Kodi Math Swami ji Inaugurates Mosque, Interfaith Unity on Display in Arsikere مسجدِ اقصیٰ کے افتتاح کے موقع پر ارسیکیرے میں بین المذاہب شرکت

کوڈی مٹھ سوامی جی کے ہاتھوں مسجدِ اقصیٰ کا افتتاح

ارسیکیرے میں مذہبی ہم آہنگی، باہمی احترام اور مشترکہ ثقافت کا نادر منظر

ہاسن (ارسیکیرے)، 8 جنوری (حقیقت ٹائمز)

ضلع کے ارسیکیرے تعلقہ کے ہارنہلّی گاؤں میں  نو تعمیر شدہ مسجدِ اقصیٰ کا افتتاح کوڈی مٹھ  کے سربراہ، نجومی اور معروف روحانی پیشوا شیوانند شیویوگی راجندر سوامی جی کے دستِ مبارک سے انجام پایا۔ اس موقع پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور انسانی یکجہتی کا ایسا خوبصورت منظر دیکھنے کو ملا جو آج کے دور میں ایک روشن مثال بن گیا۔ افتتاحی تقریب میں گاؤں کے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین، طلبہ، سماجی کارکنان اور معززین نے مسجد کا دورہ کیا اور بعد ازاں مشترکہ ضیافت میں شرکت کی، جو باہمی اعتماد اور بھائی چارے کی علامت بن گئی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سوامی شیوانند شیویوگی راجندر سوامی جی نے کہا کہ“مسجد، مندر اور چرچ محض عبادت گاہیں نہیں بلکہ یہ انسانیت کو فروغ دینے والے مقدس مراکز ہیں۔ مذاہب الگ ہو سکتے ہیں، مگر ہمارا مقصد ایک ہے — امن، باہمی ہم آہنگی اور انسانی فلاح۔ ہارنہلّی میں مسجدِ اقصیٰ کا افتتاح فرقہ وارانہ یکجہتی کا ایک طاقتور پیغام ہے۔ اگر تمام مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے زندگی گزاریں تو سماج مزید مضبوط بن سکتا ہے۔”سوامی جی کی سادہ طبیعت، وسیع النظر سوچ اور ہمہ گیر مقبولیت نے اس تقریب کو ایک یادگار لمحہ بنا دیا۔ عوامی حلقوں میں انہیں مذہبی ہم آہنگی کا سفیر تصور کیا جاتا ہے، اور ان کی موجودگی نے تقریب کو غیر معمولی وقار بخشا۔اس موقع پر سابق مرکزی وزیر سی۔ایم۔ ابراہیم نے کہا کہ“ہندوستان کی اصل طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب میں پوشیدہ ہے۔ یہاں مذہب، ذات اور زبان مختلف ہو سکتے ہیں، مگر ہمارا آئین سب کو برابری کی نظر سے دیکھتا ہے۔ مسجد کے افتتاح میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں کا ایک ہی اسٹیج پر ہونا حقیقی قومی یکجہتی کی زندہ مثال ہے۔”

مقامی رکنِ اسمبلی اور ریاستی ہاؤسنگ بورڈ کے صدر شِیو لِنگے گوڑا نے کہا کہ “دیہی ہندوستان میں آج بھی بھائی چارہ اور رواداری زندہ ہے۔ ہارنہلّی میں تمام مذاہب کے لوگوں کا مسجد کے درشن کے لیے آنا ہماری ثقافت کی خوبصورتی ہے۔ مذہب انسانوں کو توڑنے کے لیے نہیں بلکہ جوڑنے کے لیے ہے۔” ہاسن کے رکنِ پارلیمان شریس پٹیل نے نوجوانوں اور طلبہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ایسے پروگراموں میں نوجوانوں کی شرکت بے حد ضروری ہے۔ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کو اتحاد اور محبت کے ذریعے جواب دینا ہوگا۔ مسجدِ اقصیٰ کا افتتاح امن اور آئینی اقدار کی علامت ہے۔”ارسیکیرے میونسپل کونسل کے سابق صدر سمیع اللہ نے کہا کہ“مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں بلکہ سماجی خدمت، ہمدردی اور بھائی چارے کا مرکز ہونی چاہیے۔ مختلف مذاہب کے افراد کا مسجد کا دورہ کرنا باہمی اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ ہمارے شہر کے لیے فخر کی بات ہے۔”گاؤں کے بزرگ کریم صاحب نے کہا کہ“مسجدِ اقصیٰ کے افتتاح میں تمام مذاہب کے رہنماؤں، خواتین، طلبہ اور سماجی کارکنوں کی شرکت ہمارے لیے اعزاز ہے۔ یہ مسجد ہمیشہ امن، محبت اور انسانیت کا پیغام دیتی رہے گی۔”اس موقع پر مسجد کے صدر محمد عطاءاللہ، سکریٹری مبارک پاشاہ، جوائنٹ سکریٹری نواز، دیگر عہدیداران، سابق تعلقہ پنچایت صدر شیومورتی، سابق رکن دھرم شیکھر، سابق ضلع پنچایت رکن بلی چوڈییا، تاجر منّا پی جی ڈی، صحافی ملناڈ محبوب اور کانگریس کے سینئر قائدین عبدالہادی، کھڑاکڑی پیر صاحب، عبدالصمد، جمال الدین سمیت کثیر تعداد میں معزز شخصیات موجود تھیں۔

1/Post a Comment/Comments

Post a Comment