Haj News With Pics :Indian pilgrims raise concerns over basic amenities رمی جمرات کا عمل پُرامن انداز میں مکمل

حج 2025 میں 1.67 ملین عازمین کی شرکت

 گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے کم تعداد 

مکہ مکرمہ، 7 جون (حقیقت ٹائمز) 

حج 2025 کا عظیم الشان اجتماع اپنے روحانی عروج پر پہنچ چکا ہے، جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے 16 لاکھ سے زائد عازمین مناسکِ حج کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔ مناسکِ حج کا آغاز 4 جون کو ہوا، اور اس وقت عازمین منیٰ میں "رمی جمرات" کی اہم عبادت انجام دے رہے ہیں۔ منیٰ کی وادی میں عازمین کے لیے جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن میں دنیا کا سب سے بڑا ایئر کنڈیشننگ سسٹم، مفت وائی فائی، اور 5G انٹرنیٹ شامل ہیں۔ سعودی حکام نے 10,000 درخت لگائے ہیں اور 400 واٹر کولرز اور مسٹنگ مشینیں نصب کی ہیں تاکہ شدید گرمی سے بچاؤ ممکن ہو۔  




حج کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب نے "سواہر" نامی AI سسٹم متعارف کرایا ہے، جو سمارٹ کیمروں کے ذریعے ہجوم کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، 40,000 سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، اور بغیر اجازت حج کرنے والوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔  





سعودی وزارت صحت نے عازمین کو دن کے گرم اوقات، خاص طور پر صبح 10 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان، دھوپ سے بچنے کی ہدایت کی تھی، تاکہ گرمی سے متعلقہ بیماریوں سے بچا جا سکے۔ 

ہندوستانی عازمین کی شکایات اور اقدامات

ہندوستانی عازمین کی جانب سے منیٰ میں سہولیات کی کمی کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اس پر وزارت اقلیتی امور کے جوائنٹ سکریٹری شیرشا محی الدین نے منیٰ کیمپوں کا دورہ کیا اور "حج سہولت ایپ 2.0" کے ذریعے شکایات کے ازالے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ عازمین نے منیٰ میں "رمی جمرات" کے دوران روحانی سکون اور قربِ الٰہی کا احساس کیا۔ ایک مصری عازم، وائل احمد عبدالقادر، نے کہا، "ہماری منیٰ میں عبادت آسان اور سادہ تھی۔ ہم نے پانچ منٹ میں رمی مکمل کی۔" حج 2025 میں جدید ٹیکنالوجی اور روحانی عبادات کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔ سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے عازمین کو محفوظ اور آرام دہ ماحول فراہم کیا، جبکہ عازمین نے بھی صبر و شکر کے ساتھ مناسکِ حج ادا کیے۔ 







حج 2025 کے دوران، سعودی عرب نے 1.67 ملین سے زائد عازمین کی میزبانی کی، جو 171 ممالک سے آئے تھے۔ یہ تعداد گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے کم تھی، جس کی وجہ ویزا پالیسیوں میں تبدیلی اور دیگر عوامل تھے۔ 



0/Post a Comment/Comments