ممبئی میں رویتِ ہلال کے لیے سائنسی و شرعی ہم آہنگی کی کوشش
رضا اکیڈمی کا نہرو سائنس سینٹر کا دورہ، نئے نظام کی تجویز
ممبئی، 19 مارچ (خصوصی رپورٹ جاوید جمال الدین)
عروسُ البلاد ممبئی میں عیدالفطر کے موقع پر چاند کی رویت ہمیشہ سے مذہبی، سماجی اور انتظامی اعتبار سے ایک نہایت اہم مسئلہ رہی ہے۔ اسی پس منظر میں رضا اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری الحاج محمد سعید نوری کی قیادت میں ایک وفد نے نہرو سائنس سینٹر ممبئی کا دورہ کیا، جس کا مقصد چاند کی روایتی رویت کو سائنسی بنیادوں کے ساتھ سمجھنا اور دونوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔
دورے کے دوران وفد نے مرکز کے ذمہ داران سے تفصیلی گفتگو کی، جس میں چاند کی پیدائش، اس کی عمر، افق پر اس کی موجودگی اور رویت کے امکانات پر سیر حاصل تبادلۂ خیال ہوا۔ ماہرین نے وضاحت کی کہ ۱۹ مارچ ۲۰۲۶ کو چاند غروبِ آفتاب کے تقریباً چوبیس منٹ بعد ہی غروب ہو جائے گا، جس کے باعث اس دن ننگی آنکھ سے چاند دیکھنا نہایت مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہوگا، جبکہ ۲۰ مارچ ۲۰۲۶ کو صورتحال مختلف ہوگی جب چاند غروبِ آفتاب کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ بیس منٹ تک افق پر موجود رہے گا، جس سے رویت کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جائیں گے۔ مزید یہ کہ اسی روز چاند مناسب بلندی پر ہوگا اور اس کے قریب ایک روشن سیارہ بھی دکھائی دے سکتا ہے، جو چاند کی شناخت میں مددگار ثابت ہوگا۔

اس موقع پر وفد کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ چاند کی رویت کا روایتی شرعی طریقہ اپنی جگہ مسلمہ ہے، تاہم سائنسی معلومات کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔ موجودہ دور میں فلکیاتی علم اس قدر ترقی کر چکا ہے کہ چاند کی پیدائش اور اس کی پوزیشن کے بارے میں پیشگی معلومات حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں کو باہم مربوط کیا جائے تاکہ ایک بہتر اور قابلِ اعتماد نظام قائم ہو سکے۔
ممبئی میں چاند کی رویت کے حوالے سے عرصہ دراز سے دو الگ الگ کمیٹیوں کی موجودگی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے، جن کے درمیان رابطے کے فقدان کے باعث بعض اوقات چاند کے اعلان میں اختلاف سامنے آتا ہے، جس سے عوام میں الجھن پیدا ہوتی ہے اور رمضان اور عید کے آغاز کے سلسلے میں ابہام پیدا ہو جاتا ہے۔ ماضی میں دونوں کے درمیان بہتر تال میل موجود تھا، تاہم وقت کے ساتھ یہ ہم آہنگی کمزور پڑ گئی ہے۔
رضا اکیڈمی کے وفد کا یہ دورہ اس لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس سے نہ صرف مذہبی حلقوں اور سائنسی اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط ہوگا بلکہ فیصلہ سازی میں تحقیق اور ٹھوس معلومات کو بھی شامل کیا جا سکے گا، جس کے نتیجے میں عوامی اعتماد میں اضافہ اور اختلافات میں کمی ممکن ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر علما اور سائنسی ماہرین پر مشتمل ایک مشترکہ نظام قائم کیا جائے اور چاند کی رویت کے عمل کو منظم اور شفاف بنایا جائے تو اس مسئلے کا مؤثر حل نکالا جا سکتا ہے۔ اس پیش رفت کو ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اگر اسی سنجیدگی کے ساتھ کوششیں جاری رہیں تو مستقبل میں ممبئی سمیت دیگر مقامات پر رمضان اور عید کے آغاز کے سلسلے میں یکجہتی پیدا کی جا سکتی ہے۔
Post a Comment