Haj 2026: Deadline Set for Final Payment by March 31 بقایا رقم کے بغیر فلائٹ بکنگ ناممکن

حج 2026: بقایا رقم جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 مارچ مقرر

ادائیگی نہ ہونے پر فلائٹ بکنگ ممکن نہیں ہوگی

ممبئی / بنگلور، 23 مارچ (حقیقت ٹائمز)

حج کمیٹی آف انڈیا نے حج 2026 (1447 ہجری) کے سلسلے میں اہم سرکولر جاری کرتے ہوئے ملک بھر کے عازمینِ حج کو ہدایت دی ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر اپنی بقایا رقم لازمی طور پر جمع کرائیں، بصورت دیگر انہیں سفری مراحل میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سرکولر کے مطابق وہ عازمین جو پہلے ہی ₹2,77,300 (پہلی اور دوسری قسط) جمع کرا چکے ہیں، انہیں باقی ماندہ رقم 31 مارچ 2026 تک ادا کرنا ضروری ہے۔ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو سے روانہ ہونے والے عازمین کیلئے کل تخمینی حج خرچ ₹3,47,650 مقرر کیا گیا ہے، جس میں ہوائی کرایہ بھی شامل ہے۔پہلے سے ادا شدہ رقم: ₹2,77,300 اور اب بقایا قابل ادائیگی رقم: ₹70,350 فی عازم ۔مزید برآں، قربانی (اداحی) کی سہولت اختیار کرنے والے عازمین کو ₹17,280 (720 سعودی ریال) علیحدہ طور پر ادا کرنا ہوگا۔حج کمیٹی کے جاری کردہ رہنما اصولوں کے مطابق بقایا رقم کی ادائیگی کے بغیر فلائٹ بکنگ کی تصدیق ممکن نہیں ہوگی۔عازمین کو اپنی درست رقم کی جانچ کے لیے سرکاری ویب سائٹ یا حج سووِدھا ایپ استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ادائیگی آن لائن (ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈ، نیٹ بینکنگ) یا بینک (اسٹیٹ بینک آف انڈیا / یونین بینک آف انڈیا) کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ہر عازم کو ادائیگی کے وقت اپنا یونیک بینک ریفرنس نمبر لازمی درج کرنا ہوگا۔حج 2026 کے اخراجات میں متعدد سہولیات شامل کی گئی ہیں، جن میں زندگی اور حادثاتی انشورنس (ایل آئی سی اور ایس بی آئی جنرل انشورنس کے ذریعے) ،مکہ مکرمہ و دیگر مقامات پر قیام ،اندرونِ سعودی عرب ٹرانسپورٹ ، منیٰ کیمپس کی سہولیات ،جدید حج سووِدھا اسمارٹ واچ اور آئی او ٹی سم، جس سے عازمین کو دورانِ سفر رابطہ اور تحخفظ فراہم کیا جائے گا۔شیعہ عازمین (جو جدہ روٹ اور جوحفہ میقات اختیار کریں) کو ₹5,520 اضافی ادا کرنے ہوں گے۔زرِ مبادلہ کی شرح (USD اور SAR) میں تبدیلی کی صورت میں رقم میں کمی یا اضافہ ممکن ہے۔حتمی حساب کے بعد زائد رقم عازمین کو واپس بھی کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس سال حج اخراجات میں اضافہ بنیادی طور پر ہوائی کرایہ، رہائش اور بین الاقوامی خدمات کی لاگت بڑھنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی جیسے اسمارٹ واچ کا اضافہ عازمین کی سہولت اور سکیورٹی کیلئے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔تاہم، قسطوں کی بروقت ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں نہ صرف سفری عمل متاثر ہو سکتا ہے بلکہ عازمین حج کے اہم مرحلے سے بھی محروم ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر حج کمیٹی نے سختی سے ڈیڈ لائن کی پابندی کی ہدایت دی ہے۔حج 2026 کے لیے تیاریوں کا عمل تیزی سے جاری ہے اور ایسے میں مالی ادائیگی کا مرحلہ نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے۔ بنگلور سمیت ملک بھر کے عازمین کو چاہئے کہ وہ مقررہ تاریخ سے قبل اپنی بقایا رقم ادا کرکے آئندہ مراحل کو یقینی بنائیں، تاکہ ان کا مقدس سفر بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔

0/Post a Comment/Comments