عالمی یومِ اردو صرف اقبال تک محدود نہ ہو، مقامی ادیبوں کو بھی جگہ ملے: رحیمؔ بیدری
اردو اسکولوں کے تحفظ اور نئی لفظیات کے فروغ کی اپیل
بیدر، 7 نومبر (حقیقت ٹائمز)
اردو، ہندی اور دکنی زبانوں کے معروف شاعر، ادیب، افسانچہ نگار، خاکہ نویس اور نقاد محمد یوسف رحیمؔ بیدری نے 9 نومبر کو علامہ اقبال کے یومِ پیدائش کے موقع پر دنیا بھر میں منائے جانے والے عالمی یومِ اردو کے حوالے سے اردو کے فروغ، تحفظ اور ترقی کے لیے متعدد اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ انہوں نے اردو کے محبان، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، اساتذہ اور تعلیمی و سماجی اداروں سے اپیل کی ہے کہ عالمی یومِ اردو کو محض رسمی تقریبات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے اردو زبان کی ترقی اور ترویج کے لیے ایک بامقصد تحریک کی شکل دی جائے۔اپنے تازہ صحافتی بیان میں محمد یوسف رحیمؔ بیدری نے کہا کہ عالمی یومِ اردو کی تقریبات بھارت سے امریکہ تک اور دہلی سے لے کر گلی محلوں تک منعقد ہونی چاہئیں، تاکہ اردو زبان کی وسعت، تہذیبی اہمیت اور ادبی عظمت کو ہر سطح پر اجاگر کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اردو کی تشکیل اور ارتقا میں متعدد زبانوں کا بنیادی کردار رہا ہے۔ دکنی، پنجابی، مراٹھی، گجراتی، بنگالی، کنڑی، تلگو، فارسی، عربی، فرانسیسی، ترکی، جرمن، کشمیری، سنسکرت اور ہندی سمیت کئی زبانوں کے الفاظ نے اردو کے دامن کو وسعت عطا کی ہے۔ اس لیے اردو والوں کو ان زبانوں سے اپنے روابط منقطع کرنے کے بجائے انہیں مزید مستحکم کرنا چاہیے۔انہوں نے اردو شاعروں اور ادیبوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تخلیقات میں نئی لفظیات کو جگہ دیں۔ نئے الفاظ کو قبول کرنے اور برتنے سے زبان کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ اسی طرح قدیم اور متروک الفاظ کو نئے مفاہیم اور مختلف اسالیب کے ساتھ دوبارہ رائج کرنے کی کوشش بھی ہونی چاہیے۔

محمد یوسف رحیمؔ بیدری کے مطابق اردو کو عالمی زبانوں کے شانہ بشانہ کھڑا کرنے کے لیے صرف شاعری، افسانہ، ناول اور معاشرتی موضوعات تک محدود رہنا کافی نہیں، بلکہ سائنس، ریاضی اور دیگر جدید علوم کے تحقیقی و علمی مضامین بھی اردو میں شائع ہونے چاہئیں۔ آج نوجوان روزگار اور اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمن اور چینی زبانیں سیکھ رہے ہیں، لہٰذا ان زبانوں کی جدید لفظیات کو بھی اردو میں متعارف کرانے اور مستند لغات کی تدوین کے دوران ان الفاظ کو شامل کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔انہوں نے اردو صحافیوں، اخبارات اور رسائل سے اپیل کی کہ وہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے تحقیقی، سماجی اور مذہبی مضامین کو اپنے صفحات میں مناسب جگہ دیں۔ اسی طرح مختلف مذاہب اور طبقات کے تہواروں، روایات اور ثقافتی سرگرمیوں کے بارے میں مستند اور درست معلومات شائع کی جائیں، تاکہ غیر اردو داں طبقہ بھی اردو صحافت کی جانب راغب ہو اور اردو زبان کے ذریعے سماجی ہم آہنگی کو فروغ ملے۔انہوں نے مقامی شعراء کی حوصلہ افزائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشاعروں، بیت بازی، تعلیمی اور دینی پروگراموں میں مقامی شعراء کے کلام کو بھی شامل کیا جائے، تاکہ ان کی ادبی صلاحیتوں کو مناسب مقام مل سکے۔ مقامی شعراء اور افسانہ نگاروں کی کتابیں خرید کر عوامی اور تعلیمی لائبریریوں میں رکھی جائیں، تاکہ نئی نسل کو اپنے علاقے کے ادبی سرمایہ سے واقفیت حاصل ہو۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی یومِ اردو کے موقع پر صرف علامہ اقبال کی خدمات کو یاد کرنا کافی نہیں، بلکہ مقامی سطح پر اردو زبان و ادب کی خدمت انجام دینے والے مرحوم شعراء اور ادیبوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جانا چاہیے۔ بالخصوص ان مرد و خواتین اساتذہ کو یاد رکھا جائے جنہوں نے اپنی زندگی اردو زبان کی تدریس، فروغ اور نئی نسل میں اس کے ذوق کو پروان چڑھانے کے لیے وقف کردی۔
محمد یوسف رحیمؔ بیدری نے دکنی زبان کے شعراء اور ادیبوں سے بھی اپیل کی کہ جو کسی وجہ سے ادبی سرگرمیوں سے دور ہوگئے ہیں، وہ دوبارہ سرگرم ہوکر دکنی زبان کی ترقی و ترویج میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسی طرح مقامی ہندی شعراء بھی اپنی ادبی سرگرمیوں کو جاری رکھیں اور اردو کی تقریبات میں ہندی و دکنی شاعر کی حیثیت سے شرکت کرکے مشترکہ ادبی و تہذیبی روایت کو مضبوط بنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی یومِ اردو کی تقریبات میں تنوع، وسعت اور مقصدیت ہونی چاہیے۔ یہ دن محض رسمی تقاریر اور روایتی مشاعروں تک محدود نہ رہے، بلکہ اردو کے تحفظ، تعلیمی فروغ اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے عملی اقدامات کا ذریعہ بنے۔ مقامی سیاسی قائدین اور علمائے کرام کو بھی ان تقریبات میں مدعو کیا جائے، تاکہ اردو زبان کے نفاذ، اردو اسکولوں کے تحفظ اور ان کے استحکام کے لیے اجتماعی سطح پر مؤثر کوششیں کی جاسکیں۔انہوں نے تمام محبانِ اردو سے اپیل کی کہ وہ اخلاص، سنجیدگی اور عملی عزم کے ساتھ عالمی یومِ اردو منائیں اور اردو زبان کی ترقی کو صرف ایک دن کی سرگرمی بنانے کے بجائے اپنی مستقل ذمہ داری سمجھیں۔
Post a Comment