سنتے بنور کالج میں علمی سمپوزیم، تاریخ کی درست جانکاری پر زور
بسوراج وی شیوگنگا کا کتب خانے اور نئی عمارت کے لیے 1.75 کروڑ کی منظوری کا اعلان
چنگری 17 فروری (الطاف رضوی)
تعلقہ کے سنتے بنور سرکاری ڈگری کالج میں کرناٹک آرکائیوز محکمہ، داونگیرے یونیورسٹی اور ہسٹری ٹیچرس فورم کے اشتراک سے ’’وسطی کرناٹک پر نوآبادیاتی اثرات‘‘ کے موضوع پر ایک علمی سمپوزیم منعقد کیا گیا۔تقریب کا افتتاح مقامی رکنِ اسمبلی بسوراج وی شیوگنگا نے کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے قومی تاریخ پر اس نوعیت کے سمپوزیم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاریخ کی درست جانکاری اور شعور کی بیداری آج کے دور کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سنتے بنور سرکاری ڈگری کالج میں کتب خانے کے قیام اور نئی عمارت کی تعمیر کے لیے ایک کروڑ پچہتر لاکھ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ہمپی کنڑا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ویروپاکشا پوجاراہلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقامی نوجوان تاریخ کے میدان میں تحقیق کے حوالے سے لاپرواہی کا شکار ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ تحقیق، مطالعہ، تحریر اور تقریر میں دلچسپی پیدا کریں اور علمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اس موقع پر کرناٹک اوپن یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سربراہ سی رامے گوڈا، آئی سی اے کے صدر ایم جیپا، تاریخ کے محققین سمتیندر ناڈگ اور بی پی کمار، کالج کے پرنسپل ایس سریش، کے سراج احمد، بی این راجو، راج شیکھر سمیت دیگر معززین اور اساتذہ شریک تھے۔ پروگرام میں تاریخ کے مختلف پہلوؤں پر مقالات پیش کیے گئے اور علمی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
Post a Comment