بنگلور–منگلور قومی شاہراہ کے زیرِ تعمیر کاموں پر اعلیٰ سطحی اجلاس
ہاسن بائی پاس اور متاثرہ حصوں کی جلد تکمیل کی ہدایت
بنگلورو/ہاسن 23 جنوری (حقیقت ٹائمز)
بنگلور–منگلور قومی شاہراہ کے تحت ہاسن ضلع کی حدود میں جاری تعمیراتی کاموں میں درپیش مسائل کے تعلق سے ریاستی وزیر کرشنا بائرے گوڑا کی صدارت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہاسن کے رکنِ پارلیمان، متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران اور ٹھیکہ داروں نے شرکت کی۔اجلاس میں ہاسن بائی پاس کے زیرِ تعمیر کاموں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ بتایا گیا کہ ہاسن بائی پاس کی مجموعی لمبائی دس کلومیٹر ہے، جہاں ریلوے اوور برج سے متعلق سڑک کے کام تاحال مکمل نہیں ہو سکے ہیں۔

وزیر موصوف نے واضح ہدایت دی کہ ان کاموں کو فوری طور پر مکمل کرتے ہوئے مئی ماہ کے اندر سڑک کو عوامی آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائے۔اسی طرح دونی گال کے قریب باقی ماندہ چھ سو میٹر سڑک کے کام کو بھی ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے اور ٹریفک کے لیے فوری طور پر قابلِ استعمال بنانے کی ہدایت دی گئی، تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔اجلاس میں گزشتہ مون سون کے دوران سکلیشپور سے مارنہلّی کے درمیان مختلف مقامات پر پیش آئے زمینی تودے کھسکنے کے واقعات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ متعلقہ مرمتی اور حفاظتی کاموں کے لیے قومی شاہراہ اتھارٹی کی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔ کرشنا بائرے گوڑا نے ان تمام کاموں کو بلا تاخیر مکمل کرنے پر زور دیا اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدایت دی۔اس اجلاس میں ہاسن کے رکنِ پارلیمان شریاس ایم پٹیل، ضلع کلکٹر لتا کماری، محکمۂ تعمیراتِ عامہ کے پرنسپل سکریٹری آدتیہ املان بسواس، قومی شاہراہ اتھارٹی کے منصوبہ جاتی ڈائریکٹر سید کے علاوہ متعلقہ تمام ٹھیکہ دار موجود تھے۔
Post a Comment