Samosa Boom in Srinivaspur During Ramadan Boosts Local Economy رمضان میں سموسوں کی دھوم

رمضان میں سرینواس پور میں سموسوں کی زبردست مانگ

روزانہ ہزاروں سموسوں کی فروخت سے مقامی معیشت کو سہارا

سرینواس پور 23 فروری (شبیر احمد)

اسلام کے مقدس مہینے رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی سرینواس پور میں کاروباری سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بالخصوص افطار کے موقع پر استعمال ہونے والی اشیائے خورد و نوش میں سموسوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ اندازوں کے مطابق شہر میں روزانہ 25 سے 30 ہزار سموسے فروخت ہو رہے ہیں، جو ایک چھوٹے شہر کے لحاظ سے نمایاں تعداد ہے۔رمضان المبارک میں مسلمان صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں اور مغرب کے وقت افطار کرتے ہیں۔ افطار میں کھجور، پھل، مشروبات اور دیگر ہلکی غذاؤں کے ساتھ گرم اور خستہ سموسے لازمی جزو بن چکے ہیں۔ روزہ کھولنے کے بعد لذیذ اور گرم غذا کی رغبت کے باعث ہر سال سموسوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔اگرچہ بعض گھرانوں میں سموسے گھروں پر تیار کیے جاتے ہیں، تاہم مصروف طرزِ زندگی اور بازار میں تازہ و معیاری اشیاء کی آسان دستیابی کے سبب بیشتر افراد بازار سے خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔ شام چار بجے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں سموسوں کی دکانوں پر خریداروں کا ہجوم دیکھا جا سکتا ہے۔

آزاد روڈ، جامع مسجد کے اطراف، صوفیہ مسجد، ذاکر حسین محلہ، چنتامنی روڈ اور نورانی مسجد کے قریب تجارتی علاقوں میں افطار سے قبل غیر معمولی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے۔ افطار کے قریب خریداروں کی قطاریں طویل ہو جاتی ہیں اور بعض دکانوں پر ایک گھنٹے میں ہزاروں سموسے فروخت ہو جاتے ہیں۔قریب و جوار کے دیہات سے بھی لوگ افطار کی خریداری کے لیے شہر کا رخ کر رہے ہیں، جس سے بازاروں میں عید جیسا سماں پیدا ہو گیا ہے۔ گاڑیوں کی آمد و رفت میں اضافہ اور سڑکوں پر گہما گہمی نمایاں طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔فی الحال پیاز کے سموسے دس روپے فی عدد کے حساب سے فروخت کیے جا رہے ہیں، جبکہ سائز اور مصالحے کے اعتبار سے بعض مقامات پر قیمت میں معمولی فرق بھی دیکھا جا رہا ہے۔ صارفین ذائقے، معیار اور تازگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اطمینان سے خریداری کر رہے ہیں۔ مقامی دکانداروں کے مطابق گرم اور خستہ سموسے ان کی پہچان ہیں اور صارفین کا اعتماد ہی ان کی اصل کامیابی ہے۔سموسوں کی تیاری کا عمل صبح ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔ پیاز کاٹنے، مصالحہ تیار کرنے، آٹا گوندھنے اور بھرائی تیار کرنے کے مراحل منظم انداز میں مکمل کیے جاتے ہیں۔ دوپہر تک ابتدائی تیاری مکمل ہو جاتی ہے، جبکہ شام چار بجے کے بعد بڑے کڑاہوں میں مسلسل تلنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ بعض مقامات پر ایک وقت میں چار تا پانچ بڑے کڑاہوں میں سموسے تلتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔تاجروں کا کہنا ہے کہ رمضان میں کاروبار عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ جہاں عام دنوں میں تقریباً ایک ہزار سموسے فروخت ہوتے ہیں، وہیں رمضان میں یہ تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ افطار کے وقت صارفین کو کسی قسم کی تاخیر نہ ہو، اس کے لیے وقت کی پابندی اور منظم تیاری کا خاص اہتمام کیا جا رہا ہے۔اس کاروبار سے نہ صرف دکاندار بلکہ دیگر متعلقہ شعبے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ تیل، پیاز، مٹر، ہرا دھنیا، آٹا، مصالحہ جات اور پیکنگ سامان فروخت کرنے والوں کی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یومیہ مزدوروں، معاونین اور پیکنگ کرنے والوں کو اضافی روزگار کے مواقع میسر آ رہے ہیں۔کئی افراد عارضی طور پر سموسوں کی تیاری اور فروخت میں شامل ہو کر اپنے گھریلو اخراجات میں مدد کر رہے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان طبقہ دکانوں میں معاون کے طور پر کام کر رہا ہے، جبکہ بعض طلبہ شام کے اوقات میں جز وقتی ملازمت اختیار کر کے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کر رہے ہیں۔رمضان المبارک عموماً 29 یا 30 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر روزانہ اوسطاً 25 تا 30 ہزار سموسے فروخت ہوں تو ماہ کے اختتام تک مجموعی فروخت آٹھ سے نو لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس طرح رمضان کا مہینہ سرینواس پور کی مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔رمضان المبارک کی مذہبی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ اسی مقدس مہینے میں قرآن مجید نازل ہوا اور روزہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے، جو صبر، ضبطِ نفس اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ دن بھر کی بھوک اور پیاس انسان کو ضرورت مندوں کے حالات کا احساس دلاتی ہے اور معاشرے میں خیرات، بھائی چارے اور باہمی تعاون کو فروغ دیتی ہے۔مجموعی طور پر رمضان المبارک نہ صرف روحانی فضا کو معطر کر رہا ہے بلکہ سماجی اور اقتصادی سرگرمیوں کو بھی تقویت دے رہا ہے۔ سرینواس پور میں سموسوں کی غیر معمولی فروخت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جب مذہبی جذبہ اور مقامی تجارت ہم آہنگ ہو جائیں تو معاشرے میں خوشحالی اور نشاط کی فضا قائم ہوتی ہے۔

0/Post a Comment/Comments