Education Without Values Is a Silent Threat to Nations, Says Dr. Abdul Jabbar تعلیم، والدین کی ذمہ داری اور کیریئر گائیڈنس پر کامیاب سیمینار
byHAQEEQAT TIMES (Administrator)-0
مقدار نہیں، معیار پر مبنی تعلیم قوموں کو آگے بڑھاتی ہے: ڈاکٹر عبدالجبار
تعلیم سے محرومی کسی بھی ملک کو تباہ کرنے کے لیے جنگ سے زیادہ خطرناک ہے
ٹمکورو 6 جنوری (حقیقت ٹائمز)
اکیسویں صدی میں جب دنیا خلاؤں اور نئی سائنسی ایجادات کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، ہم اب بھی اپنی بنیادی شناخت اور بقا پر بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ موبائل فون کی حد سے زیادہ وابستگی نے نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بالخصوص اقلیتی طبقے میں معیاری اور مقصدی تعلیم کے رجحان کو فروغ دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر سائنس داں ڈاکٹر عبدالجبار نے کیا۔وہ شہر کے سنٹرل لائبریری کے اجلاس ہال میں تحریکِ اردو ادب، گلوبل شاہین کالج ٹمکورو ،اور محکمہ اقلیتی بہبود کے اشتراک سے منعقدہ “اکیسویں صدی میں تعلیم اور والدین کی ذمہ داری” کے موضوع پر منعقدہ سمینار و کیریر گائیڈینسو اسکالرشپ پروگرام کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جو شاہین ادارہ جات بیدر کے شکشا یاترا پروگرام کے حصہ کے طور پر منعقد کیا گیا تھا ۔
ڈاکٹر عبدالجبار نے کہا کہ کسی بھی ملک کو تباہ کرنے کے لیے جنگ ضروری نہیں، اگر اس قوم کو اقدار پر مبنی تعلیم سے محروم کر دیا جائے تو زوال خود بخود آ جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا بن کر رہ گیا ہے، جبکہ تعلیم دراصل شعور، فکر اور شخصیت سازی کا ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتی طبقے کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں، مگر بدقسمتی سے زیادہ تر توجہ صرف انجینئرنگ اور میڈیکل جیسے محدود شعبوں تک مرکوز ہو گئی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان وکالت، عدلیہ، سرکاری خدمات، انتظامی شعبوں اور دیگر علمی میدانوں کی طرف بھی متوجہ ہوں اور ہمہ جہت علمی صلاحیتیں پیدا کریں۔انہوں نے نئی تعلیمی پالیسی 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم محض دولت کمانے کا راستہ نہیں بلکہ علم کی منتقلی اور تنقیدی سوچ کی تربیت ہے۔ کسی بھی مسئلے کو سمجھنا، اس کا تجزیہ کرنا اور نتیجہ اخذ کرنا ایک باشعور طالب علم کی پہچان ہونی چاہیے۔آر سی سی آئی کے ریاستی صدر سید مُمتاز منصوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقلیتی طبقے کی موجودہ تعلیمی اور سماجی پسماندگی کے لیے کسی اور کو موردِ الزام ٹھہرانا بے معنی ہے، اس کے اصل ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ماضی میں ہمارے امرا، تاجر اور حکمراں تعلیمی ادارے قائم کرنے کے بجائے ذاتی جائیدادیں جمع کرنے میں مصروف رہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم صنعتی انقلاب اور جدید ترقی کے ثمرات سے محروم رہ گئے۔انہوں نے کہا کہ آج امریکہ، جاپان اور چین جیسے ممالک علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سپر پاور بن چکے ہیں، جبکہ ہم ابھی بنیادی سوالات میں الجھے ہوئے ہیں۔ دوسری قومیں مصنوعی ذہانت، کوانٹم تھیوری اور نئی سائنسی ایجادات پر کام کر رہی ہیں، اور ہم صرف تیار شدہ ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔انہوں نے والدین کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی شخصیت سازی میں والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے طرزِ عمل پر نظر رکھیں، بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں سے باخبر رہیں اور اساتذہ سے مسلسل رابطہ قائم رکھیں۔تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے ڈی ڈی پی آئی رگھونندرا چندر نے کہا کہ تعلیم ایک طاقتور ہتھیار ہے جو انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے۔ ماضی میں لڑکوں کی تعلیم کو فوقیت دی جاتی تھی، مگر آج لڑکیوں کو بھی مساوی مواقع میسر آ رہے ہیں۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں کتاب سے ہمارا رشتہ کمزور پڑتا جا رہا ہے اور ہم موبائل فون کے غلام بنتے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی تعلیم کو فروغ دیا جائے جو ذہن کو جِلا بخشے اور فکر کو وسعت دے۔ انہوں نے اردو زبان و ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو ادب نے مقابلہ جاتی امتحانات میں بھی اپنی افادیت ثابت کی ہے اور محنت و مسلسل مشق سے ہر ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔دیگر مقررین اور شرکاءاس موقع پر کیریئر کونسلر و لائف کوچ عتیق الرحمٰن،گلوبل شاہین کالج ٹمکورو کے افضل شریف ،ٹمکورو یونیورسٹی مائنارٹی سیل کے ڈاکٹر نور افزاء ، کے ایم ڈی سی کے ضلعی مینیجر محمد عظیم اللہ، وکیل خالد سہیل، اردو ای سی او مزمل پاشا، صنعت کار تاج الدین شریف، نثار احمد عمری اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔ سمینار میں اساتذہ، طلبہ، والدین اور سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
بعد ازاں دوپہر کے سیشن میں کیریئر کونسلر و لائف کوچ عتیق الرحمن نے طلبہ و والدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش نہ کریں اور ان کی مرضی کے مطابق اپنا کیریئر و کورسز منتخب کرنے کی آزادی دیں۔انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ موبائل فون کے عادی بننے کے بجائے اپنے کیریئر کو بنانے پر توجہ دیں تاکہ ان کا مستقبل سنورسکے ،اس موقع پر گلوبل شاہین کالج کے افضل شریف نے کہا کہ شاہین ادارہ جات بیدر کے شکشا یاترا کے تحت یہ پروگرام منعقد ہوا ہے ، شاہین بیدر کے ڈائریکٹر شاہنور نے کہاکہ گزشتہ تین ہفتوں سے یاترا کے دوران ریاست کے اکثر اضلاع کا احاطہ کیا گیا ، جس کا مقصد طلبہ کو مناسب وقت میں مناسب رہنمائی فراہم کرنا ہے ۔تحریک اردو ادب کے تاج الدین شریف نے کہا کہ اقلیتی بالخصوص مسلم طلبہ اور والدین کیلئے دن بھر کا یہ پروگرام منعقد کیا گیا جو نہایت کامیاب رہا۔اس موقع پر مولانا آزاد اسکولوں کے ہونہار طلبہ کے علاوہ شہر کے ممتاز عالم دین مولانا ضیاء الرحمن ندوی صاحب اور وظیفہ یاب وقف افسر آصف اللہ کو تہنیت پیش کی گئی ۔اس موقع پر شاہین اسکول ٹمکورو کے مکرم سعید ، افسر خان کے علاوہ دیگر عمایدیں موجود تھے۔
Post a Comment