بنگلورو میں کچرا جمع کرنے کے نئے ٹھیکوں پر عمل درآمد، 33 پیکیج تیار: کرشنا بائرے گوڈا
چار حلقوں میں نومبر کے آخر تک آغاز، گاڑیوں پر جی پی ایس لازمی، ادائیگی ڈیٹا کی بنیاد پر
بنگلورو، 7 نومبر (حقیقت ٹائمز)
بنگلورو میں ٹھوس کچرے کی بنیادی سطح پر جمع آوری اور انتظام کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور جواب دہ بنانے کے لیے گریٹر بنگلورو اتھارٹی نے نئے ٹھیکوں پر عمل درآمد کی تیاریاں تیز کردی ہیں۔ گریٹر بنگلورو ڈیولپمنٹ کے وزیر کرشنا بائرے گوڈا نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ گووندراج نگر، مہالکشمی لے آؤٹ، وجئے نگر اور چامراج پیٹ اسمبلی حلقوں میں نومبر کے اختتام تک نئے ٹھیکوں کے تحت کچرا جمع کرنے کا کام شروع کردیا جائے، جبکہ چک پیٹ اسمبلی حلقے میں دسمبر کے دوران اس نظام کا آغاز کیا جائے۔وِکاس سودھا میں جمعہ کو منعقدہ جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں ٹھوس کچرے کی بنیادی سطح پر جمع آوری کے لیے مجموعی طور پر 33 نئے پیکیج تیار کیے گئے ہیں، جن میں پہلے مرحلے کے تحت پانچ پیکیجوں کے لیے ورک آرڈر جاری کیے جاچکے ہیں۔ چار اسمبلی حلقوں میں نئے ٹھیکوں کے نفاذ کے لیے ضروری تیاریاں آخری مرحلے میں ہیں اور متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام انتظامات مکمل کرکے مقررہ مدت میں کام شروع کیا جائے۔
جی پی ایس کی بنیاد پر ٹھیکہ داروں کو ادائیگی
کرشنا بائرے گوڈا نے واضح کیا کہ نئے ٹھیکوں کے آغاز کے بعد کچرا جمع کرنے والی تمام گاڑیوں پر جی پی ایس نصب کرنا لازمی ہوگا اور ٹھیکہ داروں کو ادائیگی صرف جی پی ایس سے حاصل ہونے والے مصدقہ ڈیٹا کی بنیاد پر کی جائے گی۔ جن گاڑیوں میں جی پی ایس نظام موجود نہیں ہوگا، ان کے لیے متعلقہ دن کا بل منظور نہیں کیا جائے گا، بلکہ خلاف ورزی کرنے والے ٹھیکہ داروں پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔انہوں نے ہدایت دی کہ ادائیگی کے لیے خودکار بلنگ کا نظام نافذ کیا جائے، تاکہ گاڑیوں کی حقیقی کارکردگی اور ان کی نقل و حرکت کے ریکارڈ کی بنیاد پر بل تیار ہوں۔ متعلقہ سٹی کارپوریشنوں کے عہدیدار اس نظام کی مسلسل نگرانی کریں اور اس کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائیں۔وزیر نے مزید کہا کہ نئے ٹھیکوں سے متعلق سافٹ ویئر تیار ہوچکا ہے۔ عہدیداروں اور ٹھیکہ داروں کو اس کے طریقۂ کار سے واقف کرانے کے لیے عملی مظاہرہ کیا جائے اور تمام متعلقہ افراد کو ضروری تربیت فراہم کی جائے۔ سٹی کارپوریشنوں کے کمشنروں کو بھی اس نظام کی نگرانی اور تمام فریقوں کے درمیان بہتر تال میل برقرار رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

تمام گاڑیوں پر یکساں برانڈنگ اور عملے کے لیے نئی وردیاں
