مسلم اور پسماندہ طبقات کے طلبہ تین برس سے اسکالرشپ سے محروم
وزیراعلیٰ کے خلاف ایچ ڈی کماراسوامی کا سخت الزام
ہاسن 21 جنوری (حقیقت ٹائمز)
مرکزی وزیر اور جنتا دل (سیکولر) کے سینئر رہنما ایچ ڈی کماراسوامی نے ریاستی حکومت اور وزیراعلیٰ سدارامیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پسماندہ اور اقلیتی طبقات کے غریب طلبہ کو گزشتہ تین برسوں سے تعلیمی وظیفہ (اسکالرشپ) نہیں دیا گیا، جو اہندا کے دعووں کے سراسر خلاف ہے۔ ہاسن میں ہونے والے جے ڈی ایس کے مجوزہ اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی میں جاری اندرونی رسہ کشی کی وجہ سے ریاست کی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ اپنی کرسی بچانے کے لیے مختلف حربے آزما رہے ہیں، لیکن اقتدار کی اس لڑائی میں غریب طبقات کے بچوں کے مستقبل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ایچ ڈی کماراسوامی نے کہا کہ 2023، 2024 اور 2025 کے دوران تعلیمی شعبے میں تقریباً 1.64 لاکھ، دلت اور مسلم طلبہ کو اسکالرشپ نہیں ملی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیراعلیٰ واقعی اہندا کے رہنما ہیں تو پھر ان طبقات کے طلبہ کو ان کا حق کیوں نہیں دیا گیا؟۔انہوں نے کہا کہ اہندا کے نام پر ان برادریوں کو محض سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ گزشتہ تین برسوں سے ان کے بچوں کو مالی امداد سے محروم رکھا گیا۔ حکومت کی جانب سے مالی محکمے کو ذمہ دار ٹھہرانے پر انہوں نے سوال کیا کہ آخر مالی محکمہ کس کے ماتحت ہے؟ ان کے مطابق یہ حکومت اہندا طبقات کے ساتھ کھلی غداری کر رہی ہے۔

دیوَدُرگ حلقے کی جے ڈی ایس رکنِ اسمبلی کریما نائک کو مبینہ دھمکیوں کے معاملے پر بھی کماراسوامی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ حکومت کے طرزِ عمل کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں آئے دن دھمکیاں اور دباؤ ڈالنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، لیکن حکومت کارروائی میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔انہوں نے راجیو گوڑا کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دھمکی دینے کے باوجود ابھی تک گرفتاری عمل میں نہیں آئی، حالانکہ وزرائے داخلہ دعوے کر رہے ہیں کہ تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مسٹر کماراسوامی نے 24 جنوری کو ہونے والے جے ڈی ایس اجلاس کی تیاریوں کا بھی معائنہ کیا۔ سابق وزیر ایچ ڈی ریونا کے ساتھ انہوں نے مقامِ اجلاس کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہاسن ضلع جنتا دل کے لیے کرم بھومی ہے، یہی وہ سرزمین ہے جس نے پارٹی کو طاقت دی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسی ضلع سے پارٹی تنظیم کو نئی سمت دی جائے گی اور 2028 کے اسمبلی انتخابات کے ساتھ ساتھ مقامی اداروں کے انتخابات کے لیے مضبوط تیاری کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کے سوال پر ایچ ڈی کماراسوامی نے کہا کہ ان کی پارٹی نے اس موضوع پر ابھی کوئی بحث نہیں کی ہے۔ انہوں نے کانگریس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے 135 نشستیں جیتیں تو کیا وہ ای وی ایم کے ذریعے جیتی تھیں یا بیلٹ پیپر سے؟ اس کا جواب عوام کو دیا جانا چاہیے۔اس موقع پر سابق وزراء، اراکینِ اسمبلی اور جے ڈی ایس کے کئی سینئر رہنما موجود تھے۔
Post a Comment