SIR Row Tests Voting Rights and Poll Body's Credibility جمہوری اداروں کی شفافیت پر بڑھتے سوالات

بنگال کا انتخابی تنازع، ایس آئی آر پر قومی بحث

قریشی کے سوالات اور ووٹر کے حق کا امتحان

از : جاوید جمال الدین

ہندوستانی جمہوریت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی نظر آتی ہے جہاں انتخابی عمل، ووٹر کے حقِ رائے دہی، شہری آزادیوں اور آئینی اداروں کی غیر جانب داری سے متعلق کئی بنیادی سوالات بیک وقت سامنے آرہے ہیں۔ مغربی بنگال کے حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والا تنازع محض ایک ریاست میں سیاسی جماعتوں کی کامیابی یا ناکامی کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ اس نے ملک کے انتخابی نظام اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کردار پر ایک وسیع قومی بحث چھیڑ دی ہے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے، ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی نے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد نہ ہونے کا الزام لگایا ہے، جبکہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ووٹر لسٹوں سے ناموں کے اخراج اور فلاحی اسکیموں کے فوائد کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنے کے معاملے کو شہری حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ دوسری طرف ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے مستقبل کے حوالے سے سخت طنزیہ بیان دے کر سیاسی ماحول کو مزید گرم کردیا ہے۔ان تمام بیانات کا مشترکہ پہلو یہ ہے کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) اب محض ووٹروں کے اندراج اور ناموں کی تصحیح کا انتظامی عمل نہیں رہی، بلکہ اس کے طریقۂ کار، دائرۂ کار اور نتائج پر ملک گیر سطح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ سیاسی الزامات سے آگے بڑھ کر اس پورے معاملے کو آئینی، قانونی اور جمہوری تناظر میں سمجھا جائے۔

ایس وائی قریشی کا دوٹوک موقف: کیا بنگال کا انتخاب قانونی طور پر درست تھا؟

سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے 6 نومبر 2026 کو کولکاتا میں منعقدہ ہاشم عبدالحلیم میموریل لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر سنگین اعتراضات اٹھائے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا مغربی بنگال کے انتخابات قانونی طور پر درست تھے تو انہوں نے کہا کہ ان کی رائے میں ایسا نہیں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پہلے بھی کئی مرتبہ اس موقف کا اظہار کرچکے ہیں اور اب بھی اسی پر قائم ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے ہے اور حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔قریشی نے پورے انتخاب کو لازماً کالعدم قرار دینے کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ ان کا کہنا تھا کہ کم از کم ان حلقوں کی جانچ ہونی چاہیے جہاں ووٹر لسٹوں سے بڑے پیمانے پر نام حذف کیے جانے کا شبہ ہے۔ انہوں نے خصوصاً ان حلقوں کا ذکر کیا جہاں ان کے بقول مسلم ووٹروں کی بڑی تعداد کے نام خارج کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایسے حلقوں میں دوبارہ جانچ کی جائے اور اگر انتخابی عمل میں سنگین بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو دوبارہ پولنگ کے امکان پر بھی غور کیا جائے۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ سابق چیف الیکشن کمشنر کا بیان ایک اہم آئینی تجربے کے حامل شخص کی رائے ہے، لیکن یہ کسی عدالت کا فیصلہ نہیں۔ انتخابات کو کالعدم قرار دینے یا دوبارہ پولنگ کا حکم دینے کا اختیار متعلقہ قانونی اور عدالتی طریقۂ کار کے تحت ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے قریشی کے اعتراضات کو سنجیدہ قانونی سوالات کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ انہیں حتمی عدالتی فیصلے کا درجہ دینا چاہیے۔قریشی نے ایس آئی آر کے عمل کا موازنہ آسام میں قومی رجسٹر برائے شہریت (این آر سی) سے کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کو شہریت کی بالواسطہ جانچ کا ذریعہ بنایا جارہا ہے۔ ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ انتخابی فہرست میں نام برقرار رکھنے کے لیے 2002 کی ووٹر لسٹ سے ربط ثابت کرنے کی شرط کئی شہریوں کے لیے مشکل پیدا کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق کسی شخص نے اگر ماضی میں متعدد انتخابات میں ووٹ دیا ہو تو محض کسی پرانی فہرست سے تعلق ثابت نہ کرپانے کی وجہ سے اس کے حق رائے دہی پر سوال نہیں اٹھنا چاہیے۔انہوں نے فارم 6 کے استعمال پر بھی اعتراض کیا۔ یہ فارم بنیادی طور پر نئے ووٹر کے اندراج کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ پہلے سے ووٹر رہ چکے افراد کے نام غلطی سے حذف ہونے کی صورت میں انہیں اسی راستے سے دوبارہ اندراج کرانے پر مجبور کرنا قانونی اور عملی مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ قریشی کے مطابق ایسے افراد سے یہ اعلان لینا کہ وہ پہلی مرتبہ ووٹر بن رہے ہیں، جبکہ وہ ماضی میں کئی انتخابات میں ووٹ ڈال چکے ہیں، مناسب نہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ غلطی سے حذف کیے گئے ناموں کی بحالی کے لیے الگ، تیز رفتار اور مؤثر نظام ہونا چاہیے۔یہ اعتراض اس لیے اہم ہے کہ انتخابی فہرستوں کی اصلاح کا مقصد اہل ووٹروں کو شامل کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ دستاویزی پیچیدگیوں کے باعث انہیں انتخابی عمل سے باہر کردینا۔ کسی شہری کی شناخت یا شہریت سے متعلق سوالات کا فیصلہ بھی متعلقہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے، انتخابی فہرست کی نظرثانی کو شہریت کی عمومی جانچ کا متبادل نہیں بنایا جاسکتا۔

