Silent Mission of Hope: 1,600 prisoners freed through compassion in Ramadan سولہ سو قیدیوں کو آزادی دلانے والی خاموش مہم - عابد احمد کندلم کی کہانی

رمضان میں آزادی کی خوشبو:مالی تعاون سے قیدیوں کی رہائی کی انسانیت نواز کوششیں

گلوبل کیئر فاؤنڈیشن کی مہم سے کئی گھرانوں میں خوشی اور سکون کی واپسی

ممبئی، 9 مارچ (خصوصی رپورٹ: جاوید جمال الدین) 

معاشرے میں بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموشی کے ساتھ انسانیت کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ انہیں نہ شہرت کی خواہش ہوتی ہے اور نہ کسی صلے کی طلب۔ ان کی کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ کسی مجبور انسان کی زندگی میں آسانی پیدا ہو اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ واپس آ جائے۔ ایسے ہی ایک سماجی کارکن عابد احمد کندلم ہیں جو گلوبل کیئر فاؤنڈیشن کے بانی اور منتظم ٹرسٹی ہیں۔ ان کی تنظیم گزشتہ کئی برسوں سے ان قیدیوں کی رہائی کے لیے کام کر رہی ہے جو عدالت سے ضمانت ملنے کے باوجود صرف اس وجہ سے جیل میں بند رہتے ہیں کہ وہ معمولی ضمانتی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں اس خدمت کی رفتار اور بھی تیز ہو جاتی ہے۔ تنظیم کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ قیدی اپنے گھروں کو لوٹ سکیں اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رمضان اور عید کی خوشیاں منا سکیں۔عابد احمد کندلم کے مطابق ان کی تنظیم بنیادی طور پر ایسے قیدیوں کی مدد کرتی ہے جو معمولی نوعیت کے مقدمات میں گرفتار ہوتے ہیں۔ عدالت انہیں ضمانت تو دے دیتی ہے لیکن غربت کے باعث وہ ضمانتی رقم ادا نہیں کر پاتے، جس کے نتیجے میں وہ جیل میں ہی پڑے رہتے ہیں حالانکہ قانون کے مطابق انہیں باہر ہونا چاہیے۔ کئی معاملات میں ضمانت کے لیے صرف دس یا پندرہ ہزار روپے درکار ہوتے ہیں، مگر غربت اور بے بسی کے باعث یہ رقم بھی جمع نہیں ہو پاتی۔ تنظیم ایسے ہی ضرورت مند افراد کی تلاش کرتی ہے، ان کے مقدمات کا جائزہ لیتی ہے اور پھر ضمانتی رقم ادا کر کے ان کی رہائی کی کوشش کرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تقریباً چھ برسوں کے دوران تنظیم کی کوششوں سے تقریباً سولہ سو قیدیوں کو جیل سے رہائی دلائی جا چکی ہے۔ اس وقت بھی تقریباً ڈیڑھ سو مقدمات پر کام جاری ہے اور ہر معاملے کو اچھی طرح جانچنے کے بعد ہی مدد فراہم کی جاتی ہے تاکہ واقعی مستحق افراد تک سہارا پہنچ سکے۔رمضان المبارک کے حوالے سے عابد احمد کندلم کا کہنا ہے کہ یہ مہینہ برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ اس دوران کام کم نہیں ہوتا بلکہ اور بڑھ جاتا ہے۔ البتہ لوگوں کے معمولات بدل جانے کے باعث ملاقاتوں اور رابطوں کے اوقات میں فرق آ جاتا ہے۔ کبھی کسی ضرورت مند کے گھر جانا پڑتا ہے اور کبھی مخیر حضرات سے مالی تعاون کے لیے ملاقات کرنی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود رمضان میں کام بوجھ محسوس نہیں ہوتا کیونکہ اس مہینے میں اللہ کی خاص برکتیں شامل ہو جاتی ہیں اور لوگ بھی دل کھول کر تعاون کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال رمضان المبارک کے دوران تقریباً اناسی قیدیوں کو رہائی دلائی گئی تھی۔