وزیر نے بتایا کہ چار پیکیجوں کے تحت کام شروع کرنے والے ٹھیکہ دار کچرا جمع کرنے والی گاڑیاں خرید چکے ہیں۔ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ گاڑیوں میں ضروری فابریکیشن کا کام جلد مکمل کرکے نومبر ہی سے انہیں خدمات کے لیے استعمال میں لائیں۔ ہر گاڑی پر جی پی ایس کی تنصیب لازمی ہوگی اور واہن پورٹل (VAHAN) کے ساتھ انوائسنگ نظام کے ذریعے گاڑیوں کی عملی کارکردگی کی جانچ کی جائے گی۔انہوں نے تمام گاڑیوں پر یکساں اسٹیکرس اور برانڈنگ کرنے کے علاوہ صفائی عملے کو نئی وردیاں فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی۔ وزیر نے کہا کہ کام شروع ہونے سے پہلے تمام گاڑیوں اور عملے کو مکمل طور پر تیار رکھا جائے، تاکہ نئے نظام کے آغاز کے وقت کسی قسم کی بدنظمی یا الجھن پیدا نہ ہو اور روزمرہ کچرا جمع کرنے کا عمل متاثر نہ ہونے پائے۔
کچرے کے بلیک اسپاٹس کے خاتمے پر زور
شہر میں کچرا پھینکنے کے نتیجے میں بننے والے بلیک اسپاٹس کے مسئلے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کرشنا بائرے گوڈا نے کہا کہ ایسے مقامات کے خاتمے کے لیے اختراعی اقدامات کیے جائیں۔ سڑکوں کے کنارے کچرا پھینک کر عوامی مقامات کو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف جمع شدہ کچرے کی صفائی کافی نہیں، بلکہ ان مقامات پر دوبارہ کچرا جمع ہونے کی روک تھام بھی ضروری ہے۔
عوامی بیداری مہم کو مؤثر بنانے کی ہدایت
وزیر نے نئے ٹھیکوں کے نفاذ کے دوران شہریوں تک مناسب معلومات پہنچانے کے لیے عوامی رابطہ اور بیداری مہم کو مؤثر انداز میں چلانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ معلومات، تعلیم اور ابلاغ (آئی ای سی) سے متعلق سرگرمیوں کو منظم طریقے سے نافذ کیا جائے، تاکہ عوام نئے کچرا جمع کرنے کے نظام اور اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہوسکیں۔انہوں نے عہدیداروں اور ٹھیکہ داروں کو ہدایت دی کہ کام شروع کرنے سے قبل تمام ضروری تیاریاں مکمل کرلی جائیں اور پہلے ہی دن سے متوقع معیار کے مطابق خدمات فراہم کی جائیں۔
33 پیکیجوں کے تحت نئے ٹھیکوں کا عمل
گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے تحت ٹھوس کچرے کی بنیادی سطح پر جمع آوری کے لیے 33 پیکیج تیار کیے گئے ہیں۔ ان میں سے پانچ پیکیجوں کے لیے ورک آرڈر جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ 13 پیکیجوں کے لیے لیٹر آف ایکسیپٹنس (ایل او اے) جاری کیے گئے ہیں۔ مزید 10 پیکیجوں کے ٹینڈر کا عمل مکمل کرکے منظوری کے لیے ریاستی حکومت کو بھیج دیا گیا ہے۔باقی پانچ پیکیجوں میں سے ایک کا جائزہ لیا جارہا ہے، دو معاملات کرناٹک ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں، ایک پیکیج اپیل کے مرحلے میں ہے، جبکہ پانچویں پیکیج کے لیے عدالتی حکم کے بعد ٹینڈر طلب کیا جائے گا۔اجلاس میں عہدیداروں نے وزیر کو بتایا کہ متعلقہ سٹی کارپوریشنوں میں مقررہ چیک لسٹ کی بنیاد پر گھر گھر سروے مکمل کرکے رپورٹ تیار کی گئی ہے اور نئے کچرا انتظام کے ٹھیکوں پر عمل درآمد اسی سروے کی تفصیلات کو بنیاد بناکر کیا جارہا ہے۔اجلاس میں چیف کمشنر مہیشور راؤ، ایسٹ سٹی کارپوریشن کے کمشنر ڈی ایس رمیش، پومّلا سنیل کمار، شلپا ناگ، رمیش کے این، بنگلورو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کاری گوڈا، ایڈیشنل کمشنر لوکھنڈے اسنیہل سدھاکر، چیف انجینئرس لوکیش اور وینکٹا چلاپتی سمیت دیگر عہدیدار موجود تھے۔
Post a Comment