الیکشن کمیشن: ایک فرد نہیں، اجتماعی آئینی ادارہ

قریشی نے الیکشن کمیشن کے اندر فیصلے کرنے کے طریقۂ کار پر بھی توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر بذات خود پورا الیکشن کمیشن نہیں ہوتا۔ کمیشن ایک اجتماعی ادارہ ہے اور اس کے فیصلے اجتماعی مشاورت سے ہونے چاہئیں۔ پہلے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔یہ بیان اس پس منظر میں اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے بعض فیصلوں اور اقدامات پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کرائے۔ ان اعتراضات کا تعلق ایس آئی آر کے دوران انتظامی فیصلوں، فارم 6 میں تبدیلیوں، انتخابی فہرستوں کے سافٹ ویئر، اپیلوں اور کمیشن کے اندر اختیارات کی تقسیم جیسے معاملات سے بتایا گیا۔قریشی نے اسی تناظر میں کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو اپنے طور پر پورے کمیشن کی نمائندگی کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر دو الیکشن کمشنرز ایک ہی آئینی ادارے کے ارکان ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اینڈ دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ 2023 کی دفعہ 18 کے مطابق کمیشن کے معاملات میں حتی الامکان اتفاق رائے کی کوشش کی جانی چاہیے اور اختلاف کی صورت میں اکثریت کی رائے فیصلہ کن ہوتی ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے اس معاملے پر یہ موقف سامنے آیا کہ اہم فیصلے تینوں ارکان کی منظوری سے متفقہ طور پر کیے گئے ہیں اور مختلف آرا یا تحریری مشوروں کو ادارہ جاتی اختلاف کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس وضاحت کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ تاہم اگر کمیشن کے ارکان کے درمیان اختلافات اور تحریری اعتراضات موجود ہیں تو ان کی نوعیت اور ان پر کی گئی کارروائی کے بارے میں شفاف معلومات فراہم کرنا ادارے کے مفاد میں ہوگا۔ انتخابی ادارے کی ساکھ صرف اس کے آئینی اختیار سے نہیں بلکہ اس کے طرز عمل، فیصلوں اور شفافیت سے قائم ہوتی ہے۔

