Congress Seeks Removal of Deputy Opposition Leader Aravind Bellad Over Hubbali Qur’an Recitation Row قرآن خوانی تنازع پر کانگریس کا اروند بیلاد کی برطرفی کا مطالبہ

ہبلی میں قرآن خوانی کے معاملے پر تنازع

 کانگریس نے اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر اروند بیلاد کی برطرفی کا مطالبہ کیا

بنگلور، 15؍اکتوبر (حقیقت ٹائمز)

کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے جنرل سکریٹری ناگراج گوری نے اسمبلی اسپیکر یو۔ ٹی۔ قادر کے نام ایک تفصیلی مکتوب میں مطالبہ کیا ہے کہ بی جے پی کے رکن اسمبلی اور اسمبلی میں اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر اروند بیلاد کو ان کے منصب سے فوری طور پر برطرف کیا جائے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے۔یہ تنازع ہبلی کے وِشالنگر میں منعقدہ ایک تقریب سے شروع ہوا، جہاں کانگریس کے وزیر سنتوش لاڈ کی جانب سے ریاستی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کے تحت 14 کروڑ روپے کے سڑک ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کیا گیا تھا۔اس موقع پر مقامی ہندو اور مسلم برادریوں نے وزیر سنتوش لاڈ کے اعزاز میں ایک مشترکہ استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا۔

تقریب کے آغاز میں گنیش شلوک کے بعد قرآن خوانی کی گئی، جسے مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی علامت کے طور پر سراہا گیا۔ تاہم، اروند بیلاد، جنہیں اس پروگرام کی صدارت کے لیے مدعو کیا گیا تھا، شرکت نہیں کر سکے۔بعد ازاں، بیلاد نے اس تقریب کی ویڈیو کو ایڈیٹ کر کے سوشل میڈیا پر غلط مفہوم کے ساتھ پیش کیا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ پروگرام میں صرف "قرآن خوانی" ہوئی تھی اور ہندو مذہبی روایت کو نظرانداز کیا گیا۔ناگراج گوری نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ اروند بیلاد نے دانستہ طور پر جھوٹ پھیلا کر عوام کو گمراہ کیا اور ضلع کلکٹر کے دفتر کے سامنے "ہون ہون" (یگیہ) انجام دے کر ایک مذہبی گروہ کے خلاف اشتعال انگیزی پیدا کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ “اروند بیلاد کا یہ عمل سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے۔ وہ عوام کے درمیان نفرت پھیلانے کی دانستہ کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے رہنما کو اسمبلی میں رہنے کا حق نہیں۔”ناگراج گوری  نے اسپیکر یو ٹی قادر کے غیرملکی دورے کے سبب اپنی درخواست ڈپٹی اسپیکر ردرپا لمانی کے توسط سے جمع کرائی، اور مطالبہ کیا کہ اسپیکر فوری کارروائی کرتے ہوئے بیلاد کی اسمبلی رکنیت اور اپوزیشن ڈپٹی لیڈر کے عہدے کو منسوخ کریں، نیز پولیس کو فوجداری مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دیں۔اس موقع پر کانگریس قائدین وینکن گوڈ پاٹل، چدانند شیشنلی، آتما نند تلوار، پرسنا روڈگی، آنند مگدم اور دیگر بھی موجود تھے۔

0/Post a Comment/Comments