سپریم کورٹ نے کانگریس ایم ایل اے کے وائی ننجے گوڑا کی جیت برقرار رکھی
مالور اسمبلی حلقہ سے 2023 کے انتخابی نتائج پر مہرِ تصدیق
نئی دہلی، 5 فروری (حقیقت ٹائمز)
سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز کرناٹک کے مالور اسمبلی حلقہ (ضلع کولار) سے کانگریس کے رکنِ اسمبلی کے وائی ننجے گوڑا کے 2023 کے انتخاب کو برقرار رکھتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو منسوخ کر دیا، جس کے تحت ان کا انتخاب کالعدم قرار دیا گیا تھا۔چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوئملیہ باگچی پر مشتمل بنچ نے واضح کیا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد بھی کے وائی ننجے گوڑا اپنے حریف بی جے پی امیدوار کے ایس منجوناتھ گوڑا سے 250 ووٹوں کی برتری کے ساتھ کامیاب رہے، لہٰذا ان کی جیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دوبارہ گنتی کے بعد ننجے گوڑا کو 50,957 ووٹ جبکہ منجوناتھ گوڑا کو 50,707 ووٹ حاصل ہوئے۔ اس طرح ہائی کورٹ کی جانب سے انتخاب منسوخ کرنے کا فیصلہ بے بنیاد ثابت ہوا۔ واضح رہے کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں ننجے گوڑا نے بی جے پی امیدوار کے خلاف 248 ووٹوں کے معمولی فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد منجوناتھ گوڑا نے ووٹنگ میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ میں انتخابی عرضی دائر کی تھی، جس پر ہائی کورٹ نے انتخاب کالعدم قرار دیتے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا۔ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے کے وائی ننجے گوڑا نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اکتوبر 2025 میں سپریم کورٹ نے اپیل سماعت کے لیے قبول کرتے ہوئے ریٹرننگ آفیسر کو ہدایت دی تھی کہ دوبارہ گنتی کے نتائج سیل بند لفافے میں پیش کیے جائیں۔جمعرات کے روز عدالت نے فریقین کی موجودگی میں سیل بند لفافہ کھولا اور نتائج کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ دوبارہ گنتی کے باوجود ننجے گوڑا ہی فاتح ہیں۔سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ کی اُس ہدایت کو بھی منسوخ کر دیا، جس میں الیکشن کمیشن آف انڈیا اور ضلعی الیکشن افسر کے خلاف ووٹوں کی گنتی کی ویڈیو ریکارڈنگ فراہم نہ کرنے پر کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران ویڈیو ریکارڈنگ لازمی ہے یا نہیں، اس سوال پر کوئی حتمی رائے نہیں دی جا رہی۔سپریم کورٹ میں اپیل کنندہ کے وکیل کی حیثیت سے سینئر ایڈووکیٹ ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی نے دلائل پیش کیے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’ہائی کورٹ کی جانب سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی ہدایت پر عمل کے باوجود امیدوار کی جیت برقرار ہے، لہٰذا اپیل منظور کی جاتی ہے اور اپیل کنندہ کا انتخاب برقرار رکھا جاتا ہے۔‘‘
Post a Comment