ابھیشیک بنرجی کی عدلیہ اور انتخابی عمل پر تنقید

مغربی بنگال کے انتخابی تنازع کو مزید شدت اس وقت ملی جب ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے اپنی جماعت کی شکست کے لیے بی جے پی کے بجائے سپریم کورٹ کے کردار پر سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی ہدایات پر اعتماد کیا تھا، لیکن انتخابی عمل میں ان ہدایات پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔ابھیشیک بنرجی نے خصوصاً ووٹوں کی گنتی سے قبل رینڈمائزیشن کے طریقۂ کار کا حوالہ دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سپریم کورٹ نے 2 مئی کو گنتی سے قبل ضروری کارروائی اور افسران کی شمولیت سے متعلق ہدایات دی تھیں، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہونی تھی۔ ان کے مطابق اس عمل میں ریاستی اور مرکزی حکومت کے افسران کی شمولیت ضروری تھی، لیکن ریاستی حکومت کے افسران کو مطلوبہ نمائندگی نہیں دی گئی۔انہوں نے گنتی کے عمل، نتائج کے اعلان اور ای وی ایم مشینوں کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا الزام تھا کہ انتخابی نتائج کے بعد ایک ماہ کے اندر ای وی ایم مشینوں کو تلف کردیا گیا، جبکہ اس معاملے میں شفافیت کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ گنتی مراکز کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی جائے تاکہ عوام خود دیکھ سکیں کہ وہاں کیا ہوا تھا۔ابھیشیک بنرجی نے حکومت اور الیکشن کمیشن کو چیلنج کیا کہ اگر ان کے الزامات غلط ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں ذاتی طور پر اپنا موقف پیش کرنے کے لیے تیار ہیں اور چاہتے ہیں کہ عدالتی کارروائی براہ راست نشر ہو تاکہ عوام بھی پورا معاملہ دیکھ سکیں۔ان کے بیانات میں عدلیہ کے بارے میں سخت تنقید بھی شامل تھی، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں عدلیہ پر اعتماد ہے اور وہ اس کا احترام کرتے ہیں۔ یہاں یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کا الزام اور عدلیہ کے ادارے کی مجموعی حیثیت پر سوال اٹھانا دو الگ معاملات ہیں۔ اگر کسی حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کے لیے توہین عدالت، نظرثانی یا دیگر قانونی راستے موجود ہیں۔ ان الزامات کی حقیقت کا تعین بھی عدالت اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ سے ہی ہوسکتا ہے۔ابھیشیک بنرجی نے مغربی بنگال میں پولیس اور سرکاری مشینری کے مبینہ سیاسی استعمال کا الزام لگاتے ہوئے ریاست کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں اور انتظامی مشینری کے استعمال سے جمہوری اداروں کی آزادی متاثر ہورہی ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی حکومت کو پولیس یا انتظامیہ کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری طرف سیاسی الزامات کو بھی شواہد اور قانونی کارروائی کے ذریعے ثابت کرنا لازم ہے۔

