ماں کی محبت کی کوئی قیمت نہیں: کے وی پربھاکر
دیہی صحافت کو ملک کی 70 فیصد آبادی پر توجہ دینے کی ضرورت
گدگ، 26 فروری (حقیقت ٹائمز)
وزیراعلیٰ کے میڈیا مشیر کے وی پربھاکر (کے وی پی) نے کہا ہے کہ ماں کی محبت کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ والدین، جو اپنی ساری زندگی اولاد کی خوشیوں کے لیے قربان کر دیتے ہیں، آج بعض اوقات اولڈ ایج ہومس تک محدود ہو جاتے ہیں، جو نہایت تکلیف دہ امر ہے۔ تاہم انہوں نے بسواراج ہوراٹی کی جانب سے اپنی والدہ کے نام پر کیے جا رہے سماجی کاموں کو قابلِ تقلید قرار دیا۔وہ کرناٹک ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور مہاتما گاندھی دیہی ترقی و پنچایت راج یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقدہ ’’اوّا سیوا ٹرسٹ ماتوشری گُرووّا شیولنگپا ہوراٹی یادگاری فنڈ پروگرام‘‘ میں ’’تنوجا نائک‘‘ کو ایوارڈ پیش کرنے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ماتوشری گُرووّا شیولنگپا ہوراٹی اس پروگرام کی اصل روح ہیں۔ ان کی پرورش، اقدار اور خوابوں کی عکاسی اس اعزاز کے ذریعے ہو رہی ہے، اور سنندا نائک (تنوجا نائک) کا انتخاب نہایت موزوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض شخصیات اپنے انتقال کے بعد بھی عوام کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں، اور آج کا یہ پروگرام اسی بات کا ثبوت ہے۔مسٹر پربھاکر نے کہا کہ تنوجا نائک مسلسل ایسے مضامین تحریر کر رہی ہیں جو خواتین کے مسائل، خاندانی اقدار، سماجی بیداری اور زندگی سے محبت کا پیغام دیتے ہیں، اور نوجوان صحافیوں کے لیے مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ دیہی صحافت کا ذکر آتے ہی معروف صحافی پی سائی ناتھ یاد آتے ہیں۔ ان کی کتاب کو دیہی صحافت کی ’’بائبل‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری مرکزیت پر مبنی صحافت ترقی کو صرف جی ڈی پی یا شیئر بازار کے اتار چڑھاؤ سے جوڑ دیتی ہے، جب کہ حقیقی ترقی دیہی عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری اور دیہی معیشت کے استحکام میں پوشیدہ ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ نوٹ بندی کے دوران شہری معیشت کو شدید دھچکا لگا، مگر دیہی معیشت نے ملک کو مکمل بحران سے بچایا۔ کووڈ کے دور میں دیہی خواتین کی چھوٹی بچتوں نے ہزاروں خاندانوں کو سہارا دیا۔انہوں نے کہا کہ صحافت کو بالائی سطح کی معاشی ترقی کے بجائے دیہات کے عوام کی صحت، تعلیم اور پینے کے پانی جیسے بنیادی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ اضلاع کے کے ڈی پی اجلاسوں میں متعلقہ اضلاع سے متعلق اخباری رپورٹس کا جائزہ لیتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر افسران سے باز پرس بھی کرتے ہیں۔آلودہ پانی سے اموات، فصلوں کی بیماریوں اور خشک سالی یا سیلاب سے متعلق رپورٹس نے حکومت کو بروقت اقدامات پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں اور صحافت کے طلبہ کو اسٹوڈیوز میں بحث کرنے کے بجائے دیہات کا رخ کرنا چاہیے اور عوام کے مسائل کو قریب سے سن کر رپورٹ کرنا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ خشک سالی اور سیلاب کے نام پر آنے والے فنڈز کے غلط استعمال کو بے نقاب کرنا دیہی صحافیوں کی ذمہ داری ہے۔ کسانوں کی خودکشیوں اور زرعی بحران جیسے معاملات میں صحافیوں کو سپاہیوں کی طرح آگے آنا چاہیے اور اصل قرض کے بوجھ اور پالیسیوں کے منفی اثرات کو سامنے لانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ’’اگر صحافت سماج کا آئینہ ہے تو اس آئینے میں بھارت کی 70 فیصد آبادی پر مشتمل دیہات نظر آنے چاہئیں۔ اسی آئینے میں ودھان سودھا میں بیٹھے حکام کو بھی اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔‘‘اس موقع پر قانون ساز کونسل کے چیئرمین بسواراج ہوراٹی، اعزاز یافتہ تنوجا نائک، ضلع صحافی سنگھ کے عہدیداران اور یونیورسٹی کے رجسٹرار سریش ناڈگاؤڈ سمیت دیگر معززین موجود تھے۔

Post a Comment