ہندوستانی اردو منچ کے پروگرام یادوں کے جھروکے کا آغاز، سر مرزا اسماعیل اور قادر علی کو خراجِ عقیدت
محسنوں کی یاد نئی نسل تک پہنچانا وقت کی ضرورت: مقررین؛ دوسری نشست 13 نومبر کو
بنگلورو، 7 نومبر (حقیقت ٹائمز)
ہندوستانی اردو منچ کے زیرِ اہتمام ’’یادوں کے جھروکے‘‘ کے عنوان سے ایک نئی سلسلہ وار تقریب کا آغاز عمل میں آیا۔ اس سلسلے کی پہلی نشست میں ریاستِ میسور اور کرناٹک کی دو ممتاز شخصیات، سر مرزا اسماعیل اور سابق ڈی آئی جی قادر علی کی حیات و خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مقررین نے دونوں شخصیات کی انتظامی صلاحیتوں، عوامی خدمات اور ریاست کی ترقی میں ان کے نمایاں کردار پر روشنی ڈالی۔تقریب کے آغاز میں منچ کے اعزازی سیکریٹری اور سابق ڈی سی پی این ڈی ملا نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ’’یادوں کے جھروکے‘‘ کا سلسلہ ان عظیم شخصیات کی یاد تازہ کرنے اور ان کی خدمات کو نئی نسل تک پہنچانے کے مقصد سے شروع کیا گیا ہے، جنہوں نے مختلف شعبوں میں ریاستِ میسور اور کرناٹک کی ترقی و ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی نشست اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔معروف دانشور محمد اعظم شاہد نے سر مرزا اسماعیل کی شخصیت اور خدمات پر تفصیلی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل منتظم تھے، جن کی انتظامی قابلیت کو ہر شعبے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ انہوں نے میسور، جے پور اور حیدرآباد میں دیوان کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور شہری منصوبہ بندی، صنعت کے فروغ اور عوامی فلاح و بہبود کے میدان میں ان کے کارنامے آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ کنڑ زبان میں سر مرزا اسماعیل کی خدمات اور کارناموں پر وافر مواد موجود ہے اور ممتاز کنڑ ادیبوں نے بھی ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے معروف ادیب ڈی وی گنڈاپا (ڈی وی جی) کا خصوصی ذکر کیا، جو سر مرزا اسماعیل کے بڑے مداح تھے اور ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا تھا۔

ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر عزیز اللہ بیگ نے سابق ڈی آئی جی قادر علی کی شخصیت اور خدمات پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادر علی ایک غیر معمولی اور اپنے دور کی نمایاں شخصیت تھے۔ ان کے بارے میں مستند معلومات جمع کرنا آسان نہیں، کیونکہ ان کی زندگی اور خدمات سے متعلق مواد عام طور پر دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قادر علی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد ریاست کے مختلف اضلاع میں پولیس کے متعدد عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ بنگلورو کے پولیس کمشنر مقرر ہوئے۔ اپنے دور میں عادی مجرموں کے خلاف ان کی سخت کارروائیوں کے باعث ان کی سخت گیر انتظامی شناخت قائم ہوئی۔ انہوں نے ڈی آئی جی کی حیثیت سے بھی تقریباً پانچ سال تک خدمات انجام دیں اور یہ دور پولیس محکمے کے لیے خاص اہمیت کا حامل رہا۔ عزیز اللہ بیگ نے مزید بتایا کہ قادر علی کو مہاراجہ میسور کا قریبی اور معتمد افسر بھی تصور کیا جاتا تھا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس فیروز پاشا نے ہندوستانی اردو منچ کی اس پہل کو سراہتے ہوئے کہا کہ اپنے محسنوں اور ماضی کی اہم شخصیات کو یاد رکھنا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔ ان کی خدمات اور کارناموں کو آئندہ نسلوں تک پہنچانا معاشرے کے باشعور طبقے کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کی تقریبات کے ذریعے نئی نسل کو ریاست کی تاریخ اور اس کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیات سے واقفیت حاصل ہوگی۔صدارتی خطاب میں منچ کے صدر اعجاز علی جوہری نے کہا کہ ’’یادوں کے جھروکے‘‘ کا سلسلہ شروع کرنا ان کے لیے باعثِ سعادت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تقریبات کے انعقاد میں بڑی تعداد میں احباب تعاون کر رہے ہیں اور آئندہ بھی ان کے تعاون کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے محسنوں کو یاد کرنا باعثِ فخر ہے اور منچ کی کوشش ہوگی کہ ان شخصیات کی یاد اور ان کے پیغامات کو درست انداز میں آنے والی نسلوں تک پہنچایا جائے۔تقریب کی نظامت ریاست کے معروف شاعر شفیق عابدی نے انجام دی۔ ان کے تمہیدی کلمات اور شگفتہ و دل نشین اندازِ نظامت نے محفل کو خوشگوار ادبی رنگ عطا کیا۔پروگرام کے کوآرڈینیٹر اور ہندوستانی اردو منچ کے ذمہ دار جمیل احمد ملنسار نے اختتامی کلمات میں آئندہ نشست کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس سلسلے کی دوسری تقریب جمعہ، 13 نومبر کو منعقد ہوگی، جس میں حاجی سر اسماعیل سیٹھ، حاجی آدم سیٹھ اور سر قاضی سید عبدالقدوس کی زندگی اور خدمات کو یاد کیا جائے گا۔تقریب میں شہر کے مختلف علاقوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اردو زبان و ادب کے شائقین اور معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
Post a Comment