Limited Central Support, Greater State Responsibility: Siddaramaiah فنڈ کم، ذمہ داری زیادہ — فلاحی محاذ پر ریاست تنہا
byHAQEEQAT TIMES (Administrator)-0
مرکز کی محدود مالی مدد کے باوجود ریاست کا فلاحی عزم برقرار
مکانات کی تقسیم، سبسڈی اور گارنٹی اسکیموں سے غریبوں کو قومی دھارے میں لایا جا رہا ہے: سدارامیا
ہبلی، 25 جنوری (حقیقت ٹائمز)
وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ کچی آبادیوں میں رہنے والے عوام کو بھی سماج کے مرکزی دھارے میں لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اسی مقصد کے تحت ریاست میں بڑے پیمانے پر مکانات کی تقسیم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس حکومت کی گارنٹی اسکیموں کا اصل مقصد غریب طبقے کو باوقار زندگی فراہم کرتے ہوئے انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔وہ آج ہبلی میں محکمۂ ہاؤزنگ اور کرناٹک اسٹیٹ ہاؤسنگ بورڈ کے اشتراک سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں ریاست کے مختلف اضلاع میں ہاؤسنگ بورڈ کی جانب سے تعمیر کردہ 42,345 مکانات اور سلم کلیرنس بورڈ کے تحت تعمیر شدہ 46,000 مکانات اہل مستحقین میں تقسیم کیے گئے۔ سدارامیا نے کہا کہ جب وہ پہلی مرتبہ وزیرِ اعلیٰ بنے تھے تو کانگریس حکومت نے 14 لاکھ 58 ہزار مکانات تعمیر کر کے رہائشی انقلاب کی بنیاد رکھی تھی۔ دوسری مرتبہ وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد، سال 2024 میں پہلے مرحلے میں 36,789 مکانات تقسیم کیے گئے اور اب دوسرے مرحلے میں مزید 45 ہزار مکانات مستحقین کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہم نے جو وعدے کیے تھے، انہیں عملی جامہ پہنایا، مگر اپوزیشن نے نہ صرف اپنے وعدے پورے نہیں کیے بلکہ ہمارے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بیرونِ ملک سے کالا دھن لا کر ہر شہری کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے ڈالنے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر وہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے مہادائی، کرشنا اپر بیراج اور بھدرا اپر بیراج جیسے منصوبوں پر بھی مرکز اور بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے کرناٹک کے عوام کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان معاملات پر عوام کو جواب دیں۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ایک مکان پر ریاستی حکومت 4 سے 5 لاکھ روپے خرچ کرتی ہے، جبکہ مرکز کی جانب سے ایک لاکھ روپے سے بھی کم رقم دی جاتی ہے، اس کے باوجود اس منصوبے کو صرف وزیرِ اعظم آواس یوجنا کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رقم ریاست کی ہوتی ہے، مگر کریڈٹ مرکز لے جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس حکومت نے گزشتہ دو برسوں میں مکانات کی تعمیر کے لیے 5,500 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی یہ جھوٹ پھیلا رہی ہے کہ ریاستی خزانہ خالی ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسانوں کے پمپ سیٹس کے لیے ہر سال 2,500 کروڑ روپے سبسڈی دی جا رہی ہے، اس کے علاوہ بیواؤں، بزرگوں اور دیگر فلاحی اسکیموں کے لیے بھی خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے۔تقریب میں اے آئی سی سی صدر راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملیکارجن کھرگے، قانون ساز کونسل کے چیئرمین بسوراج ہوراٹی، وزیرِ رہائش ضمیر احمد خان، وزراء ستیش جارکیہولی، ایچ سی مہادیوپا، ایچ کے پاٹل، کے ایچ منی اپّا، سنتوش لاڈ، سلم کلیرنس بورڈ کے صدر پرساد ابّیّا، کونسل کے اراکین بی کے ہری پرساد، سلیم احمد سمیت مقامی عوامی نمائندے، اراکینِ اسمبلی اور دیگر قائدین موجود تھے۔
Post a Comment