وقف املاک کی رجسٹریشن میں مہلت نہیں بڑھے گی، سپریم کورٹ کا دو ٹوک فیصلہ
متولیان کو اضافی وقت کے لیے وقف ٹریبونل سے رجوع کرنے کا مشورہ
از : جمیل احمد ملنسار
وقف املاک کی رجسٹریشن کے لیے نئی چھ ماہ کی مہلت بڑھانے کی درخواستوں پر سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ عدالت خود قانون میں دی گئی آخری تاریخ میں تبدیلی نہیں کرے گی بلکہ متولیان کو وقف ٹریبونل سے رجوع کرنا ہوگا۔ یہ معاملہ وقف (ترمیمی) قانون 2025 کے تحت تمام وقف جائیدادوں، بشمول وقف بِالاستعمال، کی لازمی ڈیجیٹل رجسٹریشن سے جڑا ہوا ہے جس کے لیے سرکار نے امید پورٹل متعارف کرایا ہے۔ جسٹس دیپنکر دَتہ اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح پر مشتمل بنچ کے سامنے مختلف مسلم تنظیموں اور عوامی نمائندوں کی طرف سے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی، جن میں چھ ماہ کی مقررہ مدت میں توسیع کی اپیل کی گئی تھی۔ بینچ نے کہا کہ جب خود قانون میں یہ راستہ موجود ہے کہ متاثرہ فریق وقف ٹریبونل سے اضافی وقت مانگ سکتا ہے تو سپریم کورٹ کے براہِ راست مداخلت کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
سولیسیٹر جنرل تشار مہتہ نے عدالت کو بتایا کہ وقف (ترمیمی) قانون کی دفعہ 3بی کے تحت رجسٹرڈ اوقاف کو چھ ماہ کے اندر اندر اپنی جائیدادوں کی مکمل تفصیل امید پورٹل پر اپ لوڈ کرنی ہے اور اس مدت میں کمی بیشی کا اختیار وقف ٹریبونل کو دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پورٹل 6 جون سے فعال ہے، اس لیے 6 دسمبر تک کا وقت ہی چھ ماہ کی قانونی مہلت شمار ہوگا اور جو متولی اس مدت میں رجسٹریشن نہیں کرا پائیں، وہ اپنی مخصوص مجبوریوں کے ساتھ ٹریبونل سے اضافی وقت طلب کر سکتے ہیں۔
درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکلاء، جن میں کپل سبل اور دیگر شامل ہیں، نے استدلال کیا کہ پورے ملک میں لاکھوں متولی اپنی وقف املاک کو رجسٹر کرنا چاہتے ہیں لیکن پورٹل میں متعدد تکنیکی خرابیاں اور سست رفتاری کے سبب وہ وقت پر تفصیلات اپ لوڈ نہیں کر پا رہے۔ وکلاء نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سو سو برس پرانے اوقاف کے لیے وقف ناموں اور قدیم دستاویزات کا اہتمام کر کے انہیں ڈیجیٹل فارم میں لانا ایک بڑے پیمانے کی مشق ہے، جس کے لیے چھ ماہ کا وقت زمینی حقیقت کے اعتبار سے ناکافی ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ سولیسیٹر جنرل کے مطابق پورٹل باقاعدہ چل رہا ہے، جب کہ درخواست گزار اس میں خرابیوں کی بات کر رہے ہیں، اس لیے اگر واقعی تکنیکی نقائص موجود ہیں تو ان کے ثبوت کے طور پر مستند دستاویز اور ریکارڈ عدالت کے سامنے لائے جائیں۔ بینچ نے مشورہ دیا کہ متولیان یا وقف بورڈز پورٹل کی خرابیوں کے بارے میں تفصیلی نوٹ اور مثالیں ریکارڈ پر رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں قابلِ غور سمجھا جا سکے، تاہم عمومی بنیاد پر مہلت میں اجتماعی توسیع مناسب نہیں سمجھی گئی۔
یہ سارا تنازع وقف (ترمیمی) قانون 2025 کے اُس حصے سے جڑا ہے جس کے تحت پہلے سے رجسٹرڈ اوقاف کو بھی اپنی تمام جائیدادوں کا ڈیٹا چھ ماہ میں آن لائن درج کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے، اور غیر رجسٹرڈ اوقاف کے لیے بھی رجسٹریشن نہ ہونے کی صورت میں مقدمات دائر کرنے اور چلانے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے ستمبر 2025 کے ایک عبوری حکم میں بعض متنازع دفعات (جیسے وقف بنانے کے لیے پانچ سالہ عملی مسلم ہونا وغیرہ) پر تو روک لگائی تھی، لیکن رجسٹریشن اور ڈیجیٹل اندراج سے متعلق بنیادی دفعات کو معطل نہیں کیا تھا، جس سے موجودہ ڈیڈ لائن کی اہمیت برقرار رہی۔
درخواست گزاروں اور مختلف مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر رجسٹریشن اور ڈیجیٹل اندراج کی موجودہ آخری تاریخ میں نرمی نہ کی گئی تو لاکھوں پرانے اوقاف صرف تکنیکی عدم تکمیل کی وجہ سے قانونی پیچیدگیوں اور ملکیتی تنازعات میں پھنس سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کئی ریاستوں میں وقف بورڈز کے پاس عملہ، ریکارڈ اور ٹیکنیکل سہولیات ناکافی ہیں، اور ریاستی سطح پر وقف املاک کے سروے خود حکومتوں نے ابھی مکمل نہیں کیے، اس لیے پورا بوجھ یکطرفہ طور پر متولیان پر ڈالنا عملی طور پر ناممکن نظر آتا ہے۔
سپریم کورٹ کے تازہ موقف کے بعد اب متولیوں اور وقف اداروں کے لیے فوری قانونی راستہ یہی رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی اپنی سطح پر وقف ٹریبونل سے رجوع کر کے اضافی وقت اور عملی سہولتوں کی درخواست کریں۔ ساتھ ہی، بڑے ادارے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور عوامی نمائندے بنیادی آئینی چیلنج کے فیصلے تک عبوری تحفظات، تکنی کی خرابیوں کی دستاویزی رپورٹیں اور ریاستی سطح کے انتظامی اقدامات کے ذریعے وقف املاک کو کسی ممکنہ قانونی نقصان سے بچانے کی حکمتِ عملی پر غور کر رہے ہیں۔
Post a Comment