کے آر پورم ٹن فیکٹری جنکشن کو پیدل راہگیروں کے لیے سازگار بنانے ماسٹر پلان کی ہدایت، وزیر کرشنا بائرے گوڈا
میٹرو اور کے رائڈ منصوبوں سے متاثرہ سڑکوں کی فوری بحالی کا حکم، تمام محکمے تال میل سے کام کریں
بنگلورو، 7 نومبر (حقیقت ٹائمز)
ریاستی وزیر برائے ترقیِ بنگلورو کرشنا بائرے گوڈا نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی ہے کہ کے آر پورم کے ٹن فیکٹری جنکشن کو عوام دوست اور پیدل راہگیروں کے لیے محفوظ و سازگار بنانے کے مقصد سے ایک جامع ماسٹر پلان تیار کیا جائے اور اس کے مطابق ترقیاتی کام انجام دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جنکشن کے اطراف میٹرو اور کے ریل (کے رائڈ) کے تعمیراتی کاموں سے متاثر ہونے والی سڑکوں کی فوری مرمت اور بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکمے باہمی تال میل کے ساتھ کام کریں۔وزیر کرشنا بائرے گوڈا نے جمعہ کے روز بنگلورو ایسٹ سٹی کارپوریشن کے تحت کے آر پورم ٹن فیکٹری جنکشن کے قریب وارڈ ون مہم کے دوسرے مرحلے کا افتتاح کرنے کے بعد موقع پر موجود افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹن فیکٹری جنکشن شہر کا ایک اہم اور مصروف ترین ٹرانسپورٹ مرکز ہے، جہاں ٹریفک، سڑکوں، فٹ پاتھوں، عوامی ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولتوں سے متعلق کئی مسائل درپیش ہیں۔ ان تمام مسائل کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس جنکشن پر پہلے ہی دو میٹرو لائنیں کام کررہی ہیں، جبکہ بلیو لائن میٹرو کا کام بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ کے آر پورم سے آئی ٹی پی ایل، وائٹ فیلڈ اور مارتہلی جانے والی گاڑیوں کے ساتھ بیرونی علاقوں سے شہر میں داخل ہونے والی ٹریفک بھی اسی مقام پر جمع ہوتی ہے۔ روزانہ لاکھوں افراد اس جنکشن سے گزرتے ہیں، اس لیے گاڑیوں کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے ساتھ پیدل چلنے والوں اور عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے مسافروں کے لیے بھی مناسب سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔

وارڈ ون مہم: تمام محکمے مشترکہ طور پر کام کریں
وزیر نے بتایا کہ شہر کے مختلف وارڈوں میں بنیادی سہولتوں سے متعلق چھوٹے بڑے مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کے مقصد سے یکم نومبر سے وارڈ ون مہم شروع کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں 43 وارڈوں میں شروع کیے گئے کاموں میں تقریباً 90 فیصد پیش رفت ہوچکی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں بنگلورو کے تقریباً 40 وارڈوں میں مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وارڈ ون مہم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کسی ایک وارڈ میں سڑکوں، فٹ پاتھوں، اسٹریٹ لائٹس، ڈرینیج، بیسکام، محکمہ جنگلات اور باغبانی سے متعلق مسائل کو الگ الگ حل کرنے کے بجائے تمام محکمے ایک مشترکہ ٹیم کی حیثیت سے کام کریں اور مسائل کا جامع حل تلاش کریں۔انہوں نے کہا کہ ہر وارڈ میں تین سے چار دن تک خصوصی مہم چلاکر مسائل کو حل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، تاہم پہلے مرحلے کے تجربات کی بنیاد پر افسران نے ہر وارڈ میں کم از کم ایک ہفتے کا وقت درکار ہونے کی نشاندہی کی ہے۔وزیر نے کہا کہ نومبر کے اندر تمام کام مکمل کرنے کا ہدف ضرور ہے، لیکن عجلت میں ناقص یا ادھورے کام کرنے کے بجائے معیاری اور پائیدار کاموں کو ترجیح دی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر دسمبر میں بھی مہم جاری رکھی جائے گی۔
پہلے مرحلے میں 90 فیصد کام مکمل
انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں منتخب کردہ 43 وارڈوں میں سڑکوں کے گڑھوں کی مرمت، حادثات کے امکانات والے مقامات کی اصلاح، کچرے اور تعمیراتی ملبے کی صفائی، فٹ پاتھوں کی مرمت، جنکشنوں کی بہتری اور نالوں کی صفائی جیسے کام انجام دیے گئے ہیں۔ ان کاموں میں تقریباً 90 فیصد پیش رفت ہوچکی ہے۔ دوسرے مرحلے میں مزید تقریباً 40 وارڈوں میں مہم شروع کی گئی ہے اور مختلف شہری کارپوریشنوں کی حدود میں مسائل کی نوعیت اور پیش رفت کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔
ٹن فیکٹری جنکشن کی ہمہ جہت ترقی کے لیے منصوبہ بندی
