کھانسی کے شربت کا سانحہ: کرناٹک میں ہائی الرٹ، شربتوں کے نمونے لیب روانہ
وزیرِ صحت دینیش گنڈو راؤ کی ہدایت — 5 سال سے کم عمر بچوں کے لیے احتیاط لازم
ہاسن/ بنگلورو، 6 اکتوبر (حقیقت ٹائمز)
ملک کی مختلف ریاستوں میں کھانسی کے شربت سے ہونے والی اموات کے بعد کرناٹک میں صحتِ عامہ کے محکمے نے ریاست بھر میں ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔ وزیرِ صحت دنیش گنڈو راؤ نے واضح کیا ہے کہ ریاست میں کسی بھی غیر معیاری کھانسی کے شربت کی سپلائی نہیں ہوئی ہے، تاہم احتیاطی اقدامات کے طور پر تمام کمپنیوں کے تیار کردہ شربتوں کے نمونے جمع کرکے جانچ کے لیے روانہ کیے گئے ہیں۔وزیرِ صحت نے آج چنارایاپٹّن(ضلع ہاسن) میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’احتیاطی تدابیر کے طور پر محکمۂ ڈرگس کنٹرول نے ریاست بھر میں کھانسی کے شربتوں کے نمونے جمع کیے ہیں اور ان کی جانچ جاری ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ محکمۂ صحت نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ بچوں کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کی سپلائی اور معیار پر سخت نگرانی رکھی جائے۔دینیش گنڈو راؤ نے کہا کہ جن ریاستوں میں اموات ہوئیں — جیسے تمل ناڈو، مدھیہ پردیش، اڈیشہ، راجستھان اور پدوچیری — وہاں کے حادثات غیر ذمہ دار دوا ساز کمپنیوں کی غفلت کے سبب پیش آئے ہیں۔ ’’کرناٹک میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، لیکن ہم نے احتیاطی بنیادوں پر نگرانی مزید سخت کر دی ہے،‘‘۔وزیرِ صحت نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو کھانسی کے شربت دینے سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور بلا ضرورت استعمال سے گریز کریں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’’میں نے پہلے ہی مرکزی حکومت کو دواؤں کی ملاوٹ اور جعلی ادویات کے مسئلے پر مکتوب بھیجا تھا، اور یہ تجویز دی تھی کہ ایسی صورتحال میں ملک گیر سطح پر فوری معلومات کے تبادلے کے لیے ایک مخصوص ویب سائٹ قائم کی جائے۔‘‘مسٹر دنیش گنڈو راؤ نے اس موقع پر مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جعلی اور ملاوٹ شدہ ادویات کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے جائیں تاکہ عوام کی صحت و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
Post a Comment