Karnataka Minority Dept Served Legal Notice Over Alleged Coaching Tender Irregularities اقلیتی کوچنگ ٹینڈرز میں دھاندلی کا الزام، قانونی نوٹس جاری

اقلیتی ڈائریکٹوریٹ کے کوچنگ ٹینڈرز میں بے ضابطگی کا الزام، سینئر وکیل رضوی نے قانونی نوٹس جاری کیا

کے-سی ای ٹی، نیٹ اور سول سروسز پروگراموں کے ٹینڈرز میں امتیازی شرائط، پانچ سال کے معاہدوں کے آڈٹ کا مطالبہ

بنگلورو، 25 اپریل (حقیقت ٹائمز)

 محکمہ اقلیتی بہبود کرناٹک کا اقلیتی ڈائریکٹوریٹ ایک مبینہ ٹینڈر گھوٹالے کو لے کر قانونی تنازعہ میں گھر گیا ہے۔ تعلیمی کوچنگ خدمات کی فراہمی سے متعلق کروڑوں روپے کے ٹینڈرز میں بے ضابطگیوں اور مخصوص اداروں کو فائدہ پہنچانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔موصولہ اطلاعات کے مطابق، 24 اپریل کو جاری کردہ ایک قانونی نوٹس میں اقلیتی ڈائریکٹوریٹ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے ٹینڈر کے اصولوں کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ صرف چند مخصوص اور سابقہ ٹھیکیدار ہی اہل قرار پائیں۔ 

  سینئر وکیل ایس اے ایچ رضوی نے، پرائم لا ایسوسی ایٹس کے ذریعے، کرناٹک ٹرانسپیرنسی اِن پبلک پروکیورمنٹ (کے ٹی پی پی) ایکٹ کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے تمام جاری ٹینڈرز کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔قانونی نوٹس کے مطابق،کے-سی‌ای ٹی ، نیٹ اور سول سروسز کوچنگ پروگراموں کے لیے جاری ٹینڈرز میں بعض ایسی شرائط شامل کی گئی ہیں جنہیں “غیر منطقی” اور “امتیازی” قرار دیا جا رہا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹینڈر میں شامل بعض شرائط غیر ضروری اور امتیازی ہیں، جیسے کہ درخواست دہندگان کے پاس کم از کم تین سال پرانی اینڈرائیڈ ایپ کا ہونا اور اس کے ڈاؤن لوڈز کی بنیاد پر نمبر دینا۔ وکیل کے مطابق اس کا کوچنگ کے معیار سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں بلکہ یہ شرط سابقہ ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے رکھی گئی ہے۔اسی طرح ہارڈویئر جیسے ٹیبلیٹس اور کمپیوٹرز کی سپلائی کا تجربہ بھی لازمی قرار دینا تنقید کی زد میں ہے، ماہرین کے مطابق اس طرح کی شرائط ایک “محدود نظام” کو جنم دیتی ہیں، جہاں صرف پہلے سے منسلک ادارے ہی مقابلے میں رہ جاتے ہیں۔نوٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹینڈر کے عمل میں شفافیت کے تقاضے پوری طرح پورے نہیں کیے جا رہے۔ قواعد کے تحت تمام معلومات کرناٹک پبلک پروکیورمنٹ پورٹل (KPPP) پر دستیاب ہونی چاہئیں، تاہم الزام ہے کہ مطالعاتی مواد کی جانچ پورٹل سے باہر کی جا رہی ہے ،فیصلوں کی وجوہات اور تقابلی رپورٹیں عوام کے لیے جاری نہیں کی جا رہیں ،ٹینڈر جانچ کمیٹی کی خود مختاری مشکوک ہے۔اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف قانونی خلاف ورزی بلکہ عوامی اعتماد کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔قانونی نوٹس میں سابقہ ٹھیکیداروں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کئی ادارے مطلوبہ تعلیمی نتائج فراہم کرنے میں ناکام رہے، لیکن ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔ اس صورتحال نے اقلیتی طلبہ کے لیے فراہم کی جانے والی کوچنگ کی معیاری حیثیت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے تمام کوچنگ معاہدوں کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے، فیکلٹی اور نتائج کی صداقت کی جانچ ہو، اور موجودہ ٹینڈرز کو وقتی طور پر معطل کر کے نئے سرے سے شفاف معیار مقرر کیے جائیں۔

اگر محکمہ موجودہ ٹینڈرز کو معطل کر کے طریقہ کار میں اصلاحات نہیں کرتا تو معاملہ عدالت میں لے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ہائی کورٹ سے عدالتی نگرانی میں تحقیقات کی درخواست کی جا سکتی ہے۔تاحال حکومت یا متعلقہ محکمہ کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔یہ معاملہ محض انتظامی بے ضابطگیوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا براہِ راست اثر ہزاروں اقلیتی طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں شفافیت، جوابدہی اور میرٹ پر مبنی نظام کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے—اور یہی وہ پہلو ہیں جن پر آنے والے دنوں میں اس تنازعہ کا رخ متعین ہوگا۔

0/Post a Comment/Comments