CM Siddaramaiah Praises Basavaraj Horatti’s Neutral Leadership سدارامیا کا بسوراج ہوراٹی کی سیاسی خدمات اور غیرجانبداری کو خراجِ تحسین
byHAQEEQAT TIMES (Administrator)-0
چار دہائیوں کی رفاقت، سیاست میں وقار اور ایوان میں غیرجانبداری
سدارامیا کا قانون ساز کونسل کے چیئرمین بسوراج ہوراٹی کو خراجِ تحسین
ہبلی، 13 دسمبر (حقیقت ٹائمز)
وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ قانون ساز کونسل کے چیئرمین بسوراج ہوراٹی کے ساتھ ان کی دوستی چار دہائیوں پر محیط ہے اور وہ ایک ایسے سیاست داں ہیں جو تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنے والے اور ’’ناقابل تسخیر رہنما‘‘ یعنی سب کے محبوب رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔وہ آج یہاں بسوراج ہوراٹی ابھی نندن سمیتی، ہبلی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک باوقار تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جس میں قانون ساز کونسل کے چیئرمین بسوراج ہوراٹی کو اعزازی طور پر تہنیت و تکریم پیش کی گئی۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بسوراج ہوراٹی ایک سادہ مزاج، بے تکلف اور دوستی نبھانے والے انسان ہیں۔ 1980 میں جب وہ پہلی مرتبہ قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے، تب سے ان کے ساتھ دوستی قائم ہے جو آج تک برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوراٹی آٹھ مرتبہ اساتذہ کے حلقے سے منتخب ہو کر آئے اور ہمیشہ اساتذہ کے مسائل کو ایوان میں مؤثر انداز میں اٹھاتے رہے ہیں۔
سدارامیا نے کہا کہ وہ اور بسوراج ہوراٹی دونوں دیہی پس منظر رکھنے والے عام خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیاست میں طویل سفر کے باوجود ہوراٹی نے کبھی غرور یا تکبر کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک وقت انہوں نے جنتا دل یو اور جنتا دل ایس کو متحد کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی، تاہم سینئر قیادت کی عدم رضامندی کے باعث یہ کوشش بارآور نہ ہو سکی۔وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ اگرچہ ان کے اور ہوراٹی کے درمیان ذاتی دوستی ہے، لیکن چیئرمین کی حیثیت سے وہ ہمیشہ غیر جانبداری کے ساتھ ایوان چلاتے ہیں۔ انہوں نے کبھی دوستی کی بنیاد پر حکومت کو رعایت نہیں دی اور نہ ہی کسی فریق کے حق میں جانبداری دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بھی ایوان بہتر انداز میں چل رہا ہے اور بسوراج ہوراٹی نے کبھی حکومت کو مشکل میں ڈالنے والا کوئی قدم نہیں اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ آٹھ مرتبہ قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہونا ایک عالمی سطح کا ریکارڈ ہے، جسے توڑنا آئندہ کسی کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ وزیرِ اعلیٰ نے ہوراٹی کے سیاسی سفر کے تسلسل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ کسی اور پارٹی سے انتخاب لڑیں گے تو سیاسی طور پر ان کے خلاف مہم چلانا ان کی مجبوری ہوگی، لیکن ذاتی طور پر وہ ان کی کامیابی کے خواہاں رہیں گے۔
سدارامیا نے اس بات کی بھی ستائش کی کہ بسوراج ہوراٹی نے اپنے گاؤں کے ایک سرکاری اسکول کو مثالی اسکول میں تبدیل کیا ہے اور کہا کہ اگر ہر شخص اپنے پڑھے ہوئے اسکول کی ترقی میں حصہ لے تو تعلیمی نظام مضبوط ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بسوراج ہوراٹی ایک تجربہ کار پارلیمانی رہنما ہیں، جو ایوان کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نظم و ضبط کے ساتھ چلاتے ہیں۔ ایوان میں موجود تمام جماعتیں ان کا احترام کرتی ہیں اور ان کی شخصیت ایسی ہے کہ سخت لہجے کے باوجود کوئی ناراض نہیں ہوتا۔ ان کے تجربے اور رہنمائی سے قانون ساز کونسل کو مسلسل فائدہ پہنچ رہا ہے۔
Post a Comment