راہل گاندھی کا انتباہ: ووٹ کے بعد شہری حقوق بھی خطرے میں؟

مغربی بنگال کے انتخابی تنازع کے ساتھ ہی ایک دوسرا معاملہ قومی سیاست کے مرکز میں آگیا ہے، جس نے ایس آئی آر اور ووٹر شناختی کارڈ کی اہمیت کو ایک نئے زاویے سے موضوع بحث بنادیا ہے۔ مرکزی وزیر برائے پنچایتی راج راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے گزشتہ ہفتے ایک قومی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی وزارت کی بعض اسکیموں کے تحت مستفیدین کی شناخت اور ادائیگی کے عمل میں آدھار کے بجائے ووٹر شناختی کارڈ کے ای پی آئی سی نمبر اور بایومیٹرک تصدیق کو استعمال کیا جائے گا۔اس بیان کے بعد کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے تشویش ظاہر کی کہ اگر سرکاری فلاحی اسکیموں کے فوائد کو ووٹر لسٹ میں نام موجود ہونے سے مشروط کردیا گیا تو ایس آئی آر کے دوران جن افراد کے نام حذف ہوں گے، انہیں صرف ووٹ دینے کے حق سے محرومی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ ان کی دوسری سرکاری مراعات بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اس معاملے کو ایک گہری سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض ووٹ کی چوری نہیں بلکہ شہریوں کے حقوق کی چوری کا منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق ایس آئی آر کے نام پر کروڑوں افراد کے نام ووٹر لسٹوں سے حذف کیے جارہے ہیں اور اگر اس عمل کو نہیں روکا گیا تو مستقبل میں مزید شہری اس کی زد میں آسکتے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ووٹر شناختی کارڈ کو سرکاری اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے کی لازمی شرط بنا دیا گیا تو جن غریبوں، مزدوروں، بزرگوں اور کمزور طبقات کے نام انتخابی فہرست سے خارج ہوجائیں گے، ان کے لیے راشن، پنشن، رہائش، منریگا اور دیگر سہولتوں کا حصول بھی مشکل ہوسکتا ہے۔راہل گاندھی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ووٹ دینا شہری کا حق ہے، کوئی شرط نہیں، اور کسی غریب کی پنشن کو اس کے ووٹر کارڈ کا پابند نہیں بنایا جاسکتا۔ ان کا بنیادی خدشہ یہ ہے کہ اگر انتخابی فہرستوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو اس کے اثرات محض انتخابات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی اور اس کے بنیادی حقوق تک پہنچ سکتے ہیں۔تاہم اس معاملے میں مرکزی وزیر کی وضاحت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ 6 نومبر کو للن سنگھ نے کہا کہ پردھان منتری وکست گرام سوراج یوجنا کے تحت پنچایتی نمائندوں اور متعلقہ افراد کی تربیت کے لیے ان کی شناخت ای پی آئی سی نمبر اور آدھار پر مبنی بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے کی جائے گی۔ ان کے مطابق مقصد حقیقی مستحقین تک فوائد پہنچانا اور درمیانی افراد کی مداخلت روکنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ راہل گاندھی نے ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا ہے۔اس لیے فی الحال یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ملک کی تمام مرکزی فلاحی اسکیموں میں آدھار ختم کرکے ووٹر شناختی کارڈ لازمی کردیا گیا ہے۔ البتہ وزیر کے بیان اور اپوزیشن کے خدشات نے ایک اہم آئینی سوال ضرور پیدا کردیا ہے کہ کیا انتخابی فہرست میں نام کی موجودگی کو کسی شہری کی دوسری سرکاری مراعات کے حصول کی شرط بنایا جاسکتا ہے؟اصولی طور پر کسی شخص کا ووٹر ہونا اور کسی فلاحی اسکیم کے تحت مستحق ہونا دو الگ معاملات ہیں۔ ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس شخص کی شہریت، پنشن یا کسی دوسری قانونی سہولت کا حق خودبخود ختم ہوگیا۔ حکومت کو یہ واضح ضمانت دینی چاہیے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے سبب کوئی مستحق شہری بنیادی سہولتوں سے محروم نہیں ہوگا۔

بایومیٹرک تصدیق: سہولت یا محرومی کا نیا خطرہ؟

اس معاملے میں سی پی ایم نے بھی بایومیٹرک تصدیق کے نظام کی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ پارٹی کے پولٹ بیورو کے مطابق دیہی علاقوں میں بڑی تعداد میں ایسے مزدور ہیں جن کے ہاتھوں کی انگلیوں کے نشانات مسلسل جسمانی محنت اور زرعی کام کے باعث مدھم ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح عمر رسیدہ خواتین اور دیگر افراد کو آنکھوں کی پتلیوں کی شناخت کے دوران مشکلات پیش آتی ہیں۔ماضی میں بھی بایومیٹرک تصدیق میں ناکامی کے باعث مستحق افراد کے راشن اور دیگر سرکاری فوائد سے محروم ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ اگر کسی شہری کی شناخت مشین کے ذریعے نہ ہوسکے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مستحق نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی انتظامی سہولت فراہم کرنے کا ذریعہ ہونی چاہیے، شہریوں کے حقوق محدود کرنے کا وسیلہ نہیں۔شیو سینا کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کا مطلب صرف ووٹ دینے کے حق سے محرومی نہیں بلکہ شہری کی سرکاری مراعات تک رسائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پہلے ہی غربت اور بے روزگاری سے دوچار افراد کو مزید مشکلات میں ڈالنے کا کیا جواز ہے؟یہاں ایک بنیادی اصول پیش نظر رہنا چاہیے کہ فلاحی ریاست کی ذمہ داری شہریوں کی زندگی آسان بنانا ہے۔ اگر شناختی نظام میں کوئی خرابی ہے تو اسے درست کیا جانا چاہیے، نہ کہ اس خرابی کا بوجھ مستحق افراد پر ڈال دیا جائے۔ شناخت کے متبادل طریقے، انسانی مداخلت کے ذریعے تصدیق اور اپیل کا آسان نظام لازمی ہونا چاہیے تاکہ کسی مستحق کو محض انگلیوں کے نشانات یا تکنیکی ناکامی کی بنیاد پر محروم نہ کیا جاسکے۔

