فلاحی ریاست اور سماجی انصاف پر زور
سینئر سول جج کا آئین ہند کے ہدایتی اصولوں پر تفصیلی اظہارِ خیال
کلبرگی، 11 فروری (حقیقت ٹائمز)
اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) اور ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی (ڈی ایل ایس اے) کلبرگی کے اشتراک سے 10 فروری 2026 کو بوقت 11 بجے دن ہدایت سنٹر، سنگترش واڈی، درگاہ روڈ، کلبرگی میں اے پی سی آر کی ضلعی کمیٹی کا پہلا باقاعدہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا موضوع ’’آئین اور جمہوریت‘‘ تھا، جس میں معزز سینئر سول جج و ممبر سکریٹری ڈی ایل ایس اے کلبرگی، سری سرینیواس ناؤلے نے کلیدی خطاب کیا۔اپنے تفصیلی خطاب میں سری سرینیواس ناؤلے نے آئین ہند کے حصہ چہارم (آرٹیکل 36 تا 51) میں شامل ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصولوں (ڈی پی ایس پی) پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ دفعات براہِ راست عدالتوں کے ذریعے قابلِ نفاذ نہیں ہیں، تاہم ایک فلاحی ریاست کے قیام، سماجی و معاشی انصاف کی فراہمی اور حکمرانی کے بنیادی اصول متعین کرنے میں ان کی غیرمعمولی اہمیت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کا بنیادی فریضہ سماجی و معاشی عدم مساوات کو کم کرنا اور عوامی بہبود کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے آرٹیکل 39 کے حوالے سے کہا کہ دولت کی منصفانہ تقسیم، سب کے لیے روزگار کے مواقع، مناسب اجرت اور استحصال سے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 39-اے کے تحت غریب اور پسماندہ طبقات کو مفت قانونی امداد فراہم کرنا آئینی تقاضا ہے۔ انہوں نے پنچایتی راج نظام کے ذریعے دیہی خود مختاری کے فروغ، درج فہرست ذاتوں و قبائل اور دیگر کمزور طبقات کے تعلیمی و معاشی مفادات کے تحفظ، مزدوروں کے لیے بہتر کام کے حالات، اور بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق آئینی ہدایات کا بھی تفصیلی ذکر کیا۔سینئر سول جج نے اپنے خطاب میں انتخابات، قانون سازی، انتظامی عدلیہ، لینڈ ریفارمز ایکٹ، آئینی ترامیم، سماجی انصاف، غریبوں میں زمین کی تقسیم، دیہی ترقی، فلاحی ریاست کا تصور، گھریلو تشدد سے متعلق قانون، بزرگ شہریوں کے حقوق، ایس سی/ایس ٹی ریزرویشن اور ای ڈبلیو ایس سے متعلق امور پر بھی جامع روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آئین محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ایک منصفانہ اور جمہوری معاشرے کی تشکیل کا ضامن ہے۔اس موقع پر شریمتی سویتا گری نے اسکرین پر سلائیڈز کے ذریعے آئین کی بنیادی معلومات اور اہم دفعات کو عام فہم انداز میں پیش کیا، جس سے حاضرین کو آئینی نکات کو سمجھنے میں آسانی ہوئی۔ اسٹیج پر ڈاکٹر ماجد داغی، ضلعی ایڈوائزر اے پی سی آر، بھی موجود تھے۔اجلاس کے اختتام پر ریٹائرڈ تحصیلدار و اعزازی ضلعی صدر اے پی سی آر جناب نثار احمد وزیر نے مہمانانِ خصوصی اور شرکائے اجلاس کا شکریہ ادا کیا، جبکہ ڈاکٹر وسنت کمار پرتاپے، ایڈوکیٹ و ضلعی نائب صدر اے پی سی آر نے نظامت کے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیے۔اجلاس میں نائب صدور ڈاکٹر محمد سمیر پٹیل، ایڈوکیٹ عبدالقدیر چنچولی، سیکریٹری میر ہاشم علی خطیب، جوائنٹ سیکریٹری وِرنّا گوڈا پاٹل، معراج الدین پٹیل، انجینئر عبدالقادر، یوسف جعفر پٹیل، سبھاش چند بینکنّلی، چندرکانت، بنڈو پٹنائک، عبدالقدیر ملت ہیلپ لائن، قمر جنید، راج کمار الند، ہنومنتھ کالنور سمیت اے پی سی آر کے اراکین کی کثیر تعداد موجود تھی۔اجلاس کو آئینی بیداری اور شہری حقوق کے شعور کو فروغ دینے کی ایک اہم کاوش قرار دیا گیا۔
Post a Comment