Mumbai’s Azad Maidan Eid Prayers Disrupted Amid Administrative Challenges ممبئی کے آزاد میدان میں نمازِ عیدین تعطل کا شکار، انتظامی مسائل حائل

آزاد میدان میں عیدین کی اجتماعی نماز پر غیر یقینی صورتحال

اجازت کے پیچیدہ عمل اور ہم آہنگی کے فقدان نے روایت کو متاثر کیا

ممبئی، 17 مارچ (خصوصی رپورٹ: جاوید جمال الدین)

آزاد میدان میں نمازِ عیدین کی تاریخی روایت گزشتہ چند برسوں سے تعطل کا شکار ہو کر تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے، جس نے شہر کے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک وقت تھا جب جنوبی ممبئی کا یہ وسیع میدان عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہزاروں فرزندانِ توحید کا مرکز بنتا تھا، مگر اب یہ روایت مختلف انتظامی، تنظیمی اور شہری مسائل کی نذر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ممبئی کی عید کی صبح ہمیشہ سے روحانی اور سماجی ہم آہنگی کی علامت رہی ہے۔ سفید لباس میں ملبوس افراد، بچوں کی چہل پہل اور گھروں سے نکلتے خاندان شہر کو ایک منفرد رنگ میں رنگ دیتے تھے، اور آزاد میدان اس منظر کا مرکزی نقطہ ہوتا تھا جہاں دور دراز علاقوں سے لوگ نماز کی ادائیگی کے لیے جمع ہوتے تھے۔

آزاد میدان میں عیدین کی نماز ایک صدی سے زائد پر محیط روایت رہی ہے، جس نے ممبئی کے مسلمانوں کی اجتماعی شناخت کو مضبوط کیا۔ برطانوی دور میں یہ میدان فوجی اور عوامی اجتماعات کے لیے مخصوص تھا، تاہم وقت کے ساتھ یہ مذہبی و سماجی مرکز میں تبدیل ہو گیا۔ماضی میں اس اجتماع کا انتظام ایک منظم کمیٹی کے تحت ہوتا تھا، جہاں ممتاز عالم دین مولانا ضیاء الدین بخاری خطبہ دیتے تھے۔ ان کے خطبات اور دعاؤں نے اس روایت کو ایک خاص روحانیت عطا کی۔ کمیٹی میں دیگر معزز شخصیات بھی شامل تھیں جنہوں نے اس روایت کو دہائیوں تک برقرار رکھا۔

ممبئی میں کسی بھی بڑے اجتماع کے انعقاد کے لیے متعدد سرکاری اداروں سے اجازت درکار ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس کمشنر، مقامی ڈی سی پی اور دیگر متعلقہ محکمے اس عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ چونکہ آزاد میدان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ  کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے وہاں سے بھی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل بظاہر رسمی نظر آتا ہے، مگر درحقیقت انتظامیہ کے اعتماد، سیکورٹی جائزے اور حالات کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، جس سے اجازت کا حصول مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

مقامی ذمہ داران کے مطابق اس روایت کے تعطل کی ایک بڑی وجہ تنظیمی کمزوری اور مختلف گروہوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ ماضی میں جہاں تجربہ کار افراد اس اجتماع کو منظم انداز میں سنبھالتے تھے، وہیں اب غیر مربوط کوششوں نے انتظامیہ کا اعتماد متاثر کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ہی معاملے پر مختلف گروپس کی علیحدہ علیحدہ درخواستیں نہ صرف اتحاد کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ حکام کے لیے بھی فیصلہ سازی مشکل بنا دیتی ہیں۔

پولیس اور انتظامیہ کے مطابق بڑے اجتماعات کے لیے اجازت دیتے وقت عوامی سلامتی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اگر کسی گروہ کی تنظیمی صلاحیت یا سنجیدگی پر شبہ ہو تو اجازت دینے میں احتیاط برتی جاتی ہے۔

ایک سینئر افسر کے مطابق، “کسی بھی بڑے اجتماع میں معمولی سی کوتاہی بھی بڑے مسئلے کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے مکمل تیاری اور ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔”ممبئی جیسے گنجان آباد شہر میں کھلی جگہوں کی قلت اور بڑھتے شہری دباؤ نے بھی اس روایت کو متاثر کیا ہے۔ ٹریفک، سیکورٹی، اور دیگر شہری تقاضوں کے پیش نظر ایسے بڑے اجتماعات کے انعقاد میں مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔

آزاد میدان میں نمازِ عیدین کی بحالی کے لیے ماہرین اور سماجی رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایک مضبوط، منظم اور قابلِ اعتماد کمیٹی تشکیل دی جائے جو انتظامیہ کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ کام کر سکے۔اگرچہ یہ روایت فی الحال تعطل کا شکار ہے، تاہم شہر کے مسلمانوں میں اب بھی یہ امید باقی ہے کہ مناسب منصوبہ بندی، اتحاد اور انتظامی تعاون کے ذریعے آزاد میدان ایک بار پھر عیدین کی اجتماعی نماز کا مرکز بن سکے گا۔

0/Post a Comment/Comments