مہوا موئترا کا طنز: گیانیش کمار امریکہ چلے جائیں؟

ایس آئی آر کے تنازع نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھی اپوزیشن کی مسلسل تنقید کا ہدف بنا رکھا ہے۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتیں ان پر جانبداری کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں اور ان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔ اسی ماحول میں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے ایک سخت طنزیہ بیان دے کر سیاسی بحث کو مزید تیز کردیا۔خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے مہوا موئترا نے دعویٰ کیا کہ آنے والے وقت میں مرکزی حکومت تبدیل ہوگی اور گیانیش کمار کو اپنے موجودہ اقدامات کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں مشورہ دیا کہ چیف الیکشن کمشنر کو امریکہ چلے جانا چاہیے، کیونکہ ان کے خیال میں مستقبل میں انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔مہوا موئترا نے برازیل کے سیاسی رہنما فلاویو بولسونارو اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ان کے بقول بولسونارو کو امریکہ میں تحفظ مل سکتا ہے، اسی طرح گیانیش کمار بھی وہاں پناہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید طنز کیا کہ گیانیش کمار وہاں جاکر ٹرمپ کو بھی ووٹ چوری کے طریقے سکھا سکتے ہیں۔مہوا موئترا نے کہا کہ 2029 یا اس سے پہلے مرکزی حکومت تبدیل ہوسکتی ہے اور انڈیا بلاک کے اقتدار میں آنے پر موجودہ قانونی ضابطوں پر نظرثانی اور الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو سیاسی طنز اور انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی مستقبل کی حکومت یا عدالت کے فیصلے کی پیش گوئی کے طور پر۔ان کے بیان کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ 2023 کی دفعہ 16 میں سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران کیے گئے اقدامات کے سلسلے میں سول اور فوجداری کارروائی سے متعلق قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اپوزیشن اس تحفظ اور اس کی حدود پر سوال اٹھا رہی ہے۔ تاہم کسی بھی آئینی عہدے دار کے خلاف کارروائی کا معاملہ قانون، شواہد اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہی طے ہوسکتا ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستانی انتخابی نظام اور الیکشن کمیشن کی تعریف کے بعد بھی اپوزیشن حلقوں میں سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے انتخابی عمل پر کسی غیر ملکی رہنما کی تعریف سے زیادہ اہم ہندوستانی شہریوں اور سیاسی جماعتوں کا اعتماد ہے۔ انتخابی ادارے کی غیر جانب داری کا تعین کسی بیرونی سربراہ کے بیان سے نہیں بلکہ اس کے اپنے فیصلوں، شفافیت اور آئینی طرز عمل سے ہونا چاہیے۔مہوا موئترا کا بیان اپنی زبان اور سیاسی شدت کے اعتبار سے قابل بحث ہوسکتا ہے، لیکن اس سے پیدا ہونے والا بنیادی سوال اپنی جگہ اہم ہے: کیا الیکشن کمیشن کے عہدے داروں کو اپنے فیصلوں کے لیے جواب دہ بنانے کا کوئی مؤثر اور شفاف نظام موجود ہے؟ آئینی اداروں کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے عہدے دار احتساب سے بالاتر ہوجائیں۔ اسی طرح احتساب کے نام پر کسی عہدے دار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا بھی جمہوری اصولوں کے منافی ہوگا۔

