سولے کیرے کو کرناٹک نیراوری نگم میں شامل کرنے کا مطالبہ
کسان لیڈر تیجسوئی پٹیل نے بقاء و ترقی پر زور دیا
چنگری 4 مارچ (الطاف رضوی)
تعلقہ کے معروف اور برِاعظم ایشیا کے دوسرے بڑے تالاب سولے کیرے کو کرناٹک نیراوری نگم کے دائرہ کار میں شامل کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں کسان لیڈر اور سابق ضلع پنچایت رکن تیجسوئی پٹیل نے کارگنور قصبہ میں اُڈسلامبا مندر کے احاطہ میں منعقدہ کسانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سولے کیرے کی بقاء اور ترقی کے لیے اسے فوری طور پر نیراوری نگم کے تحت لانا ناگزیر ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سولے کیرے کو 1950ء یا اس سے قبل سرکاری دستاویزات میں "امرت محل کاول" کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ صرف سولے کیرے ہی نہیں بلکہ شیواکُلےنور، رُدراہ پور اور دیگر چند دیہات کی زمینوں کے ریکارڈ میں بھی یہی اندراج پایا جاتا ہے، جس پر کسانوں میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔تیجسوئی پٹیل نے بتایا کہ 2008ء میں بھدرا نہر کی مرمت کے دوران اسے نیراوری نگم میں شامل کیا گیا، مگر سولے کیرے کو اس دائرہ سے باہر رکھا گیا۔ نتیجتاً تب سے اب تک تالاب کی دیکھ بھال اور ترقی کے لیے مناسب فنڈ فراہم نہیں ہورہا ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ تالاب کا پانی تو استعمال کیا جارہا ہے، مگر اس کی حفاظت اور ترقی کی ذمہ داری لینے کے لیے کوئی محکمہ تیار نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال نہروں سے کیچڑ نکالنے کا کام دشوار ہوتا جارہا ہے، جس سے آبپاشی کا نظام متاثر ہورہا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں کسانوں کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔کسان لیڈر نے اعلان کیا کہ آئندہ دنوں میں سولے کیرے کے اطراف کے دیہات کا دورہ کرکے عوام سے مشاورت کی جائے گی اور ایک جامع جدوجہد کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا تاکہ تالاب کو نیراوری نگم میں شامل کرانے کے لیے منظم تحریک چلائی جاسکے۔اجلاس میں ارے ہلی شیوکمار، کتلگیرے گجیندر، منجپا، دیویندرپا، پنچیا، کشٹہلی مہارُدرپا، تپیہ، تپیش، وسنت کمار، بیلل گیرے لکشمن، منجوناتھ، سنگھاہلی بسنا، چردونی کچڑپارا چندرپا، کیشو، کنوئے بلچی انوجی راؤ، کارگنور جے سی منجوناتھ، تپے سوامی، مرگیش، تیاونگی شیومورتیپا، ساہوکار یوگیش اور اشرف کیرے بلچی سمیت دیگر کسان موجود تھے۔
Post a Comment