بھوپال میں "بنات" کے نویں یومِ تاسیس پر ادبی سیمینار و مشاعرہ کا انعقاد
اردو نسائی ادب کے فروغ، فکری ہم آہنگی اور تخلیقی اظہار پر گفتگو
بھوپال، 6 نومبر (حقیقت ٹائمز)
جھیلوں، گلابوں اور تہذیبی وراثت کے شہر بھوپال نے یکم نومبر 2025 کو اردو ادب کی تاریخ میں ایک یادگار لمحہ رقم کیا، جب بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم "بنات" نے اپنے نویں یومِ تاسیس کے موقع پر باب العلم پبلیکیشنز، بھوپال کے اشتراک سے ایک روزہ سیمینار اور مشاعرہ کا شاندار انعقاد کیا۔پروگرام صبح دس بجے ہوٹل کھجرانہ، حمیدیہ روڈ پر شروع ہوا، جس کی صدارت معروف و سینئر ادیبہ ڈاکٹر رضیہ حامد نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض رشدہ جمیل صاحبہ نے نہایت شائستگی اور مہارت سے انجام دیے۔ابتدائی مرحلے میں جنرل سکریٹری تسنیم کوثر نے پرتپاک استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے “بنات” کی جدوجہد اور نسائی ہم آہنگی کے سفر پر روشنی ڈالی۔اس کے بعد معروف قلمکار عذرا نقوی صاحبہ نے موضوع “اردو ادب میں نسائی فکر اور عصرِ حاضر کے تقاضے” پر کلیدی خطبہ پیش کیا، جس نے سامعین کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ یہ واضح کیا کہ نسائی ادب جذباتیت کا نہیں بلکہ فکری بیداری کا استعارہ ہے۔صدرِ تنظیم نگار عظیم صاحبہ نے اپنے خطاب میں “بنات” کے قیام، مقاصد اور نظریاتی بنیادوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ “یہ تنظیم مرد مخالف نہیں بلکہ ایک فکری پلیٹ فارم ہے جو مرد و زن دونوں کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے۔”اسی اجلاس میں “بنات” کی زیرِ اہتمام شائع ہونے والی نئی کتاب "لوگ کیا کہیں گے" کا باوقار اجرا عمل میں آیا۔کتاب کے اجرا کے موقع پر پُرجوش تالیوں کی گونج نے محفل کو ادبی فخر کا منظر بنا دیا۔تقریب کے دوران نمایاں ادبی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر رضیہ حامد، قمر جمالی اور ڈاکٹر نصرت مہدی (ڈائریکٹر، مدھیہ پردیش اردو اکادمی) کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا، جب کہ ڈاکٹر نصرت مہدی صاحبہ کو خصوصی اعزاز بھی پیش کیا گیا۔اس موقع پر ڈاکٹر نصرت مہدی، اسلم پرویز، سید افتخار علی، قمر سرور، ثروت خان اور دیگر مقررین نے اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے نسائی ادب کے فروغ، فکری مکالمے اور اردو کے مستقبل پر اظہارِ خیال کیا۔بعد از دوپہر ہونے والے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر محمد نعمان خان اور ڈاکٹر ثروت خان نے مشترکہ طور پر کی۔تسنیم کوثر اور رافعہ ولی نے نظامت کے فرائض نہایت پُراعتماد انداز میں انجام دیے۔پدم شری حکیم سید ظل الرحمن صاحب کی آمد نے تقریب کے وقار میں مزید اضافہ کیا۔اس اجلاس میں مختلف مقالے اور نثری تخلیقات پیش کی گئیں جن میں معاصر اردو ادب میں نسائی زاویوں اور فکری ارتقا پر سنجیدہ گفتگو ہوئی۔رات آٹھ بجے ایک رنگارنگ مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت عذرا نقوی صاحبہ نے کی اور نظامت عنبر عابد صاحبہ نے انجام دی۔اس مشاعرے میں مقامی اور بیرونی شعرا و شاعرات نے اپنے تازہ کلام سے محفل کو مسحور کر دیا۔مقامی شعرا میں ڈاکٹر مہتاب عالم، انور محمد خان، غوثیہ سبین، نفیسہ انا، پروین کیف، صبیحہ صدف شامل تھیں، جب کہ بیرونی شعرا میں نگار عظیم، قمر سرور، ناز پروائی، شبانہ نذیر، طلعت سروہا، آرزو مہک، عطیہ مجیب، خالدہ صدیقی اور دیگر ممتاز ناموں نے شرکت کی۔محفل میں ہر اچھے شعر پر داد و تحسین کے نعرے بلند ہوتے رہے، اور ادبی فضا میں احساس و جذبات کی خوشبو رچ بس گئی۔تقریب میں ظفر صہبائی، ڈاکٹر آصف سعید، ڈاکٹر اعظم، ساجد پریمی، بدر انساء بیگم، عبدالمجید، مجاہد خان، اقبال مسعود سمیت کئی ممتاز شخصیات نے بطور سامعین شرکت کی۔پروگرام کے اختتام پر صدرِ “بنات” نگار عظیم صاحبہ نے تمام مہمانوں اور باب العلم پبلیکیشنز کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ“یہ محفل محض ایک تقریب نہیں بلکہ اردو ادب میں نسائی فکر کے نئے باب کا آغاز ہے۔”یوں بھوپال کی یہ شام ادب، تہذیب اور نسائی شعور کے سنگم پر ایک یادگار دن بن گئی — جس نے ثابت کر دیا کہ اردو اور عورت دونوں کا سفر شعور، وقار اور توازن کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
Post a Comment