CM Siddaramaiah Hits Back at BJP Over Urdu Advertisement Row اُردو اشتہار معاملہ: سدارامیا کا سخت ردِعمل

اُردو اشتہار پر تنازعہ: وزیرِ اعلیٰ سدارامیا کا اپوزیشن پر دوغلے پن کا الزام

سرکاری اشتہارات مختلف زبانوں میں دینا معمول کا عمل، بی جے پی کی تنقید مسترد

بنگلورو، 26 فروری (حقیقت ٹائمز) 

 وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے ایک اُردو اخبار میں شائع ہونے والے سرکاری اشتہار پر اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ’’دوغلا پن‘‘ قرار دیا ہے۔اپنے بیان میں وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن قائدین کی جانب سے اُردو اشتہار کی مخالفت میں دیے گئے بیانات سنے ہیں، حالانکہ جب وہ خود اقتدار میں تھے تو متعدد مرتبہ اُردو زبان میں سرکاری اشتہارات جاری کر چکے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ سابق وزرائے اعلیٰ بی ایس یڈیورپا یورپا اور بسواراج بومئی کے دورِ حکومت میں اُردو اشتہارات کس خوشنودی کے لیے جاری کیے گئے تھے؟۔سدارامیا نے وضاحت کی کہ حکومت اپنے پروگراموں اور فلاحی اسکیموں کی معلومات عوام تک پہنچانے کے لیے مختلف زبانوں کے اخبارات میں اشتہارات دیتی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پیغام پہنچ سکے۔ ان کے مطابق جس زبان کے قارئین ہوں، اسی زبان میں اشتہار دینا ایک پرانا اور معمول کا طریقہ کار ہے، تاکہ عوام کو معلومات بخوبی سمجھ میں آ سکیں اور اشتہار کا مقصد پورا ہو۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین نے ماضی میں کئی بار اُردو اشتہارات جاری کیے، اس وقت انہیں یہ عمل خوشامد نہیں لگا۔ مگر موجودہ حکومت کے اُردو اشتہار پر اچانک ’’کنڑ محبت‘‘ جاگ اٹھنا محض منافقت ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے مزید کہا کہ کنڑ زبان اور کرناٹک کے مفادات کے تحفظ کے لیے انہیں کسی سے سبق لینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی سیاسی زندگی کے آغاز سے ہی کنڑ کے تحفظ کی تحریک سے وابستہ رہے ہیں اور کنڑ ان کے لیے صرف زبان نہیں بلکہ زندگی کا حصہ ہے۔

0/Post a Comment/Comments