امارتِ شرعیہ کرناٹک کی ائمہ و خطباء سے امن و انسدادِ منشیات پر خصوصی اپیل
خطبۂ جمعہ میں بھائی چارے، امن و امان اور رمضان کی حرمت اجاگر کرنے کی گزارش
بنگلورو، 26 فروری (حقیقت ٹائمز)
امارتِ شرعیہ کرناٹک، دارالعلوم سبیل الرشاد عربک کالج، رشاد نگر، بنگلورو کی جانب سے ریاست بھر کے ائمہ و خطباء حضرات کے نام ایک اہم اپیل جاری کی گئی ہے، جس میں موجودہ حالات کے پیش نظر خصوصی رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ بعض اسلام مخالف اور فاشسٹ طاقتیں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کو متاثر کرنے کے لیے منظم انداز میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایسے عناصر مسلمانوں کی معمولی لغزش یا کسی بھی غیر ذمہ دارانہ حرکت کو بہانہ بنا کر حالات کو بگاڑنے کی تاک میں رہتے ہیں۔بیان میں حالیہ باگل کوٹ کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسی طرح شیموگہ اور مرڈیشور میں بھی نوجوانوں کے باہمی معاملات، خصوصاً نشے کی حالت میں پیش آنے والے واقعات کو انتشار کا سبب بنایا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں ائمہ و خطباء کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ حالات کو قابو میں رکھنے اور نوجوانوں کی دینی، ایمانی اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔امارتِ شرعیہ نے تمام ائمہ و خطباء سے پرخلوص گزارش کی ہے کہ وہ آئندہ خطبۂ جمعہ میں اپنے منتخبہ موضوع کے ساتھ ساتھ معاشرے میں امن و امان کی بحالی، منشیات کی حرمت، نشہ آور اشیاء کے استعمال کی قباحت اور بالخصوص ماہِ رمضان میں ان سے مکمل اجتناب کے موضوعات کو شامل کریں۔ ساتھ ہی ریاست کے امن، ترقی اور بھائی چارے کے قیام میں مسلمانوں کے مثبت کردار کو اجاگر کرنے پر بھی زور دیا جائے۔بیان میں اس بات پر بھی تاکید کی گئی ہے کہ رمضان المبارک، خصوصاً اس کی مقدس طاق راتوں کی حرمت کا خیال رکھا جائے اور ہر قسم کی فضولیات اور انتشار سے معاشرے کو محفوظ رکھا جائے۔یہ اپیل امارتِ شرعیہ کرناٹک کے ذمہ داران کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جن میں مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی، مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی اور مولانا مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی شامل ہیں۔امارتِ شرعیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ائمہ و خطباء اس اپیل پر سنجیدگی سے عمل کرتے ہوئے ریاست میں امن و استحکام کے قیام میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

Post a Comment