ایس آئی آر کا ملک گیر دائرہ اور ووٹروں کے ناموں کی بحالی

ایس آئی آر کے معاملے کو سمجھنے کے لیے یہ فرق واضح رہنا چاہیے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی بذات خود کوئی غیر ضروری یا غیر قانونی عمل نہیں ہے۔ انتخابی فہرستوں میں نئے ووٹروں کے نام شامل کرنا، فوت شدہ افراد کے نام حذف کرنا، مستقل طور پر منتقل ہونے والوں کے اندراج کی اصلاح کرنا اور ایک ہی شخص کے متعدد اندراجات ختم کرنا ایک جائز انتظامی ضرورت ہے۔ انتخابی فہرستوں کی صحت مندی ہی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی بنیاد ہے۔الیکشن کمیشن نے 14 مئی 2026 کو ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے 16 ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اس میں شامل کیا تھا۔ ان میں مہاراشٹر، کرناٹک، تلنگانہ، آندھرا پردیش، ہریانہ، جھارکھنڈ، اڈیشہ، پنجاب، اتراکھنڈ، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، سکم، تریپورہ اور اروناچل پردیش شامل ہیں۔ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دہلی، چندی گڑھ اور دادرا و نگر حویلی و دمن و دیو کو شامل کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق اس مرحلے میں 36.73 کروڑ ووٹروں تک پہنچنے کے لیے 3.94 لاکھ سے زائد بوتھ لیول افسروں کی خدمات حاصل کی جانی تھیں، جبکہ سیاسی جماعتوں کے مقرر کردہ 3.42 لاکھ بوتھ لیول ایجنٹ بھی اس عمل میں معاونت کے لیے موجود رہیں گے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد ملک بھر کی انتخابی فہرستوں کو درست، تازہ اور قابل اعتماد بنانا ہے۔ ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور لداخ کے لیے الگ شیڈول کا اعلان بعد میں کیے جانے کی بات کہی گئی تھی۔اس اعلان کے ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ انتخابی فہرستوں سے خارج ہونے والے ناموں کی بحالی کے لیے الگ کارروائی اور درخواستوں کا نظام ضروری ہے۔ ایس آئی آر اور سالانہ اسپیشل سمری ریویژن (ایس ایس آر) ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ ایس آئی آر خصوصی اور تفصیلی نظرثانی ہے، جبکہ ایس ایس آر انتخابی فہرستوں کی معمول کی سالانہ اصلاح کا عمل ہے۔ دونوں کے ذریعے نئے اہل ووٹروں کے اندراج اور ریکارڈ کی درستگی ممکن ہوتی ہے، لیکن غلطی سے حذف ہونے والے پرانے ووٹروں کی بحالی کے لیے واضح اور آسان طریقۂ کار فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔یہ خوش آئند ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے بعد بھی نئے ناموں کے اندراج اور غلطیوں کی اصلاح کے دروازے بند نہیں کیے جانے چاہئیں۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ جن افراد کے نام غلطی سے حذف ہوئے ہیں، انہیں دوبارہ شامل کرنے کے لیے آسان، قابل رسائی اور بروقت طریقۂ کار فراہم کیا جائے۔ محض درخواست دینے کا حق کافی نہیں، بلکہ درخواستوں پر مقررہ وقت میں فیصلہ بھی ہونا چاہیے۔

