Stray dogs terrorize Srinivasapur; civic apathy sparks outrage آوارہ کتوں کی دہشت، بلدیہ کی لاپرواہی

آوارہ کتوں کی دہشت سے غفار خان محلہ مفلوج

بلدیہ کی لاپرواہی پر عوام میں شدید غم و غصہ

سرینواس پور7 جنوری (شبیر احمد) 

شہر کے غفار خان محلہ میں واقع خان صاحب مسجد کے اطراف آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی دہشت نے عوامی زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ حال ہی میں آوارہ کتوں کے حملے میں بکریوں کی ہلاکت کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے۔روز بروز آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کے باعث بچے، خواتین اور بزرگ گھروں سے باہر نکلنے میں بھی خوف محسوس کر رہے ہیں۔ صبح اور شام کے اوقات میں آوارہ کتے جھنڈ کی صورت میں گلیوں میں گھومتے نظر آتے ہیں اور راہگیروں پر اچانک حملہ آور ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اسکول جانے والے معصوم بچوں کو کتوں کے خوف کے سبب والدین کے ساتھ جانا پڑ رہا ہے، جب کہ کام پر جانے والے مزدور اور تاجر بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔چند روز قبل بچوں اور بزرگوں کا پیچھا کر کے کاٹنے کی کوشش کے واقعات پیش آنے سے عوام میں خوف مزید بڑھ گیا ہے۔ مقامی مکینوں کا کہنا ہے کہ “ایسا لگتا ہے کہ بچوں کو گھر سے باہر بھیجنا خطرے سے خالی نہیں رہا۔ ہر وقت یہی اندیشہ رہتا ہے کہ کب کتے حملہ کر دیں۔”علاقہ کے مکینوں کے مطابق اس مسئلہ کے تعلق سے کئی مرتبہ بلدیہ کے افسران کو شکایات درج کروائی گئیں، مگر تاحال کوئی ٹھوس اور مستقل حل سامنے نہیں آیا۔ آوارہ کتوں پر قابو پانے کے لیے سپریم کورٹ اور حکومت کی جانب سے واضح رہنما ہدایات موجود ہونے کے باوجود بلدیہ کی جانب سے ان پر مؤثر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا، جس پر عوام سخت ناراض ہیں۔شہریوں کا الزام ہے کہ آوارہ کتوں کی نس بندی (اسٹرلائزیشن)، ویکسینیشن اور پکڑ دھکڑ کی کارروائیاں صرف کاغذات تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس سنگین مسئلہ پر متعلقہ حکام کی چشم پوشی ناقابلِ معافی ہے۔عوامی جان و مال کے تحفظ سے جڑے اس مسئلہ کو بلدیہ انتظامیہ کو فوری طور پر سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلا تاخیر آوارہ کتوں کی پکڑ، نس بندی اور ویکسینیشن کے پروگراموں کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔ بصورتِ دیگر مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی مکمل ذمہ داری بلدیہ پر عائد ہوگی، جس کی عوام نے سخت وارننگ دی ہے۔

0/Post a Comment/Comments