Development Continues Despite Welfare Schemes: CM Siddaramaiah نوَلگُند کو مثالی حلقہ بنانے کے لیے جامع ترقیاتی اقدامات

گارنٹی اسکیموں کے باوجود ریاست میں ترقی جاری ہے: سدارامیا

نوَلگُند میں سیلاب کنٹرول منصوبے اور ترقیاتی کاموں کا آغاز

ہبلی، 8 فروری (حقیقت ٹائمز)

وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ نوَلگُند اسمبلی حلقہ میں وسیع پیمانے پر ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا گیا ہے اور اس حلقے کو ایک مثالی حلقہ بنانے کے لیے حکومت پوری سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اَنّیگیری میں یو جی ڈی (زیرِ زمین نکاسی آب) منصوبے پر آئندہ بجٹ میں غور کیا جائے گا۔وزیرِ اعلیٰ آج ہبلی تعلقہ کے شیرگوپی گاؤں میں محکمہ آب وسائل اور کرناٹک نیراوری نگم لمیٹڈ کے اشتراک سے منعقدہ بیّنےہلّا نالے کے سیلاب کنٹرول منصوبے کے سنگِ بنیاد اور نوَلگُند اسمبلی حلقہ میں مختلف ترقیاتی کاموں کے افتتاح و سنگ بنیاد پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چراغ روشن کر کے پروگرام کا افتتاح کیا۔انہوں نے کہا کہ بیّنےہلّا نالے کے سیلاب کنٹرول منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا جا چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کئی دیگر ترقیاتی کاموں کا افتتاح بھی کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے نوَلگُند کے رکنِ اسمبلی این ایچ کونریڈی کی ستائش کرتے ہوئے انہیں ایک دیانتدار اور مخلص عوامی نمائندہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ 200 کروڑ روپے کی لاگت سے بیّنےہلّا نالے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جو رکنِ اسمبلی کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل 1610 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت والی تفصیلی رپورٹ مرکزی حکومت کو پیش کی گئی تھی، لیکن مرکز کی جانب سے تاخیر کے باعث اب ابتدائی طور پر 200 کروڑ روپے کی لاگت سے کام شروع کیا جا رہا ہے۔ اس نالے میں سیلاب کے باعث ماضی میں 37 دیہات اور تقریباً 20 ہزار ہیکٹر زرعی رقبہ متاثر ہوتا رہا ہے۔ علاوہ ازیں، نوَلگُند حلقہ میں 150 کروڑ روپے کی لاگت سے مختلف ترقیاتی کاموں کو بھی منظوری دی گئی ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ گارنٹی اسکیموں کی وجہ سے ریاست میں ترقی نہیں ہو رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاست بھر میں متعدد ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کلسا بندوری منصوبے کو 2018 میں سپریم کورٹ کی منظوری حاصل ہو چکی ہے، ٹینڈر جاری ہو چکے ہیں اور جیسے ہی مرکزی حکومت اجازت دے گی، کام فوراً شروع کر دیا جائے گا۔انہوں نے الزام لگایا کہ کرشنا اپر بیسن منصوبہ (تیسرا مرحلہ) اور میکے داٹو پراجیکٹ مرکزی حکومت کی منظوری کے سبب تعطل کا شکار ہیں۔ اسی طرح بھدرا اپر بیسن منصوبے کے لیے اعلان کردہ 5300 کروڑ روپے کی رقم اب تک جاری نہیں کی گئی۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ منریگا جیسے روزگار پر مبنی منصوبوں کو ختم کرنا غریبوں، خواتین اور بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔گارنٹی اسکیموں پر بات کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ اب تک 1.16 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں اور سالانہ 54 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم ان اسکیموں پر خرچ کی جا رہی ہے، جس کے تحت ہر خاندان کو ماہانہ 4 سے 5 ہزار روپے کا براہِ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرناٹک مرکزی حکومت کو سالانہ 4.5 لاکھ کروڑ روپے سے زائد ٹیکس دیتا ہے، لیکن بدلے میں ریاست کو محض 60 ہزار کروڑ روپے واپس ملتے ہیں۔ منریگا کی بحالی کے لیے ریاست بھر میں جدوجہد کی جائے گی۔

بیّنےہلّا نالہ، ہاویری ضلع کے شِگّاؤں تعلقہ کے دھُندسی کے قریب نکل کر دھارواڑ، گدگ اور بیلگاوی اضلاع سے گزرتا ہوا تقریباً 148 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ملپربھا ندی میں شامل ہوتا ہے۔ بارش کے موسم میں اس نالے کے کنارے واقع دیہات میں اچانک سیلاب آ جاتا ہے، جس سے دھارواڑ اور گدگ اضلاع کے 37 دیہات میں بھاری نقصان ہوتا رہا ہے۔سیلاب کے مستقل حل کے لیے تیار کی گئی تفصیلی منصوبہ رپورٹ کی بنیاد پر 2024-25 کے بجٹ میں وزیرِ اعلیٰ نے ریاستی آفات امدادی فنڈ  کے تحت 200 کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے کے لیے انتظامی منظوری دی جا چکی ہے، ٹینڈر عمل مکمل ہو چکا ہے اور آج شیرگوپی گاؤں کے قریب اس منصوبے کا باقاعدہ سنگِ بنیاد رکھا گیا۔اس کے ساتھ نوَلگُند اسمبلی حلقہ میں 150 کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی کاموں کا بھی آغاز کیا جا رہا ہے۔

0/Post a Comment/Comments