Muslim Leaders Meet CM Over Thannisandra Demolition تھنِی سندرہ انہدامی کارروائی: متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کا مطالبہ

تھنِی سندرہ کے تھوبا لے آؤٹ میں بغیر نوٹس مکانات کی مسماری پر تشویش

مسلم قیادت کی وزیرِ اعلیٰ سے ملاقات، بازآبادکاری اور کارروائی کا مطالبہ

بنگلور، 10 جنوری (حقیقت ٹائمز)

شمالی بنگلور کے تھنِی سندرہ علاقے میں واقع تھوبا لے آؤٹ میں بنگلور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) کی جانب سے اقلیتی خاندانوں کے مکانات کی بغیر کسی پیشگی نوٹس مسماری کے واقعے پر شہر بھر میں شدید تشویش اور غم و غصے کی فضا پائی جاتی ہے۔اس واقعے کے خلاف مسلم مذہبی و سماجی قیادت نے وزیرِ اعلیٰ سدارامیا سے ملاقات کر کے سخت ناراضی اور تشویش کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری بازآبادکاری، متبادل رہائش اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔وزیرِ اعلیٰ سے ملاقات کرنے والے وفد میں ڈاکٹر مفتی مولانا مقصود عمران رشادی، مولانا تنویر پیراں ہاشمی، مولانا شبیر ندوی، مفتی محمد علی قاضی، عثمان شریف اور دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔ وفد نے وزیرِ اعلیٰ کو بتایا کہ گھروں کی مسماری بغیر نوٹس کے کی گئی، جو آئینی، قانونی اور انسانی اقدار کے سراسر منافی ہے۔وفد نے کہا کہ اچانک بلڈوزر کارروائی نے درجنوں خاندانوں کو بے گھر کر دیا ہے، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، اور متاثرین شدید ذہنی و معاشی بحران سے دوچار ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو انسانی وقار کے خلاف غیر انسانی عمل قرار دیا۔

مسلم رہنماؤں نے وزیرِ اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر عارضی و مستقل رہائش فراہم کی جائے مکمل بازآبادکاری منصوبہ نافذ کیا جائے،بغیر نوٹس مسماری کے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔اور مستقبل میں ایسی کارروائیوں سے قبل قانونی طریقۂ کار پر سختی سے عمل کیا جائے۔وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہیں ملتا، اس معاملے کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہے گی اور کسی بھی مزید انہدامی کارروائی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

0/Post a Comment/Comments