Yaran-e-Adab Hails Book Releases on World Urdu Day یومِ اردو پر کتابوں کی رسمِ اجراء، یارانِ ادب کی مصنفین کو مبارک باد

عالمی یومِ اردو پر کرناٹک اردو اکادمی کی جانب سے کتابوں کی رسمِ اجراء، یارانِ ادب نے مصنفین کو دی مبارک باد

اردو کو عالمی ادب میں بلند مقام دلانے کے لیے معیاری و منفرد تخلیقات کی ضرورت پر زور

بیدر، 7 نومبر (حقیقت ٹائمز)

کرناٹک اردو اکادمی، حکومتِ کرناٹک کی جانب سے ریاست کے اردو مصنفین کی تصانیف کی اشاعت اور رسمِ اجراء کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے بیدر کی قدیم و فعال ادبی تنظیم ’’یارانِ ادب‘‘ نے مختلف مصنفین اور قلم کاروں کو مبارک باد پیش کی ہے۔اس سلسلے میں تنظیم کے ذمہ داران محمد یوسف رحیم بیدری، عظیم بادشاہ، امیرالدین امیرؔ، محترمہ رخسانہ نازنین اور محترمہ وائفہ اشرف نے اپنے مشترکہ صحافتی بیان میں کہا کہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مصنفین کی تخلیقات کی اشاعت اور ان کی حوصلہ افزائی ایک قابلِ ستائش اقدام ہے۔تفصیلات کے مطابق 9 نومبر کو عالمی یومِ اردو کے موقع پر بنگلورو کے ٹاؤن ہال میں منعقد ہونے والی تقریب میں ریاست کرناٹک کے متعدد مصنفین کی کتابوں کی رسمِ اجراء عمل میں آئے گی۔ ان میں گلبرگہ کی ڈاکٹر مکشف جہاں کی کتاب ’’کشتِ ویراں‘‘، ترسگار بیلگام کے ڈاکٹر یاسین راہیؔ کا شعری مجموعہ ’’قندیلِ سخن‘‘، آفتاب عالم شاہ نوری کا شعری مجموعہ ’’ارمغانِ عالم‘‘ اور غلام ربانی فدا کی تصنیف ’’تبصراتِ فدا‘‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرحوم قدیر احمد قدیر کے شعری مجموعے سمیت دیگر شعراء و ادباء کی تصانیف بھی اس تقریب میں پیش کی جائیں گی۔یارانِ ادب کے ذمہ داران نے ڈاکٹر مکشف جہاں، ڈاکٹر یاسین راہیؔ، آفتاب عالم شاہ نوری، غلام ربانی فدا، مرحوم قدیر احمد قدیر اور دیگر تمام مصنفین کو اس ادبی اعزاز پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کی تخلیقی و ادبی خدمات کو سراہا ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اردو زبان کو عالمی ادب میں ایک نمایاں اور باوقار مقام دلانے کے لیے معیاری، منفرد اور فکر انگیز تخلیقات کی ضرورت ہے۔ مصنفین کو چاہیے کہ وہ اپنی علمی و ادبی کاوشوں میں مزید محنت، لگن اور خلوص کا مظاہرہ کریں اور ایسے موضوعات پر قلم اٹھائیں جو اردو ادب کے دائرے کو وسعت دینے کے ساتھ عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت قائم کرسکیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریاست کے اردو ادیب اور شاعر مستقبل میں بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اردو زبان و ادب کی خدمت جاری رکھیں گے اور ایک دن اردو اہلِ قلم کی تخلیقات عالمی سطح پر بڑے ادبی اعزازات، حتیٰ کہ نوبیل انعام تک رسائی حاصل کرنے کی راہ ہموار کریں گی۔

0/Post a Comment/Comments