جمہوریت کا اصل امتحان: ووٹر کا اعتماد

مغربی بنگال کے انتخابات کے بعد اٹھنے والے سوالات، ایس وائی قریشی کی قانونی تشویش، ابھیشیک بنرجی کے عدالتی اعتراضات، راہل گاندھی کی شہری حقوق سے متعلق وارننگ اور مہوا موئترا کے سیاسی طنز کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ تمام واقعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کی متعدد ریاستوں میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا عمل جاری ہے یا اس کی تیاری کی جارہی ہے۔یہاں اصل ضرورت کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں فیصلہ صادر کرنے کی نہیں بلکہ انتخابی اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کی ہے۔ اگر کوئی جماعت انتخابی کامیابی کو عوامی فیصلے کا نام دیتی ہے تو اسے بھی یہ ثابت کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ انتخابی عمل شفاف اور منصفانہ تھا۔ اسی طرح اپوزیشن جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی شکست کے ہر پہلو کو انتخابی بے ضابطگی سے تعبیر کرنے کے بجائے ٹھوس شواہد کے ساتھ قانونی راستہ اختیار کریں۔الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ ایس آئی آر کے ہر مرحلے کی تفصیلات، ناموں کے اخراج کی وجوہات، اعتراضات، اپیلوں اور دوبارہ اندراج کے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے۔ سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹوں کو مناسب تعاون فراہم کیا جائے اور ہر اہل شہری کے لیے یہ ممکن بنایا جائے کہ وہ اپنے نام کی موجودگی کی تصدیق کرسکے۔ جن افراد کے نام حذف ہوئے ہیں، انہیں فیصلے کی وجہ بتائی جائے اور اپیل کا ایسا نظام بنایا جائے جو غریب، مزدور، بزرگ اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کی دسترس میں ہو۔سپریم کورٹ کے سامنے زیر سماعت معاملات میں بھی واضح اور بروقت فیصلے ضروری ہیں تاکہ انتخابی فہرستوں، ووٹروں کے اخراج، گنتی کے طریقۂ کار اور الیکشن کمیشن کے اختیارات سے متعلق ابہام ختم ہوسکے۔ اگر کسی حلقے میں بڑے پیمانے پر اہل ووٹروں کے نام غیر قانونی طور پر حذف کیے جانے کا ثبوت ملتا ہے تو اس کی اصلاح اور متاثرہ شہریوں کو انصاف فراہم کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر الزامات بے بنیاد ثابت ہوں تو ان کی بھی قانونی وضاحت سامنے آنی چاہیے۔اس پورے تنازع میں ایک بنیادی حقیقت فراموش نہیں ہونی چاہیے کہ جمہوریت صرف اکثریت کی حکمرانی کا نام نہیں بلکہ اقلیتوں اور کمزور طبقات کے حقوق کا تحفظ بھی اس کی بنیادی شرط ہے۔ کسی شہری کو اس کے مذہب، زبان، ذات، علاقے، معاشی حیثیت یا سیاسی رجحان کی بنیاد پر انتخابی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ انتخابی فہرستوں کی اصلاح کے نام پر اگر کوئی اہل ووٹر باہر رہ جاتا ہے تو یہ محض انتظامی غلطی نہیں بلکہ جمہوری نمائندگی کے اصول کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ہندوستان کی جمہوری طاقت اس کے تنوع، آئین، آزاد اداروں اور عوام کے ووٹ میں مضمر ہے۔ الیکشن کمیشن اس نظام کا نگہبان ہے، کسی حکومت یا سیاسی جماعت کا ماتحت ادارہ نہیں۔ عدلیہ کی ذمہ داری آئینی حقوق کی حفاظت اور انتظامیہ کو قانون کے دائرے میں رکھنا ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فلاحی سہولتیں شہریوں کا حق ہیں، کسی سیاسی وفاداری یا انتخابی شناخت کا انعام نہیں۔آج ہندوستانی جمہوریت کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ مغربی بنگال میں کون جیتا اور کون ہارا، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہر اہل شہری کو ووٹ دینے کا مساوی موقع ملا؟ کیا اس کے نام کو انتخابی فہرست میں محفوظ رکھنے کی ذمہ داری پوری کی گئی؟ کیا الیکشن کمیشن کے فیصلے قانون اور اجتماعی مشاورت کے مطابق ہوئے؟ اور کیا کسی شہری کو ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے کی وجہ سے اس کی دوسری بنیادی سہولتوں سے محروم کیا جاسکتا ہے؟ان سوالات کے جواب سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ شفاف تحقیقات، مستند اعداد و شمار اور غیر جانب دار عدالتی فیصلوں سے ملنے چاہئیں۔ کیونکہ جمہوریت میں حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن آئینی اداروں کی ساکھ اور عوام کا اعتماد ایک بار مجروح ہوجائے تو اسے بحال کرنا آسان نہیں ہوتا۔ووٹ کسی حکومت کی عطا نہیں بلکہ شہری کا آئینی حق ہے۔ اس حق کا تحفظ، انتخابی اداروں کی غیر جانب داری اور ہر شہری کے بنیادی حقوق کی ضمانت ہی ہندوستانی جمہوریت کی اصل کامیابی اور اس کے مستقبل کی بنیاد ہے۔

0/Post a Comment/Comments