Kerala Scholar Sayyid Ali Bafaqi Thangal Passes Away at Eighty-Eight کیرالہ کے ممتاز عالمِ دین سید علی بافقیہ تنگل کا انتقال

امین الشریعہ سید علی بافقیہ تنگل انتقال کر گئے

کیرالہ کے علمی و روحانی حلقوں میں سوگ، کوئلانڈی میں آج جنازہ

کالی کٹ 2 نومبر (عبدالکریم امجدی)

کیرالہ کے ممتاز عالمِ دین، صوفی بزرگ، امین الشریعہ حضرت سید علی بافقیہ تنگل کے سانحۂ ارتحال سے ریاست کے علمی، دینی اور روحانی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ آپ سمستھا کیرالہ جمعیۃ العلماء کے نائب صدر اور جامعہ مرکز الثقافۃ السنیہ کے صدر اعلیٰ ہونے کے علاوہ متعدد دینی و تعلیمی تنظیموں کے سربراہ اور محل قاضی کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے تھے۔ پیر کی شام 5 بج کر 20 منٹ پر کالی کٹ کے ایک نجی اسپتال میں آپ نے آخری سانس لی۔ آپ کی عمر 88 برس تھی۔آپ کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی علماء، مشائخ، مذہبی و سماجی شخصیات اور ہزاروں عقیدت مندوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملتِ اسلامیہ اور بالخصوص کیرالا کے دینی و علمی حلقوں کے لیے ایک عظیم روحانی و علمی خسارہ قرار دیا۔مرحوم کی نمازِ جنازہ منگل کو دوپہر ایک بجے کوئلانڈی میں ادا کی جائے گی۔ آپ کے انتقال کے پیشِ نظر سنی ایجوکیشن بورڈ آف انڈیا کے تحت چلنے والے ریاست کے تمام مدارس میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بورڈ کے دفتر سے باضابطہ اطلاع بھی جاری کردی گئی ہے۔

علمی و دینی خدمات سے معمور زندگی

حضرت سید علی بافقیہ تنگل 1938ء میں کیرالا کے ممتاز سادات خاندان، خاندانِ بافقیہ میں سید احمد بافقیہ اور شریفہ نفیسہ بیوی کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کوئلانڈی میں اپنے گھر کے قریب واقع مپیلا اسکول سے حاصل کی۔ 1950ء میں تلی پرمب کے قوت الاسلام عربک کالج میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں کالی کٹ، کوئلانڈی اور پرپننگاڈی کی جامع مساجد میں مختلف علماء سے علمی استفادہ جاری رکھا۔ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے 1965ء میں جامعہ نوریہ، پٹی کاد میں داخلہ لیا، جہاں پانچ سال تک تعلیم حاصل کی۔جامعہ نوریہ میں دورانِ تعلیم آپ طلبہ کی تنظیم ’نور العلماء‘ کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اسی دور میں آپ کی قیادت میں ماہنامہ ’المنیر‘ کی اشاعت کا آغاز بھی ہوا۔ جامعہ نوریہ میں آپ کے ہم درسوں میں پناکّاد عمر علی شہاب تنگل شامل تھے، جبکہ حافظ محمد مصلیار، کٹی محمد مصلیار، کوٹوملا ابوبکر مصلیار اور ای کے ابوبکر مصلیار جیسے ممتاز علماء آپ کے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں۔

چھ دہائیوں پر محیط دینی قیادت

حضرت سید علی بافقیہ تنگل نے تقریباً چھ دہائیوں تک کوئلانڈی کی ولیاکم جامع مسجد میں خطیب کی حیثیت سے دینی خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ آپ کوئلانڈی کے مختلف دینی و تعلیمی اداروں کے صدر کی حیثیت سے بھی سرگرم رہے۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران سمستھا کیرالہ جمعیۃ العلماء اور اس کی ذیلی تنظیموں کی قیادت اور تنظیمی سرگرمیوں میں آپ کا کردار نہایت اہم رہا۔آپ سنی ایجوکیشن بورڈ آف انڈیا اور سنی جمعیۃ المعلمین کے ریاستی صدر بھی تھے۔ ایک ممتاز عالمِ دین، روحانی رہنما، خطیب اور منتظم کی حیثیت سے آپ نے کیرالا میں دینی تعلیم کے فروغ، مدارس کے استحکام اور علمی و روحانی رہنمائی کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی طویل دینی قیادت اور علمی سرپرستی نے ریاست کے مذہبی و تعلیمی حلقوں میں آپ کو ایک نمایاں مقام عطا کیا۔مرحوم کی اہلیہ شریفہ ام کلثوم کا انتقال پہلے ہی ہوچکا تھا۔ پسماندگان میں آٹھ صاحبزادے سید ابراہیم بافقیہ، سید حسین بافقیہ، سید عثمان بافقیہ، سید اسماعیل بافقیہ، سید زید عمر بافقیہ، سید زین بافقیہ، سید عبدالرحمن بافقیہ اور سید ہاشم بافقیہ، جبکہ ایک صاحبزادی سیدہ شریفہ رقیہ شامل ہیں۔حضرت سید علی بافقیہ تنگل کی رحلت سے کیرالا نے ایک ایسی علمی و روحانی شخصیت کو کھو دیا ہے جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ دین کی خدمت، دینی اداروں کی سرپرستی اور ملت کی رہنمائی میں صرف کیا۔ ان کی علمی، دینی اور تنظیمی خدمات کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

0/Post a Comment/Comments