عابد احمد کنڈلم

جب کوئی قیدی جیل سے نکل کر اپنے گھر پہنچتا ہے اور اس کی ماں، بیوی یا بچے اسے گلے لگاتے ہیں تو وہ منظر انتہائی جذباتی ہوتا ہے۔ ایسے لمحات اس احساس کو مضبوط کرتے ہیں کہ یہ محنت کسی کے لیے حقیقی خوشی کا سبب بن رہی ہے۔عابد احمد کندلم کے مطابق قیدیوں کی رہائی کے بعد کا منظر دل کو چھو لینے والا ہوتا ہے۔ کئی قیدی مہینوں بلکہ بعض اوقات برسوں سے اپنے گھر والوں سے دور ہوتے ہیں۔ جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ اب وہ آزاد ہیں اور اپنے گھر جا سکتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ کسی ماں کو بیٹے کی رہائی کی خبر ملتی ہے تو وہ سجدۂ شکر ادا کرتی ہے، اور کسی بچے کو اپنے والد کے آنے کی خبر ملتی ہے تو وہ خوشی سے رو پڑتا ہے۔گزشتہ دو دہائیوں میں مسلمانوں کے معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ باہمی رابطے کی کمی ہے۔ پہلے خاندانوں میں بزرگ اور نوجوان ایک ساتھ بیٹھتے تھے، گفتگو ہوتی تھی اور مسائل حل کیے جاتے تھے۔ اب موبائل اور سماجی ذرائع کے باعث لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوئے بھی دور ہو گئے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کر رہا ہے۔

تعلیم کے میدان میں انہوں نے کہا کہ ایک مثبت تبدیلی یہ ہے کہ لوگوں میں تعلیم کی اہمیت کا شعور بڑھا ہے، مگر اس کے ساتھ یہ تشویش بھی ہے کہ جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی اور ثقافتی ماحول کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ پہلے بچے جدید تعلیم کے ساتھ اپنے دینی اور ثقافتی ماحول سے بھی جڑے رہتے تھے، مگر اب یہ تعلق کمزور ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے اس صورتِ حال کے حل کے طور پر تجویز پیش کی کہ نوجوان نسل کو مسجدوں اور محلوں کے بزرگوں سے جوڑنے کی کوشش کی جائے۔ اگر نوجوان مسجد کے ماحول سے وابستہ ہوں گے تو انہیں اپنے دین اور ثقافت دونوں کی بہتر سمجھ حاصل ہو گی۔ بعض مقامات پر نوجوانوں کے لیے مساجد میں تربیتی اور سماجی سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں، جو ایک مثبت تجربہ ثابت ہو سکتی ہیں۔عابد احمد کندلم نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے جس میں مثالی مسجد کے تصور کو پیش کیا گیا ہے اور کئی ادارے اس پر کام بھی کر رہے ہیں۔

انہوں نے اردو میڈیم اسکولوں کے مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ اساتذہ کی کمی ہے۔ کئی اسکولوں میں اسامیاں موجود ہونے کے باوجود اساتذہ مقرر نہیں ہو پاتے، جس کے باعث طلبہ کو مکمل تعلیم حاصل نہیں ہو پاتی۔ ان کے مطابق اگر زبان اور تعلیمی اداروں کو مضبوط نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں اپنی شناخت سے دور ہو سکتی ہیں۔تنظیم کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ مالی تعاون کی کمی ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر معاملات میں ضمانت کی رقم زیادہ نہیں ہوتی اور اکثر اوقات دس یا پندرہ ہزار روپے میں کسی شخص کی آزادی ممکن ہو جاتی ہے۔ اگر لوگ تھوڑا سا بھی تعاون کریں تو سینکڑوں افراد کی زندگی بدل سکتی ہے۔

عابد احمد کندلم کا کہنا ہے کہ نئی نسل کو سماجی خدمت کے میدان میں آگے آنا چاہیے۔ معاشرے کے مسائل کو سمجھنا اور ان کے حل کے لیے عملی کوشش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر نوجوان اس میدان میں قدم رکھیں تو نہ صرف معاشرہ بہتر ہوگا بلکہ انہیں خود بھی زندگی کا ایک مثبت مقصد ملے گا۔گلوبل کیئر فاؤنڈیشن کی یہ جدوجہد اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ معاشرے میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو خاموشی کے ساتھ انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ایک معمولی سی ضمانت کی رقم کسی قیدی کے لیے آزادی کا دروازہ بن سکتی ہے، اور رمضان جیسے بابرکت مہینے میں یہ آزادی اس کے لیے نئی زندگی کی شروعات بن جاتی ہے۔ جب کوئی قیدی جیل سے نکل کر اپنے گھر والوں کے درمیان پہنچتا ہے تو اس کی آنکھوں میں جھلکتی خوشی اور شکرگزاری ہی اس خدمت کا سب سے بڑا انعام بن جاتی ہے۔

1/Post a Comment/Comments

Post a Comment