علماء کرام کو کسی کے دباؤ میں آئے بغیر حق بیان کرنا چاہیے: مولانا سلمان ازہری
مساجد کے منبروں سے برائیوں کے خاتمے اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے جرات مندانہ کردار ادا کرنے کی اپیل
سرا :7دسمبر( حافظ ارشاد احمد/سفیان احمد)
یہ دنیا نہ جزا دینے والی نہ سزا دینے والی ہے ، جزا ورسزا کا مالک تو صرف اللہ ہے ، یہ امت خیر امت ہے، تمام انسانوں میںہمیں خیر امت بنا یا ہے، ہم اچھا ئیوں کا حکم دینے والے برائیوں سے روکنے والے ہیں ،لیکن آج ضرورت اس بات کی ہے کہ علماءکرام ممبر رسولسے کسی کے دبا و¿میں آ ئے بغیر حق بیان کریں ۔ معاشرہ میں جنم لینے والی برائیوں کے خاتمہ کےلئے اور امت مسلمہ کی ا صلاح و معاشرہ کے سدھار کےلئے کھل کر میدانوں میں اتر کر کام کریں۔ ان خیالات کا اظہارمقرر خصوصی مفتی سلمان ازہری نے کیا۔

انہوں نے یہاں حضرت ملک ریحان ؒ پاشاہ درگاہ کے احاطہ میں منعقدہ تحفظ ناموس رسالت واصلاح معاشرہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ آج ہمارا معاشرہ بدتر سے بدتر ہوتا جا رہا ہے ، شرا ب نشہ ، گانجہ گٹکا، سودخوری،زنا کاری، حقہ نوشی جیسی مہلک برائیاں ہمارے معا شرہ میں عام ہوتی جا رہی ہیں ۔ افسوس تو اس بات کاہے کہ کچھ مساجد کے ذمہ داران وسیاسی احباب خود علماءکرام کو حق بیان کرنے سے روکتے ہیں ۔مولانا نے خود اپنا حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک جگہ مجھ سے مسجد کی کمیٹی والوں نے کہا کہ مولانا یہاں سود پر بیان نہ کریں اس لئے کہ یہاں اکثر لوگ فا ئنا نس اور سودی کاروبار میں ملوث ہیں، مولانا نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری مساجد کے ذمہ داروں کا یہ حال بن چکا ہے ، تو پھر معاشرہ میں سدھار کیسے آ ئیگا ، اس دور کے اکثر مساجد کے صدورذمہ داران تو وہ لوگ بنے ہوئے ہیں جو بیاز اور بڈی کا دھندا کرتے ہیں۔مولانا نے علماءکرام کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ علماءکرام ہی علاقائی برائیوں پر موقع کی مناسبت سے برائیوں کے خلاف حق بیان کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علماءکرام کمیٹیوں کے دباو¿میں نہ آئیں ، رزق کا مالک اللہ ہے ، اگر یہ لوگ ایک دروازہ بند کر دیںگے تو اللہ تمہارے لئے رزق کے ستر دروازے کھول دیگا ، اس ضمن میں مولانا نے علامہ فضل حقؒ خیر ابادی ، کفایت اللہ کافیؒ ، احمد فاروقی مجدد الف ثانیؒ ، امام احمد بن حنبل ، شیر میسورحضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کی قربانیاں اور انکے جرات مندانہ پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی کے تلوے چاٹنے کی ضرورت نہیں ہے ، ہمیں ایک مرد مجاہد بن کرجینا ہے ، بزدل بن کر نہیں ، حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کا قول یاد دلا تے ہوئے کہا کہ گیدڈکی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے ۔ اجلاس کے آغاز میں حافظ نیاز رضوی نے نعت کا نذرانہ پیش کیا جسے سامعےن سے خوب سراہا،اجلاس میں شہر اور اطراف واکناف کے علماءکرام، ائمہ کرام اور عمائدین شہر کے علاوہ کثیر تعداد میں ہزاروں مرد وخواتین نوجوان شریک رہے ۔یہ اجلاس جامع مسجد کے نائب متولی انصر احمد اور انکے فرزندوں کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا ۔ ایس ڈی پی ائی کے نو جوانوں نے والنٹئرس کے طور پر بہت اچھا کام کیا ۔آخر میں دعا وسلام پر اجلاس کا اختتام ہوا ۔
Post a Comment