دارالعلوم رحمانیہ عربی مدرسہ، داونگیرے میں دعائیہ محفل و افطار کا انعقاد
ڈاکٹر سی آر نصیر احمد کی شرکت، طلبہ کی ملکی و عالمی سلامتی کے لیے دعائیں
داونگیرے 26 فروری (الطاف رضوی)
شہر کے قدیم تعلیمی ادارے دارالعلوم رحمانیہ عربی مدرسہ میں مولانا آزاد سماجی و ثقافتی ادارے کے بانی و صدر اور معروف سماجی کارکن ڈاکٹر سی آر نصیر احمد کی جانب سے ماہِ رمضان المبارک کی مناسبت سے طلبہ کے ساتھ دعائیہ محفل اور افطار کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر مدرسے کے طلبہ نے عالمِ اسلام کی خیر و عافیت کے لیے خصوصی دعائیں کیں، ساتھ ہی ملکِ ہند اور خصوصاً شہر داونگیرے کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی دعا کی۔ طلبہ نے رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں کے حصول کی نیت سے منعقدہ اس بابرکت محفل پر ڈاکٹر نصیر احمد کے حق میں بھی دعائیں کیں اور ان کے اس اقدام کو سراہا۔طلبہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نصیر احمد ہمیشہ تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں رہتے ہیں، خواہ وہ دینی تعلیم ہو یا عصری تعلیم۔ وہ طلبہ سے بے حد محبت کرتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔ ان کا یہ جذبہ معاشرے کے دیگر افراد کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے تاکہ تعلیم کی اہمیت عام ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم ایک ایسی روشنی ہے جو انسان کو صحیح راستہ دکھاتی ہے۔ اگر معاشرہ تعلیم سے محروم ہو جائے تو جہالت کا اندھیرا چھا جاتا ہے، لیکن علم کی روشنی سے انسان اپنی منزل خود تلاش کر لیتا ہے۔ اس لیے اہلِ ثروت افراد کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی فکر کریں۔ صرف اداروں اور مخیر حضرات کی کوششیں اس وقت تک مکمل ثمر آور نہیں ہو سکتیں جب تک والدین خود سنجیدہ نہ ہوں۔طلبہ نے اس موقع پر پیغمبرِ اسلام ﷺ کے اس ارشاد کا حوالہ دیا کہ ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں تعلیم حاصل کرنا پہلے کی نسبت آسان ہے کیونکہ ہر گلی اور محلے میں تعلیمی مراکز قائم ہیں، ضرورت صرف شعور اور عزم کی ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ معاشرے میں فضول خرچی عام ہے، مگر جب بچوں کی تعلیم کی بات آتی ہے تو غربت اور تنگ دستی کا عذر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں فضول خرچی سے بچنے اور تعلیم کو ترجیح دینے کی تلقین کی۔آخر میں طلبہ نے ڈاکٹر سی آر نصیر احمد کے والدین اور اہلِ خانہ کے لیے بھی خصوصی دعائیں کیں اور ان کے اس سماجی و تعلیمی خدمت کے جذبے کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
Post a Comment