الکل میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان لفظی جنگ تیز
ڈی جی پاٹل کی حمایت میں بی جے پی کی وزیر کاشپنور پر تنقید
الکل، 8 نومبر (سلیمان چوپدار)
الکل اسمبلی حلقے میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ریاستی وزیر اور ضلع انچارج وزیر وجے آنند کاشپنور، کانگریس رہنماؤں اور سابق رکن اسمبلی ڈی جی پاٹل کے درمیان جاری بیان بازی کے بعد اب بی جے پی کے مقامی رہنما بھی کھل کر میدان میں آگئے ہیں۔ سابق رکن اسمبلی ڈی جی پاٹل کی حمایت میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بی جے پی رہنماؤں نے وزیر وجے آنند کاشپنور اور کانگریس قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔اس موقع پر بی جے پی صدر مہانت گوڈا پاٹل نے وزیر وجے آنند کاشپنور کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق رکن اسمبلی ڈی جی پاٹل کے خلاف غیر ذمہ دارانہ اور نامناسب زبان کا استعمال اور بی جے پی رہنماؤں کو مردہ قرار دینا انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض وزیر بن جانے سے کسی کو دوسروں کی توہین کرنے کا حق حاصل نہیں ہوجاتا۔ اگر وزیر اور ان کے ساتھی خود کو طاقتور سمجھتے ہیں تو آنے والے انتخابات میں انہیں سیاسی طور پر جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ کانگریس رہنما ایسے عناصر کی حمایت کر رہے ہیں جو حلقے میں ریت کی غیر قانونی کانکنی، راشن چاول کی چوری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ان کے مطابق وزیر وجے آنند کاشپنور حلقے کی ترقی اور عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں، لیکن اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔بی جے پی رہنماؤں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود عوامی نمائندوں اور سیاسی کارکنوں کے درمیان گفتگو میں شائستگی اور احترام برقرار رہنا چاہیے۔ کسی بھی رہنما کو مخالفین کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ الکل اسمبلی حلقے میں گزشتہ کئی دنوں سے ریاستی وزیر وجے آنند کاشپنور، سابق رکن اسمبلی ڈی جی پاٹل اور دونوں جماعتوں کے مقامی رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے۔ ایک طرف کانگریس رہنما سابق رکن اسمبلی کو نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری جانب بی جے پی رہنما وزیر اور ان کی قیادت پر جوابی حملے کر رہے ہیں۔ سیاسی الزام تراشیوں اور جوابی بیانات کے اس سلسلے نے حلقے کی سیاست میں گرما گرمی پیدا کردی ہے۔پریس کانفرنس میں بی جے پی کے متعدد مقامی رہنما اور کارکنان موجود تھے۔
Post a Comment