وزیر نے کہا کہ کے آر پورم کے رکن اسمبلی اور مقامی عوام کی جانب سے ٹن فیکٹری جنکشن کی ترقی کا مطالبہ مسلسل کیا جارہا تھا۔ اسی تناظر میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ موقع کا معائنہ کیا گیا تاکہ مسائل کی نشاندہی کرکے ایک جامع ترقیاتی منصوبہ تیار کیا جاسکے۔انہوں نے ہدایت دی کہ جنکشن پر بس بے، بس اسٹاپ اور طویل مسافتی بسوں کے لیے مناسب ٹھہراؤ کا انتظام کیا جائے۔ میٹرو سے بس، بس سے میٹرو اور دیگر ذرائع آمد و رفت اختیار کرنے والے مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مربوط ٹرانسپورٹ نظام تیار کیا جائے۔ آٹو رکشا، ٹیکسی اور دیگر سواریوں کے ذریعے آنے والے افراد بھی آسانی سے عوامی ٹرانسپورٹ تک پہنچ سکیں، اس کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں۔
فٹ پاتھوں کی بہتری اور سڑکوں کی ازسرنو ترتیب
کرشنا بائرے گوڈا نے کہا کہ ٹن فیکٹری جنکشن پر پیدل چلنے والوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔ میٹرو اسٹیشن سے بس اسٹاپ اور دیگر ٹرانسپورٹ سہولتوں تک پہنچنے کے لیے محفوظ اور بلا رکاوٹ فٹ پاتھ تعمیر کیے جائیں۔انہوں نے سڑکوں کے موڑ بہتر بنانے، ضرورت کے مطابق سڑکوں کو چوڑا کرنے اور جنکشن کی سائنسی بنیادوں پر ازسرنو ترتیب دینے کی ہدایت دی۔ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے فری لیفٹ ٹرن سمیت ضروری سڑک اصلاحات بھی انجام دی جائیں، تاکہ گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں دونوں کو سہولت حاصل ہو۔
میٹرو اور کے رائڈ تعمیراتی کاموں سے متاثرہ سڑکوں کی فوری مرمت
وزیر نے بتایا کہ میٹرو اور کے رائڈ کے تعمیراتی کاموں کے باعث جنکشن کے اطراف کی رابطہ سڑکیں متاثر ہوئی ہیں۔ بعض سڑکیں نشیبی علاقوں میں واقع ہونے کی وجہ سے شدید بارش کے دوران پانی جمع ہونے کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو باہمی تال میل کے ساتھ ان مسائل کو حل کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے واضح کیا کہ میٹرو تعمیراتی کاموں کے باعث خراب ہونے والی سڑکوں کی مناسب انداز میں بحالی کی جائے اور سول تعمیراتی کام مکمل ہوتے ہی سڑکوں کی مرمت کرکے انہیں عوامی آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائے۔ سڑکوں کی توسیع، سطح کو ہموار کرنے، حفاظتی باڑ لگانے اور جنکشن کی ترتیب بہتر بنانے جیسے کاموں میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔وزیر نے میٹرو حکام کو تاکید کی کہ وہ ٹھیکیداروں کے مفادات کے بجائے عوامی سہولتوں کو ترجیح دیں اور تعمیراتی کاموں کی حقیقی صورت حال سے واقف کرانے کے ساتھ زیر التوا کاموں کو بھی جلد مکمل کریں۔وزیر نے ٹن فیکٹری جنکشن کی جامع ترقی کے لیے گریٹر بنگلورو اتھارٹی، میٹرو، جن آگرہ اور اگری انڈینز ادارے کے اشتراک سے ماسٹر پلان تیار کرنے کی ہدایت دی۔ اس منصوبے میں سڑکوں، فٹ پاتھوں، عوامی ٹرانسپورٹ، ٹریفک انتظامات اور علاقے کی خوبصورتی کو بھی شامل کیا جائے گا۔ ترقیاتی کاموں کے لیے ضروری فنڈز سٹی کارپوریشن کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس جنکشن سے روزانہ لاکھوں افراد کی آمد و رفت کے پیش نظر اسے ایک مثالی عوام دوست اور پیدل راہگیروں کے لیے محفوظ جنکشن بنانے کی ضرورت ہے۔
کچرے کی صفائی اور سڑکوں کے گڑھوں کی مرمت ایک ہفتے میں مکمل کرنے کی ہدایت
وزیر نے ٹن فیکٹری جنکشن کے اطراف جمع کچرے، درختوں کی ٹہنیوں اور تعمیراتی ملبے کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ سڑکوں پر موجود گڑھوں کی نشاندہی کرکے ایک ہفتے کے اندر ان کی مرمت مکمل کی جائے۔ مقامی عوام اور منتخب نمائندوں کی جانب سے پیش کردہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر وہ دوبارہ موقع کا معائنہ بھی کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ وارڈ ون مہم کا مقصد محض اعداد و شمار پیش کرنا نہیں بلکہ شہری مسائل کی نشاندہی کرکے ان کا عملی اور مستقل حل فراہم کرنا ہے۔ بعض بنیادی مسائل کے حل میں وقت لگ سکتا ہے، تاہم فوری طور پر حل کیے جانے والے مسائل کو بلا تاخیر نمٹایا جانا چاہیے۔اس موقع پر کے آر پورم کے رکن اسمبلی بیرتھی بسواراج، چیف کمشنر مہیشور راؤ، ایسٹ سٹی کارپوریشن کے کمشنر ڈی ایس رمیش، ایڈیشنل کمشنر لوکھنڈے اسنیہل سدھاکر، چیف انجینئرس لوکیش اور وشواناتھ سمیت مختلف محکموں کے افسران موجود تھے۔
Post a Comment