دعاؤں، سجدوں اور آنسوؤں کے ساتھ حج کا اختتام ۔ ایمان افروز مناظر
منیٰ کے خیمے خالی، حجاج کا طوافِ وداع کے ساتھ الوداعی سفر
مکہ مکرمہ، 8 جون (حقیقت ٹائمز)
یومِ تشریق کے دوسرے دن (اتوار) کو لاکھوں حجاج کرام نے منیٰ میں تینوں جمرات (شیطان کے استعارے) پر کنکریاں مارنے کی رسم مکمل کی۔ جن حجاج نے "تعجیل" (یعنی جلد روانگی) کا اختیار چُنا تھا، وہ غروبِ آفتاب سے قبل مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے تاکہ مسجد الحرام میں "طوافِ وداع" (الوداعی طواف) ادا کر سکیں۔ یہ طواف، حج کا آخری فرض عمل ہے۔
حجاج کرام کی بڑی تعداد روحانی جذبات سے لبریز ماحول میں مسجد الحرام پہنچی، جہاں انہوں نے خشوع و خضوع کے ساتھ بیت اللہ کا طوافِ وداع ادا کیا۔ کئی حجاج وہاں سے مدینہ منورہ روانہ ہو گئے، جہاں وہ روضۂ رسول ﷺ کی زیارت کریں گے، جبکہ بعض براہِ راست اپنے وطن کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔
سعودی حکام نے حجاج کی منظم روانگی کو یقینی بنانے کے لیے دو دن پر مشتمل منصوبہ ترتیب دیا تھا، جس میں رش اور بدنظمی سے بچاؤ کے لیے جمارات پل پر ہجوم کی نگرانی اور روانگی کے مخصوص راستوں کا تعین کیا گیا تھا۔
حج مکمل طور پر پُرامن رہا۔ حکومت کا اعلان
نائب گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ سعود بن مشاریخ نے حج 2025 کو کامیاب، محفوظ اور بغیر کسی بڑے حادثے کے اختتام پذیر ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ سال کے حج 1447ھ کی تیاریاں رواں سال کے اختتام کے بعد فوری طور پر شروع کر دی جائیں گی۔
وزیرِ حج و عمرہ ڈاکٹر غسان الشبل نے بتایا کہ "نُسُک کارڈ" اور ڈیجیٹل ایپلیکیشنز کے ذریعے حاجیوں کی نقل و حرکت اور خدمات کو مربوط و منظم کیا گیا۔ اس سال 94,000 سے زائد سیکیورٹی اہلکار، رضاکار اور انتظامی عملہ خدمت میں مامور تھا، جنہوں نے عبادات کے ماحول کو پرامن اور سہل بنایا۔
اہم اعداد و شمار
حجاج کی تعداد: 16.7 ملین
غیر ملکی حجاج: 15,06,576
سعودی شہری حجاج: 1,66,654
عرفات کا دن: 5 جون 2025
رمی جمرات و طوافِ وداع: 7-8 جون
Post a Comment