاری کا جائزہ پیش کیا۔ معروف افسانہ نگار فیاض قریشی نے کہا کہ ان کی تحریروں میں عصری شعور، فکری گہرائی اور ادبی لطافت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ سابق ڈائریکٹر آل انڈیا ریڈیو بنگلورو اور ممتاز ادیب ملنسار اطہر احمد نے کہا کہ کالم نگاری خبر سے آگے بڑھ کر ایک ذمہ دار فکری عمل ہے، اور اعظم شاہد نے اس ذمہ داری کو سنجیدگی کے ساتھ نبھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں کالم نگاری کی روایت نسبتاً محدود رہی ہے، تاہم محمد اعظم شاہد کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ عصری مسائل پر گہرے شعور اور سنجیدہ انداز میں اظہارِ خیال کرتے ہیں، اور ان کے کالم قاری کے لیے معلومات و آگہی کے مؤثر دریچے ثابت ہوتے ہیں۔ معروف صحافی شرف الدین سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں جب صحافت مختلف دباؤ اور چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں اعظم شاہد جیسے قلمکاروں کی تحریریں توازن اور اعتدال کی ایک اہم مثال بن کر سامنے آتی ہیں۔ گلبرگہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر انیس صدیقی نے کہا کہ ان کے کالم معاشرتی شعور کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔پونے سے آئی ہوئی ادیبہ و صحافی شاہ تاج خان نے کہا کہ محمد اعظم شاہد کی تحریریں خواتین، اقلیتوں اور سماجی انصاف جیسے اہم موضوعات کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کرتی ہیں، جو ان کی تحریر کی اصل قوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے کالموں میں غیر ضروری پیچیدگی کے بجائے ایک واضح اور براہِ راست انداز ملتا ہے، جو قاری کے ساتھ فوری رابطہ قائم کرتا ہے۔ “حقیقت ٹائمز” کے مدیر اعلیٰ عبدالحلیم منصور نے اپنے خطاب میں کہا کہ محمد اعظم شاہد کی کالم نگاری اردو صحافت میں ایک سنجیدہ اور معتبر آواز کے طور پر ابھری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ پیچیدہ اور حساس موضوعات کو بھی نہایت سادہ، واضح اور قابلِ فہم انداز میں بیان کرتے ہیں، جس سے قاری نہ صرف مسئلے کو سمجھتا ہے بلکہ اس پر غور کرنے پر بھی آمادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پندرہ برس تک مسلسل ایک ہی سلسلے کو جاری رکھنا محض ایک عددی کامیابی نہیں بلکہ ایک فکری ذمہ داری کی مسلسل ادائیگی ہے۔ادیب و خاکہ نویس عبداللہ نادر نے اعظم شاہد کی شخصیت اور ان کے ادبی سفر کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریروں میں سادگی، خلوص اور حقیقت پسندی نمایاں ہے، جو قاری کے دل کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے تنقیدی جائزہ بھی پیش کیا اور چند تعمیری تجاویز دیں۔تقریب کا ایک نمایاں اور دلکش پہلو منظوم تہنیت کا سیشن رہا، جس میں کرناٹک اردو اکیڈمی کے رکن منیر احمد جامی اور معروف شاعرہ ڈاکٹر فرزانہ فرح بھٹکل نے اپنے اشعار کے ذریعے محمد اعظم شاہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کی شاعری نے محفل میں ایک خوشگوار ادبی رنگ بھر دیا اور حاضرین نے اسے بے حد سراہا۔ملت مینجمنٹ سوسائٹی آف انڈیا کے صدر اقبال احمد صدیقی نے بطورِ مہمان خصوصی شرکت کی اور اپنے تاثرات میں اعظم شاہد کو مبارکباد پیش کی ۔اپنے تاثرات میں محمد اعظم شاہد نے اپنے طویل صحافتی سفر، مسلسل محنت اور اہلِ خانہ کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کالم نگاری ان کے لیے محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، جسے وہ پوری دیانت کے ساتھ نبھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر مختلف شہروں سے آئے ہوئے اہلِ علم کی شرکت کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔تقریب میں ملت مینجمنٹ سوسائٹی آف انڈیا کے صدر اقبال احمد صدیقی و دیگر عہدیداروں، معروف شاعر صابر سعید کے علاوہ مختلف تنظیموں کے ذمہ داران اور مختلف شخصیتوں نے محمد اعظم شاہد کو تہنیت پیش کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔

پروگرام کی نظامت سالار ڈجیٹل کی محترمہ صبیحہ فاطمہ نے نہایت سلیقہ، روانی اور ادبی وقار کے ساتھ انجام دی ، جس سے پوری نشست ایک منظم اور باوقار انداز میں آگے بڑھتی رہی۔ جبکہ ہندوستانی اردو منچ کے سکریٹری این۔ڈی۔ ملا نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ہم سینٹر کو اردو سرگرمیوں کے لیے دستیاب رکھنے کا اعلان کیا۔ اختتام پر ڈاکٹر اقبال بیگ نے اظہارِ تشکر پیش کیا اور کہا کہ اس نوعیت کی ادبی نشستیں نہ صرف قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں بلکہ اردو ادب و صحافت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہ نشست مجموعی طور پر ایک بامقصد، سنجیدہ اور متاثر کن ادبی اجتماع ثابت ہوئی، جہاں محمد اعظم شاہد کی پندرہ سالہ کالم نگاری کو نہ صرف خراجِ تحسین پیش کیا گیا بلکہ اردو صحافت کے بدلتے منظرنامے، اس کے چیلنجز اور اس کے امکانات پر بھی مثبت اور تعمیری گفتگو سامنے آئی ۔ اس نشست میں ڈاکٹر راہی فدائی ،ماہر منصور ، شفیق عابدی ، جی اے باوا ، صلاح الدین ، میڈیا اکیڈمی کی چیئرمین عائشہ خانم ، شائستہ یوسف ، الحاج بابا جی ،معروف صحافی کے افتخار احمد شریف ، سید شفیع اللہ کے علاوہ دیگر معروف و معتبر شخصیات موجود تھیں ۔

3/Post a Comment/Comments

  1. It is a very comprehensive coverage .Keep it up.

    ReplyDelete
  2. ماشاء اللّٰہ
    بہت خوب

    ReplyDelete
  3. ایک عرصہ بعدازاں ادبی اجلاس میں شرکت کا موقع ملا۔ اردو زبان و ادب کے نامور شخصیات کی شرکت اور ان تمام سے مل کر دلی مسرت ہوئی۔ اجلاس کا انعقاد ہم ادارے کی جانب سے مشہور کالم نویس جناب محمد اعظم شاہد کے صحافتی خدمات کے تحت تھا۔ جسمیں مجھے بھی ایک پیپر پیش کرنے کا موقع دیا گیا تھا۔ شرکاء نے میرے مقالہ کو سراہا۔ اور پسند کیا۔ شرف الدین سید صحافی

    ReplyDelete

Post a Comment